فرنٹیر مائنزاونرز ایسوی سیشن خیبر پختونخواہ نے آرڈیننس 2016 کو مسترد کردیا

فرنٹیر مائنزاونرز ایسوی سیشن خیبر پختونخواہ نے آرڈیننس 2016 کو مسترد کردیا

بونیر(بیورورپورٹ)فرنٹیر مائنزاونرز ایسوی سیشن خیبر پختونخواہ نے صو بائی حکومت کی جانب سے نافذ کئے جانے والے ارڈیننس 2016کو یکسر نامنظور کرتے ہوئے فوری واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے بصورت دیگرپہلے مرحلے پر اسمبلی اور وزیر اعلیٰ ھاوس کے سامنے مظاہروں اور دوسرے مرحلے میں صوبہ بھر کے مائنز پر کام بند کرکے مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔پریس کلب میں اتوار کے روز پریس کانفرنس میں صوبائی صدر خان بہادر خٹک،ڈپٹی جنرل سیکریٹری تیمور خان،فناس سیکریٹری احمد عنی،مردان ڈویژن کے صدرشیر افسر خان اور بونیر کے صدر نعمت اللہ خان نے درجنوں مائنز ونرز کے ھمراہ میڈیاں کے سامنے اپنے تحفظات کا زکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ حالیہ ارڈیننس کے نفاز سے قبل تمام سٹیک ھولڈرز کی مشاورت سے جو پالیسی وضع کی گئی تھی اس ارڈیننس میں اسکو یکسر نظر انداز کیا گیا ہے اور ظلم تویہ کہ لیز کا دورانیہ نناوے سال لیز کی بجائے صرف تیس سال کردیا گیاہے اور سب کنٹریکٹ کی پالیسی کو بھی ختم کردیاگیا ہے۔اور ایک اونرز کو تین سے زیادہ لیز رکھنے پر بھی پابندی لگائی گئی ہے۔اور بارود کے زریعے مائننگ کرنے پر پابندی کے زکر کے ساتھ پانچ سال تک مال فروخت نہ کرنے جیسے پابندیاں ناقابل قبول ہے۔اور اس سلسلے میں وزیر مائنز و منرل سے ملاقات کی جائیگی۔انھوں نے دعویٰ کیا ہے کہ صوبہ بھر میں سترہ سو مائنز اونرز پانچ لاکھ افرادکو روزگار فراھم کرتا ہے اور صوبائی حکومت کو سالانہ دو سے تین ارب کا ریونیو دیتاہے ۔اگر حکومت نے مائنز اونرز کے جائز مطالبات کو منظور نہ کیا تو مائنز بند ہونے سے بے روزگاری اور بے روزگاری سے بد امنی کے لیے صوبائی حکومت زمدار ہوگی۔

مزید : کراچی صفحہ اول