حریت چیئرمین میر واعظ عمر فاروق کو گرفتار کرکے سب جیل چشمہ شاہی میں نظر بند کردیا گیا

حریت چیئرمین میر واعظ عمر فاروق کو گرفتار کرکے سب جیل چشمہ شاہی میں نظر بند ...

سری نگر ( اے این این ) ریاستی انتظامیہ نے حریت چیئرمین میر واعظ عمر فاروق کو گرفتار کرکے سب جیل چشمہ شاہی میں نظر بند کردیا ۔ حریت چیئرمین کو گزشتہ روز اس وقت حراست میں لیا گیا جب انہوں نے اپنی خانہ نظربندی توڑتے ہوئے سری نگر کے بادامی باغ علاقہ میں واقع فوجی کیمپ کی طرف جانے کی کوشش کی۔ جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین محمد یاسین ملک کو سینٹرل جیل سری نگر میں بدستور مقید رکھا گیا ہے۔ دریں اثنا حریت کانفرنس نے میرواعظ کو گرفتار کر کے انہیں سب جیل چشمہ شاہی میں مقید کئے جانے کو تانا شاہی سیاست کاری سے عبارت عمل قرار دیتے ہوئے کہا کہ حریت چیرمین اور دیگر حریت پسند قائدین کو جیلوں کی چہار دیواریوں میں مقید کرنے سے حق و صداقت کے علمبرداروں کے جذبہ مزاحمت کو کمزور نہیں کیا جا سکتا۔ یہاں جاری ایک بیان کے مطابق حریت چیرمین جنہیں گزشتہ روز متحدہ مزاحمتی قیادت کے پروگرام کے مطابق عیدگاہ چلو پروگرام کی قیادت کرنی تھی اور پروگرام کے مطابق ہفتہ کو بادامی باغ فوجی ہیڈکوارٹر چلو مارچ کی قیادت کرنی تھی کو گزشتہ شام ہی حراست میں لے کر پہلے پولیس نے نگین تھانے میں مقید کر دیا اور بعد میں سب جیل چشمہ شاہی منتقل کر دیا گیا۔ گرفتاری سے قبل ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کے دوران میرواعظ نے اس بات کو دو ٹوک الفاظ میں واضح کر دیا کہ موجودہ تحریک آزادی یہاں کے عوام کی شروع کی گئی تحریک ہے اور اس تحریک میں نوجوانوں کی کثیر تعداد میں شرکت اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اس قوم کی چوتھی نسل اب اس تحریک سے جڑ چکی ہے اور پورے شعور کی بیداری کے ساتھ اس تحریک کو آگے بڑھا رہی ہے۔ حریت چیرمین نے کہاکہ کشمیری عوام اپنے جائز حق حق خوداردیت کے حصول کے لئے برسر جدوجہد ہے اور اس جرم کی پاداش میں یہاں کے حکمران نوجوانوں کو قتل کر رہی ہے ۔

، ماردھاڑ ، ظلم وجبر کرفیو بندشوں اور قدغنوں کے ذریعے اس قوم کے حوصلوں کو توڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے، حقوق انسانی کی پامالیاں عروج پر ہیں اور گزشتہ 50روزسے لگاتار کرفیو کا نفاذ کر کے پوری وادی کو ایک زندان خانے میں تبدیل کر دیا گیا ہے ۔ حریت چیرمین نے کہا کہ گرفتاریاں اور قربانیاں تحریک کا حصہ ہیں اور یہ قوم گزشتہ کئی دہائیوں سے ان سرکاری عتابوں کا سامنا کر رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ ہندوستان کو نوشہ دیوار پڑھ لینا چاہیے اور سمجھ لینا چاہیے کہ طاقت اور تشدد کے بل پر کسی قوم کی جائز آواز کو زیادہ دیر تک دبایا نہیں جا سکتا ۔

مزید : عالمی منظر