نسلی تعصب کی انتہا،پیرس میں ہوٹل مالک نے مسلم خواتین کو کھانا دینے سے انکارکردیا کیونکہ ۔ ۔۔

نسلی تعصب کی انتہا،پیرس میں ہوٹل مالک نے مسلم خواتین کو کھانا دینے سے ...
نسلی تعصب کی انتہا،پیرس میں ہوٹل مالک نے مسلم خواتین کو کھانا دینے سے انکارکردیا کیونکہ ۔ ۔۔

  

پیرس(مانیٹرنگ ڈیسک)فرانس میں ہوٹل کے مالک نے نسلی تعصب کی انتہا کرتے ہوئے مسلمان خواتین کو کھانا دینے سے ہی انکار کردیااور دعویٰ کیا کہ تمام مسلمان دہشتگرد ہوتے ہیں لیکن بعدازاں معذرت بھی کرلی۔

برطانوی اخبار ’انڈیپنڈنٹ‘ کے مطابق  نسلی تعصب کی انتہا کا مظاہرہ فرانس کے دارالحکومت پیرس کے علاقے ٹریمبلے کے ایک ہوٹل کے مالک کی جانب سے کیا گیا جس نے نہ صرف مسلمانوں کو دہشتگرد قرار دیا بلکہ دو خواتین کو کھانا دینے سے بھی انکار کردیا۔ صورتحال منظر عام پر آنے کے بعد لوگوں نے ریسٹورنٹ کے باہر احتجاج کیا۔ممکنہ طورپر ہوٹل کے شیف نے خواتین کو مخاطب کرتےہوئے دعویٰ کیا کہ ’ تمام دہشتگرد مسلمان ہیں اور تمام مسلمان دہشتگرد ہیں‘۔موصوف کاکہناتھاکہ حالیہ دنوں میں اُنہوں نے ایک پادری کوقتل کیا، یہ سیکولرملک ہے اور مجھے اپنی رائے کے اظہار کا حق حاصل ہے، آپ جیسے لوگوں کو میں یہاں نہیں دیکھنا چاہتا‘۔

مزید پڑھیں:بھارت میں سیلاب سے تباہی،300ہلاکتوں کی تصدیق، لاکھوں افراد کی نقل مکانی

موصوف کی طرف سے اس قسم کے ردعمل پر خواتین حیران رہ گئیں لیکن جب نسل پرستی کی بنیاد پر اُنہیں ہوٹل سے نکل جانے کی ہدایت کی تو خواتین نے بڑے احترام سے کہاکہ ’ پریشان نہ ہوں ، ہم جارہی ہیں‘۔ نسل پرستانہ رویہ اپنانے پر پولیس نے ملزم سے پوچھ گچھ کی اور بعدازاں میڈیا کو موصوف نے بتایاکہ میں کچھ زیادہ ہی بول گیا تھا لیکن اب معذرت کرلی ہے ۔میرا ایک دوست ایک حملے میں مارا جا چکا ہے اور میں دباؤ کا شکار تھا، حقیقت میں ایسا نہیں جیسا کہ بولا ہےمیرے بیان کا مطلب وہ نہیں جو میں سوچتاہوں۔ 

 یورپ میں نسلی تعصب کا یہ پہلا واقعہ نہیں، مسلمان اس سے پہلے بھی ایسی ہی صورتحال سے کئی بار دوچار ہوچکے ہیں۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -