ٹرمپ خاندان کی جائیدادوں میں کالے امریکیوں کو اپارٹمنٹ کرائے پر نہیں دیئے جاتے تھے

ٹرمپ خاندان کی جائیدادوں میں کالے امریکیوں کو اپارٹمنٹ کرائے پر نہیں دیئے ...
 ٹرمپ خاندان کی جائیدادوں میں کالے امریکیوں کو اپارٹمنٹ کرائے پر نہیں دیئے جاتے تھے

  

نیویارک (خصوصی رپورٹ) امریکہ میں ری پبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ افریقن امریکیوں کے بارے میں عصبیت رکھتے ہیں اور ان کی بلڈنگوں کے اپارٹمنٹس میں کالوں کو رہنے کی اجازت نہیں دی جاتی تھی جو چند کالے وہاں رہائش رکھنے میں کامیاب ہوگئے وہ عدالتوں یا انسانی حقوق کے اداروں کی مداخلت سے ایسا کر پائے۔ امریکی اخبار ’’نیویارک ٹائمز‘‘ نے ایسے لوگوں کے انٹرویوز پر مبنی ایک مضمون شائع کیا ہے جس میں ایسے شواہد پیش کئے گئے ہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے والد فریڈ ٹرمپ بھی ان سے پہلے اسی پالیسی پر گامزن تھے۔ اخبار نے لکھا ہے کہ ایک 33 سالہ نرس میکسن براؤن ہارلم میں وائی ڈبلیو سی اے کے ہاسٹل میں رہتی تھی جہاں اسے ایک ہفتے میں کرائے اور روزانہ کے دو کھانوں کی مد میں 5 ڈالر ادا کرنے پڑتے تھے۔ اس کا کمرہ کافی کشادہ اور آرام دہ تھا تاہم بہتر رہائش کیلئے وہ کوئنز کے نواح میں جمیکا اسٹیٹس میں ولشائر اپارٹمنٹس میں ایک اپارٹمنٹ کرائے پر لینے کیلئے گئی۔ اس نے اپنا فارم پر کیا تو رینٹل ایجنٹ نے اسے ایک خوبصورت درخواست قرار دیا۔ درخواست دہندہ افریقی امریکن تھی۔ اپارٹمنٹ ابھی تعمیر کے آخری مراحل میں تھے، رینٹل ایجنٹ نے اس معاملے میں فریڈ سی ٹرمپ سے بات کی تو انہوں نے کہا کہ ’’درخواست لے کر دراز میں رکھ لو اور پھر اسے وہیں پڑی رہے دو‘‘ رینٹل ایجنٹ کو یہ بات اس لئے بھی یاد رہی کہ 63ء میں صدر لندن بی جانسن نے سول رائٹس ایکٹ پر دستخط کئے تھے۔ اسی برس فریڈ ٹرمپ کا بلڈنگ کا کاروبار نئی بلندیوں کو چھو رہا تھا۔ کونی آئی لینڈ میں 40 ایکڑ رقبے پر محیط اس کے سات 23 منزلہ ٹاور تعمیر ہوچکے تھے جسے ’’ٹرمپ ویلج‘‘ کا نام دیا گیا تھا۔ فریڈ اپنے بیٹے ڈونلڈ کو جس کی عمر اس وقت سترہ برس تھی اس کاروبار میں لا رہا تھا، یہی ڈونلڈ ٹرمپ اب صدارتی امیدوار ہیں۔ وہ اپنی یونیورسٹی کی مصروفیات سے فارغ ہوکر تعمیراتی مقامات کا معائنہ کرتے تھے۔ ان کی کیڈلک کار ایک کالا ڈرائیور چلاتا تھا۔ 1973ء میں امریکی محکمہ انصاف نے کالوں کے خلاف متعصبانہ رویہ اختیار کرنے پر ٹرمپ مینجمنٹ پر مقدمہ کردیا۔ اس وقت اس کے چیئرمین فریڈ ٹرمپ اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ تھے۔ دونوں کا نام مدعا علیہان میں رکھا گیا۔ محکمۂ انصاف کی اس قانونی کارروائی پر ٹرمپ بہت سیخ پا ہوئے اور انہوں نے جوابی کارروائی کے طور پر محکمے کے خلاف 100 ملین ڈالر کا ہتک عزت کا مقدمہ کردیا۔ نیویارک ٹائمز نے اس معاملے کی جو تحقیق کی ہے اس کے مطابق ٹرمپ خاندان کی جائیدادوں میں کالوں کے ساتھ ہمیشہ ہی تعصب روا رکھا گیا۔ مس براؤن نے 64ء میں ولشائر اپارٹمنٹس میں کرائے کا اپارٹمنٹ حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کرلی تاہم اس کے بعد دس سال تک ان میں کوئی دوسرا کالا کرائے دار نہیں تھا۔ ٹرمپ ویلج میں جہاں 3700 اپارٹمنٹ تھے 67ء تک صرف سات کالے رہ رہے تھے۔ جن کالوں کو رہائش کی اجازت ملی انہوں نے بذریعہ عدالت یا بذریعہ انسانی حقوق کمیشن یہ کامیابی حاصل کی۔ ایک خاتون ریگنس بن کا کہنا ہے کہ 1970ء میں اسے اس کے ایک دوست نے بتایا کہ کوئنز کے اپارٹمنٹس میں اپارٹمنٹ کرائے کیلئے خالی ہیں لیکن جب وہ وہاں پہنچی تو اسے بتایا گیا کہ کوئی اپارٹمنٹ خالی نہیں ہے۔

مزید :

صفحہ اول -