آصف حسنین کے بعد قومی اسمبلی کے مزید کائی ارکان ا یم کیو ایم کو خدا حافظ کہہ دیں گے

آصف حسنین کے بعد قومی اسمبلی کے مزید کائی ارکان ا یم کیو ایم کو خدا حافظ کہہ ...

  

تجزیہ: قدرت اللہ چودھری

لگتا ہے اب پاک سرزمین پارٹی اور ایم کیو ایم کے درمیان براہ راست مقابلہ ہونے جا رہا ہے۔ قومی اسمبلی کے رکن آصف حسنین غالباً پہلے ایم این اے ہیں جو ایم کیو ایم کو چھوڑ کر پاک سرزمین پارٹی میں شامل ہوئے ہیں۔ اس سے پہلے زیادہ تر سندھ اسمبلی کے ارکان نے ایم کیو ایم کو خدا حافظ کہا۔ جن میں سے بعض کی نشستوں پر ضمنی انتخاب بھی ہوچکے ہیں جن پر کامیابی تو ایم کیو ایم کو ہی ملی ہے کیونکہ پاک سرزمین پارٹی تو الیکشن نہیں لڑ رہی لیکن اب بدلی ہوئی فضا میں دیکھنا ہوگا کہ حالات کیا رخ اختیار کرتے ہیں۔ ڈاکٹر فاروق ستار اگرچہ اب اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ ان کا الطاف حسین اور ان کی سرگرمیوں سے کوئی تعلق نہیں تاہم لوگ اب بھی ان کے بارے میں شکوک و شبہات کا شکار ہیں۔ وہ اپنی میڈیا کی گفتگوؤں میں الطاف حسین کو پہلے قائد تحریک اور پھر بانی تحریک کے نام سے یاد کرتے تھے لیکن اب انہوں نے الطاف صاحب کہنا شروع کردیا ہے تاہم ان کے مخالفین اب بھی شکوک و شبہات کی فضا سے نکلنے کیلئے تیار نہیں۔ مصطفی کمال کا کہنا ہے کہ الطاف اور فاروق ستار اب بھی ایک ہیں اور قوم کو بیوقوف بنا رہے ہیں۔ انہوں نے بعض سوالات بھی اٹھائے ہیں جن کا جواب آج نہیں تو کل ڈاکٹر فاروق ستار کو دینا پڑے گا۔ مصطفی کمال کا کہنا ہے کہ وہ قوم کو بتائیں کہ کیا انہیں ایم کیو ایم کیلئے ’’را‘‘ کی فنڈنگ کا پتہ نہیں تھا۔ آصف حسنین کے بعد اطلاعات یہ ہیں کہ قومی اسمبلی کے مزید ارکان اب ایم کیو ایم سے علیحدہ ہونے والے ہیں۔ مصطفی کمال اور فاروق ستار کی براہ راست مکالمہ بازی میں یہ افسوسناک پہلو سامنے آیا ہے کہ مصطفی کمال کو خدشہ ہے کہ کہیں ڈاکٹر فاروق ستار کو بھی اسی طرح راستے سے نہ ہٹا دیا جائے جس طرح ماضی میں کئی ابھرتے ہوئے رہنماؤں کو ہٹا دیا گیا حالانکہ وہ لوگ جو بھی کچھ کر رہے تھے قائد کی اشیرباد سے کر رہے تھے لیکن جب حالات نے پلٹا کھایا تو انہیں راستے سے ہٹا دیا گیا۔ عمران خان کی اس بات میں وزن ہے کہ کراچی میں سب سے زیادہ اردو بولنے والے ایم کیو ایم کے ٹارگٹ کلرز کے ہاتھوں موت کے منہ میں چلے گئے۔

