مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کیلئے صدر آزاد کشمیر کا 6نکاتی ایجنڈا پیش

مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کیلئے صدر آزاد کشمیر کا 6نکاتی ایجنڈا پیش

اسلام آباد (این این آئی)صدرآزاد کشمیر سردار محمد مسعودعبداللہ خان نے اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کے پر امن حل اور حق خود ارادیت کے حصول کے لیے اپنا چھ نکاتی ایجنڈا پیش کر دیا ہے ، آزاد کشمیر میں قومی اتحاد،حلیفوں کی تعداد میں اضافہ،امریکہ سمیت بڑی طاقتوں تک اپنا مقدمہ لے جانے، اقوام متحدہ ، انسانی حقوق کی کونسل اور دوسرے متعلقہ عالمی اداروں پر بار بار دستک دینے سمیت دیگر نکات ایجنڈے میں شامل ہیں۔ صدارتی سیکرٹریٹ سے گزشتہ روز جاری ہونے والے ایک بیان میں صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ آزاد کشمیر میں اتحاد پیدا کرنا ہو گا اور مقبوضہ کشمیر کی قیاد ت کے ساتھ اپنے رابطے مضبوط کرنے ہوں گے ۔ جو قومیں آپس میں لڑ رہی ہوں وہ کبھی آزادی حاصل نہیں کر سکتیں۔ہم اپنے حلیفوں کی تعداد بڑھائیں گے ۔ پاکستان ہمارا سب سے موثر وکیل رہا ہے ۔ پاکستان کے بیس کروڑ لوگ ہمارے ساتھ ہیں۔ ہم تنہا نہیں ہیں۔انہوں نے کہاکہ پاکستانیوں اور کشمیریوں کی بیرون ملک تعداد لگ بھگ 8 ملین ہے ۔ خاص طور پر شمالی امریکہ ، یورپ اور خلیجی ریاستوں میں کشمیریوں اور پاکستانیوں کا اثر و رسوخ بڑھ رہا ہے ۔ ہم ان کے ذریعے مقتدر حلقوں تک اپنی آواز پہنچائیں گے۔انہوں نے کہا کہ ہم امریکی انتظامیہ ، امریکی کانگرس ، یورپی پارلیمینٹ اور یورپی یونین جو بین الاقوامی قانون کے داعی ہیں ، تک اپنی روداد لے کر جائیں گے ۔ کیونکہ ان کی وجہ سے بھی مقدمہ کشمیر رکا ہوا ہے ۔ ان سے کہیں گے کہ کشمیر میں ہندوستان کی دیدہ دلیری کی حوصلہ افزائی نہ کریں اور حق کا ساتھ دیں۔ہم اقوام متحدہ ، حقوق انسانی کی کونسل اور دوسرے متعلقہ عالمی اداروں پر بار بار دستک دیں گے ۔ اقوام متحدہ پر فرض عائد ہوتا ہے کہ اپنی ہی قرار دادوں پر عملدرآمد کروائے ۔ ہم سیکرٹری جنرل بان کی مون کے ثالثی کی پیش کش کرنے گاہے بگاہے مسئلہ کشمیر کی صورت حال پر تشویش کا اظہار کرنے پر شکر گزار ہیں۔سیکرٹری جنرل سے اپیل ہے کہ وہ ہندوستان کا انتظار کیے بغیر کشمیر پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کریں اور ایک خصوصی نمائندے کا تعین کریں۔ ہم ہندوستان سے مطالبہ کرتے رہیں گے کہ وہ پاکستان کے ساتھ جلد از جلد مذاکرات کا سلسلہ بحال کرے اور کشمیر کے تنازع پر جامع مذاکرات کرے ۔ کشمیر پر باہمی ایجنڈے میں ایک جزو کے طور پر نہیں بلکہ کلی طور پر مذاکرات ہونے چاہئیں۔اسلامی تعاون تنظیم کے پلیٹ فارم کو ہم مزید موثر انداز میں استعمال کرنے کی کوشش کریں گے ۔ہماری ہندوستان کی سیاسی اور سول سوسائٹی سے اپیل ہے کہ وہ ہندوستان کی حکومت اور فوج کو کشمیر میں قتل و غارت سے باز رکھنے کے لیے ہماری مدد کریں۔ ہندوستان کے شہریوں نے قربانیاں دے کر آزادی حاصل کی تھی ۔ اب وہ کشمیریوں کی آزادی پامال نہ ہونے دیں اور خاموشی کے باعث کشمیر میں ظلم وستم کے حصہ دار نہ بنیں۔صدر آزاد جموں و کشمیر سردار مسعود خان نے اس ایجنڈے پر عمل پیرا ہونے کے لیے آزاد کشمیر کی تمام سیاسی جماعتوں ، الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا سول سوسائٹی اور معاشرے کے با شعور طبقات سے اپیل کی ہے کہ وہ بھرپور تعاون کریں کیونکہ باہمی اتحاد اور مشترکہ کوششوں سے ہی ان مقاصد کو حاصل کیا جا سکتا ہے ۔

چھ نکاتی ایجنڈا

مزید : صفحہ آخر