سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں سے سزائے موت کیخلاف تمام درخواستیں خارج کردیں

سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں سے سزائے موت کیخلاف تمام درخواستیں خارج کردیں
سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں سے سزائے موت کیخلاف تمام درخواستیں خارج کردیں

  

اسلام آباد ( مانیٹرنگ ڈیسک ) سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں سے سزائے موت کیخلاف تمام درخواستیں خارج کر دیں ۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں سے پھانسی کی سزاپانے والے دہشت گردوں کی جانب سے دائر تمام 17درخواستیں مسترد کر تے ہوئے فوجی عدالتوں کے فیصلے کو برقرار رکھنے کا حکم سنا دیا ۔فیصلہ چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے پڑھ کر سنایا۔فیصلہ 182 صفحات پر مشتمل ہے۔

پرویز مشرف کےسوشل میڈیا کوآرڈینیٹر مہدی حسن لاپتہ ہو گئے

چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں قائم5 رکنی لارجر بینچ نے درخواستوں کی سماعت کی ، سپریم کورٹ میں فوجی عدالتوں سے سزایافتہ 17دہشت گردوں نے اپیلیں دائر کر رکھی تھیں جن پر سپریم کورٹ نے بیس جون کو فیصلہ محفوظ کیا تھا جسے آج سنایا گیا ہے ۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پریڈلین ، بنوں جیل اور آرمی پبلک سکول پشاور حملوں میں ملوث دہشت گردوں نے فوجی عدالتوں سے پھانسی کی سزاپانے کے بعد سپریم کورٹ میں اپیلیں دائرکر رکھی تھیں جنہیں سپریم کورٹ نے ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔

روزنامہ پاکستان کی تازہ ترین اور دلچسپ خبریں اپنے موبائل اور کمپیوٹر پر براہ راست حاصل کرنے کیلئے یہاں کلک کریں

عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ فوجی عدالتوں کے کسی رکن پر بدنیتی ثابت نہیں ہوئی ، ملزموں کو وکیل دفاع بھی دیا گیا تھااور مجرموں کو وکیل دفاع پر جراع کا بھی حق تھا۔ فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ فوجی عدالتوں نے فیئر ٹرائل کے تمام ضابطے پورے کئے ۔فوجی عدالتوں کے ٹرائل میں غیر قانونی بات ثابت نہیں ہوئی ۔

مزید :

قومی -اہم خبریں -