کراچی اور اندرون سندھ کے بعض شہروں میں ایم کیو ایم کے وہ دفاتر ختم کئے جا رہے ہیں جو زمینوں پر قبضے کرکے بنائے گئے تھے۔ اس پر ڈاکٹر فاروق ستار کا کہنا تھا کہ ان دفاتر کو مسمار کرنے میں جلدی کیا تھی، ہمیں حکم کرتے ہم انہیں خود ختم کرتے لیکن یہ بات اس لئے اتنی سادہ نہیں کہ یہ دفاتر کوئی آج سے قائم نہیں ہوئے بلکہ سالہا سال سے چلے آ رہے تھے لیکن نہ تو کسی کو انہیں گرانے کا خیال آیا اور نہ ہی متحدہ نے خود اسے گرانے کی ضرورت محسوس کی تو اب کیونکر ایسا ہوسکتا تھا۔ دراصل 1999ء میں جنرل پرویز مشرف کے اقتدار میں آتے ہی متحدہ کیلئے ایک سنہری دور کا آغازہوگیا تھا، وفاقی اور سندھ حکومت میں انہیں پورا پورا حصہ دیا گیا۔ وزارتیں انہوں نے اپنی مرضی سے حاصل کیں اور ایسی وزارتوں کے ذریعے اپنے جلی اور خفی مقاصد کو تقویت بخشی۔ پورٹ اینڈ شپنگ کی وزارت اس عرصے میں بابر غوری کے پاس رہی، جو اب ’’پاکستان زندہ باد‘‘ کا نعرہ لگانے پر بھی شرمندہ ہوتے ہیں اور وضاحتیں کر رہے ہیں کہ انہوں نے تو ایسا نعرہ نہیں لگایا۔ سندھ کی وزارت داخلہ بھی اس تمام عرصے میں ایم کیو ایم کے پاس رہی۔ جو لوگ جرائم میں ماخوذ تھے اول تو ان کی گرفتاری کی نوبت ہی نہیں آتی تھی اور اگر ایسا ہو جاتا تھا پھر جلد ہی ان کی ضمانتوں پر رہائی ہو جاتی۔ اگر چند روز جیل میں گزارنے پڑتے تو اس میں بھی انہیں ہر سہولت حاصل ہوتی اور جیل کے اندر بیٹھے ہوئے جرائم پیشہ لوگ نہ صرف باہر کی دنیا سے رابطہ رکھتے بلکہ ان کے احکامات پر قتل تک ہو جاتے تھے۔ جنرل پرویز مشرف کے پورے دور میں ایم کیو ایم کو جتنی آزادی حاصل رہی اس سے پہلے کبھی نہ رہی تھی۔ بعد میں پیپلز پارٹی کے عہد میں بھی ان کا سکہ چلتا رہا، وہ جب جی چاہتے پیپلز پارٹی سے روٹھ جاتے اور عبدالرحمان ملک بھاگم بھاگ لندن پہنچتے اور معافی تلافی کے بعد متحدہ دوبارہ حکومت میں شامل ہو جاتی۔ اس وقت جرائم کی جتنی وارداتیں ایم کیو ایم کے ارکان کے حوالے سے سامنے آ رہی ہیں وہ انہی ادوار سے تعلق رکھتی ہیں۔ گورنر سندھ کو بھی دباؤ میں رکھا جاتا تھا اور ایک دو بار وہ مستعفی ہوکر بیرون ملک بھی گئے لیکن آہستہ آہستہ وہ ایم کیو ایم کی گرفت سے نکل گئے اور اس وقت انہیں ’’ہمدردوں‘‘ کی فہرست سے نکال دیا گیا ہے۔

ڈاکٹر فاروق ستار خود ایم کیو ایم چلائیں یا حسب معمول الطاف حسین کے زیر سایہ رہیں، ایک بات طے ہے کہ اب ناجائز دفاتر کی بحالی نہیں ہوگی اور نہ ہی سرکاری دفاتر میں سیاسی جماعت کے دفاتر قائم ہوسکیں گے۔ ابھی تو ان ارکان کی فہرستیں بھی سامنے آنے والی ہیں جو تنخواہیں تو سرکاری خزانے سے لیتے ہیں لیکن کام ایم کیو ایم کے دفتر میں کرتے ہیں، ان میں سے بعض تو اچھے پرکشش عہدوں پر ہیں، یہ افسر اپنی آمدنی کا حصہ براہ راست لندن بھی بھیجتے تھے۔ سندھ کی صوبائی حکومت کی یہ ذمے داری ہے کہ وہ معلوم کرے کہ وہ کون سے لوگ ہیں جو کبھی دفتروں میں تو نہیں گئے لیکن تنخواہیں باقاعدگی سے وصول کر رہے ہیں۔ یہ سارے لوگ کسی نہ کسی طرح ایم کیو ایم کے رکن یا ہمدرد ہی نکلیں گے۔

مزید :

تجزیہ -