پرائیوٹ سکول مینجمنٹ ایسوسی ایشن بخشالی سرکل کا مجوزہ ٹیکس کے بارے میں اہم اجلاس

پرائیوٹ سکول مینجمنٹ ایسوسی ایشن بخشالی سرکل کا مجوزہ ٹیکس کے بارے میں اہم ...

  

بخشالی( نمائندہ پاکستان )پرائیوٹ سکول منیجمنٹ ایسوسی ایشن بخشالی سرکل کا مجوزہ ٹیکس کے بارے میں اہم اجلاس،ٹیکس پالیسی واپس لینے کا مطالبہ تفصیلات کے مطابق پرائیوٹ سکول منیجمنٹ ایسوسی ایشن بخشالی سرکل کا ایک اہم اجلاس زیر صدارت قاضی بشیر احمد بمقام وژن سکول میں منعقد ہوا جس میں یو سی بخشالی یو سی گجرات،یو سی پلوڈھیری ،یو سی فاطمہ،یو سی بابینی،یوسی ساولڈھیر کے تمام پرائیوٹ سکول کے مالکان وپرنسپل نے شرکت کی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مقررین کا کہنا تھا کہ پرائیوٹ سکولوں پر مجوزہ ٹیکس کاری ضرب ہے کیونکہ اکثر وبیشتر پرائیوٹ سکولز کرایہ کے بلڈنگ میں چل رہا ہے جبکہ آج کل سکول بلڈنگ کے کرایہ جات آسمان سے باتیں کر رہی ہے اس کے ساتھ ساتھ ٹیچنگ سٹاف کی تنخواہیں وسیکورٹی کے آلات اور سیکورٹی گن مین کی تنخواہیں ملا کر سکولوں کو ماہانہ بھاری بھرکم ادائیگیاں کرنی ہوتی ہے انہوں نے کہا کہ پرائیوٹ سکولوں میں آدھے سے زیادہ بچے نصف فیس اور فری سٹوڈنٹ کے زمرے میں فیس فری ہوتے ہیں جس کی وجہ سے سکول کی بجٹ خطر خوا متاثر ہوتی ہے ایسے حالات میں سرکار کی طرف سے پرائیوٹ سکولوں پر ٹیکس عائد کرنا سراسر ظلم وناانصافی ہے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وژن سکول کے ڈائریکٹر قاضی بشیر احمد نے کہا کہ ایک نجی تعلیمی ادارے کا مالک ہوتے ہوئے پرائیوٹ سکولوں کے مشکلات کا احساس ہے ہونا تو یہ چایئے کہ نجی تعلیمی اداروں کی اعانت کے لیئے سرکار یاتو ان اداروں کو مفت فرنیچر فراہم کرے یا بچوں کی کتابیں اور یونیفارم یا سٹاف کی تنحواہوں میں 50فیصد اعانت کرین کیونکہ گزشتہ ایک دہائی سے پرائیوٹ سکول تعلیم کے میدان میں گراں قدر خدمات انجام دے رہی ہے اور سالانا امتحانات میں نجی اداروں کے نتائج بڑے شاندار رہے ہیں جو یقیناً ایک روشن اور درخشاں پاکستان کی نوید ہے لیکن صد افسوس کہ حکومت نجی تعلیمی اداروں کی حوصلہ افزائی کی بجائے ان پر ٹیکس عائد کرکے ان کی خدمات اور معیاری تعلیم کی فراہمی کی راہ میں روڑیں اٹھکا رہی ہے کیونکہ سرکاری سکولوں کی خالت زار کا سرکار سمیت پورے سماجی خلقوں کو بخوبی علم ہے ۔

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -