ارجنٹائن کے جج نے اسی سال قبل مرنے والے شاعر کی موت کی تحقیقات کا حکم دیدیا

ارجنٹائن کے جج نے اسی سال قبل مرنے والے شاعر کی موت کی تحقیقات کا حکم دیدیا

  

میڈریڈ(نیوزڈیسک) گذشتہ ہفتے ارجنٹائن کے ایک جج نے فیڈریکو گارسیا لورکا کی موت کے متعلق تحقیقات کا حکم دیا، اس حکم میں ایک عجیب بات یہ ہے کہ لورکاایک مشہور شاعر اور مصنف تھا لیکن وہ ارجنٹائن کا شہری نہیں تھااور اسے انتقال کئے اس مہینے80سال ہوچکے ہیں۔ایک ہسپانوی جج کی بجائے ایک ارجنٹائن کے جج کی جانب سے تحقیقات کے حکم کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ 1936اور1939کے سالوں کے درمیان جب یہ خانہ جنگی جاری تھی اور جس میں لورکا کو غرناطہ کے دروازے کے باہر قتل کیا گیا تھا ، سپین کی تاریخ کا سیاہ باب ہے۔ایک بڑی تصویر میں 1939کے بعد کی چار دہائیاں ہسپانوی تاریخ کی تاریک راتوں کا آغاز ہے جس میں ایک آمر فرانسسکو فرانکو نے بائیں بازو کی ان اپوزیشن پارٹیوں کو کچل کر رکھ دیا جنہیں 1936ء میں عوامی تائید حاصل ہوئی تھی۔

جنرل فرانکو کو دیگر یورپی ممالک جیسے اٹلی اور جرمنی سے سپورٹ ملی جبکہ مغربی جمہوریتوں نے خاموشی سے یہ تماشا دیکھا۔تاہم ان کے ہزاروں شہریوں نے سوچا کہ اس موقع پر خاموش رہنا سراسر زیادتی ہوگی لہذا انہوں نے بین الاقوامی بریگیڈ میں شمولیت اختیار کرکے مظلوم قوم کی مددکرنے کی اپنی سی کوشش کی۔براعظم امریکہ کے باسیوں کانام لنکن بریگیڈ رکھا گیااور ان کے پیروکاروں کو فاش ازم کے ’’نوزائدہ مخالفین‘‘کانام دیا گیا۔یہ ایک عجیب اور سوچنے کی بات ہے کہ کیسے کوئی فاش ازم کا مخالف نوزائدہ ہوسکتا ہے۔آج بھی 1930ء کے یورپ کی آوازیں موجودہ یورپ میں سنائی دیتی ہیں۔سپین کے قائم رہنے کے امکانات فرانس،برطانیہ اور امریکہ کی مدد سے زیادہ ہیں۔روس ایک واحد ملک ہے جس نے ری پبلکن عزائم کو تقویت دی لیکن ساتھ ہی یہ نظریہ بھی پروان چڑھا جس میں ماسکو مخالف اورحامیوں کے درمیان ایک لکیر کھینچ دی گئی۔ایک سوال جس کا جواب ابھی تک نہیں مل سکا اوروہ یہ ہے کہ سپین میں فاشزم کو شکست کی وجہ سے ہٹلر کوکوئی نقصان ہوا،یہ بات تو یقینی ہے کہ اس کی وجہ سے یورپی اقوام کا موڈ بدلا اور وہ ’نازی ازم‘کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے۔ایک اندازے کے مطابق ہسپانوی خانہ جنگی میں 50لاکھ لوگ لقمہ اجل بنے اور ہزاروں قید ہوئے۔نازیوں کی حمایت کے باوجود سپین دوسری جنگ عظیم میں نیوٹرل رہا اور1945ء کے بعد سرد جنگ کے آغاز سے ہی مغربی اقوام کی آنکھوں کاتارا اور کمیونزم کے خلاف ایک بغل بچہ بنا رہا۔

سپین میں فرانکو کے انتقال کے بعد1975ء میں جمہوریت کا آغاز ہوالیکن40سال گزر جانے کے باوجود آمر کی باقیات سے جان نہ چھڑائی جاسکی۔یہی وجہ ہے کہ سپین میں کوئی قومی میوزیم نہیں جہاں خانہ جنگی میں مارے جانے والے افراد کی کوئی یادگارموجود ہو۔اسی بات نے ارجنٹائن کے جج کو موقع دیاکہ وہ لورکا کے کیس اور اس جگہ کو کھولے جہاں لورکا کو موت کے گھاٹ اتارا گیا تھا۔اپنے ساتھی شاعروں کے درمیان ہر دلعزیز لورکا ایسا انسان تھا جس سے آپ کو اس خانہ جنگی اور اس کی ہولناکیوں کا علم ہوسکتا تھا۔ایک اور جنگی ماہر کیم فیلبی شاید ماسکو کے کنٹرول میں تھا اور اسے فرانکو کومارنے کے احکامات ملے تھے۔کیاآج کے شام میں ڈھائے جانے والے مظالم ہسپانوی خانہ جنگی کے دور میں کئے گئے مظالم سے کچھ کم ہیں؟یہ ایک انتہائی آسان کام ہے کہ ایلپو اور گورنیکا میں ہونے والے مظالم کو موازنہ کیا جائے لیکن معصوم لوگوں پر ڈھائے جانے والے مظالم جدید دور کی جنگ کی ایک ننگی تصویر ہے۔ہسپانوی خانہ جنگی میں پناہ گزینوں کے مسائل بھی پیدا ہوئے لیکن آج کا شام اس سے زیادہ دوچار ہے۔شام میں ہونے والی خانہ جنگی کے سائے آنے والی نسلوں تک رہیں گے اور اس سے لوگ شدید خوفزدہ ہوں گے۔گو کہ اقوام عالم اس کو بہتر بنانے اور سپین جیسی صورتحال سے بچانے کی کوشش کرسکتی ہیں لیکن شام کے پیچیدہ اور گھمبیر مسائل کوحل کرنا آسان دکھائی نہیں دے رہا اور ایک بات سامنے آرہی ہے کہ انسان نے تاریخ سے بھی کچھ نہیں سیکھا۔

شاعر کی موت

مزید :

کراچی صفحہ اول -