ترک طیاروں کی شام میں بمباری، 20شہری ہلاک، 50زخمی

ترک طیاروں کی شام میں بمباری، 20شہری ہلاک، 50زخمی

بیروت(این این آئی) شام میں ترک جنگی طیاروں کی فضائی بمباری کے نتیجے میں 20 عام شہری ہلاک جبکہ 50 سے زائد زخمی ہوگئے۔ ادھر ترک فوج نے کہاہے کہ کرد ملیشیا نے زمینی کارروائی میں حصہ لینے والے دو ٹینکوں پر راکٹ حملہ کیا جس میں ایک فوجی ہلاک اور تین زخمی ہوئے،غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق شامی مبصر تنظیم برائے انسانی حقوق کے عہدے دار رمی عبدالرحمٰن نے بتایا کہ شام کے شہر جرابلس کے جنوب میں واقع گاؤں جیب الکوسہ میں فضائی بمباری کے نتیجے میں 20 عام شہری ہلاک ہوئے ۔ترکی نے شدت پسند تنظیم داعش اور کرد ملیشیا کے خلاف پانچ روز قبل زمینی و فضائی کارروائی کا آغاز کیا تھا اور گزشتہ روز ترکی کا ایک فوجی اہلکار بھی مارا گیا تھا۔یہ شام میں ترک کارروائی کے آغاز کے بعد ترک فوج ہو ہونے والا پہلا جانی نقصان تھا اور ترک فوج کا کہنا تھا کہ کرد ملیشیا نے زمینی کارروائی میں حصہ لینے والے دو ٹینکوں پر راکٹ حملہ کیا جس میں ایک فوجی ہلاک اور تین زخمی ہوئے۔خیال رہے کہ ترکی نے اپنی سرحد سے متصل شام کے شہر جرابلس میں’فرات کی ڈھال‘ کے عنوان سے فوجی آپریشن شروع کررکھا ہے۔ ترک حکام کا کہنا تھا کہ جرابلس میں جاری ’’فرات کی ڈھال‘‘ آپریشن کے دوران شدت پسند گروپ داعش کو بھی نشانہ بنایا جارہا ہے اور فوجی آپریشن کے لیے 50 ٹینک اور 400 ترک فوجی جرابلس بھیجے جاچکے ہیں۔ انقرہ شام میں سرگرم وائی پی جی یا کردش پیپلز پرٹیکشن یونٹس پر الزام عائد کرتا ہے کہ وہ ترکی کے جنوب مشرق میں کردوں کی حمایت کررہے ہیں۔ترکی نے مذکورہ گروپ کو ہدایت کی تھی کہ وہ دریائے فرات کے اطراف سے پیچھے ہٹ جائے تاہم یہ گروپ اس علاقے میں داعش کے خلاف جنگ میں امریکا کا ایک موثر شراکت دار ہے۔داعش 2013 سے شام اور ترکی کے سرحدی علاقے پر قابض ہے اور 2014 میں امریکی حمایت یافتہ کرد فورسز نے اس علاقے پر کنٹرول دوبارہ حاصل کرنے کیلئے مزاحمت کا آغاز کیا تھا۔رواں ماہ کردوں کی سربراہی میں شامی ڈیموکریٹک فورسز نے سرحدی شہر منبج کا کنٹرول داعش سے چھڑالیا تھا جس کے بعد داعش کے پاس محض جرابلس کا کنٹرول رہ گیا تھا۔اب ترکی کی جانب سے کارروائی کا آغاز اس بات کی کوشش ہے کہ وہ کرد فورسز سے پہلے ہی جرابلس کا کنٹرول سنبھال لے اور اس مقصد کے لیے وہ شامی باغیوں کی مدد کررہا ہے۔گزشتہ دنوں امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے بھی وائی پی جی سے کہا تھا کہ وہ دریائے فرات کے اطراف کا علاقہ خالی کردے اور اگر ایسا نہ کیا گیا تو واشنگٹن اس کی حمایت بند کردے گی۔

مزید : عالمی منظر