نکاح کا جھانسہ دلاکر شادی شدہ خاتون سے زیادتی ، طلاق دلوا کر نکاح کرلیا، دوسال بعد نکاح بھی جعلی ہونے کا انکشاف، گھر سے نکال دیا

نکاح کا جھانسہ دلاکر شادی شدہ خاتون سے زیادتی ، طلاق دلوا کر نکاح کرلیا، ...
نکاح کا جھانسہ دلاکر شادی شدہ خاتون سے زیادتی ، طلاق دلوا کر نکاح کرلیا، دوسال بعد نکاح بھی جعلی ہونے کا انکشاف، گھر سے نکال دیا

  

قصور (ویب ڈیسک) قصور کا عیاش امیر زادہ ایک ہنستے بستے گھر کو اجاڑنے کے بعد دو سال تک سادہ لوح خاتون کو بیوی بنا کر جنسی زیادتی کا نشانہ بناتا رہا اور دو سال بعد دوسری شادی کے شوق میں شازیہ بی بی کو دھکے دیکر گھر سے نکال دیا اور انکشاف کیا کہ دوسال قبل ہونیوالا نکاح جعلی تھا۔

روزنامہ خبریں کے مطابق شازیہ بی بی دختر فقیر حسین ریلوے روڈ پر اپنی والدہ کے ہمراہ رہائش پذیر شازیہ بی بی نے بتایا کہ اس کا کوئی حقیقی بھائی نہیں، والد کا انتقال ہوچکا ہے اور دو سال سے وہ بیرون ملک ملازمت کرتی چلی آرہی تھی اور اس کے چاروں بچے اپنے والد کے ہمراہ پاکستان میں مقیم تھے، وہ اپنی تنخواہ کا بڑا حصہ شوہر اور والدہ کو بھجوا دیتی اور اس طرح روزگار چل رہا تھا کہ اچانک اس کی ملاقات ایک روز قصور سے تعلق رکھنے والے علی حیدر سے ہوئی۔ باتوں باتوں میں علی حیدر نے اسے شیشے میں ا تار لیا اور لالچ دیا کہ اگر وہ اپنے خاوند سے طلاق لے لے تو وہ اس کے ساتھ شادی کرلے گا اور اسے نوکری بھی نہیں کرنی پڑے گی اس طرح وہ پرسکون زندگی جی سکے گی جس میں اس کی والدہ وغیرہ کو بھی تحفظ حاصل ہوگا ،یکے بعد دیگرے علی حیدر کی طرف سے کرائی گئی یقین دہانیوں کے باعث شازیہ بی بی علی حیدر کی باتوں میں آگئی۔

شازیہ بی بی کے مطابق وہ واپس پاکستان آئی یہاں آکر اس نے اپنے خاوند سے طلاق حاصل کی اور علی حیدر کے بلائے ہوئے نامانوس گواہوں کی موجودگی میں علی حیدر کے ساتھ نکاح پڑھا لیا ،دو سال تک علی حیدر نے اسے یہی یقین دلائے رکھا کہ وہ میاں بیوی ہیں تاہم دو سال بعد اچانک ایک روز علی حیدر کہنے لگا کہ ہمارا نکاح نامہ جعلی ہے تم میرے گھر سے نکل جاﺅجس پر شازیہ بی بی رونے چلانے لگی اور اس نے گھر سے جانے سے انکار کیا تو علی حیدر نے اسے مبینہ طور پر تشددکانشانہ بنا کر گھر سے نکال دیا۔

شازیہ بی بی نے خود پر گزر جانیوالی قیامت کی بابت رٹ دائر کر دی جس پر عدالت نے کل ملزم علی حیدر سمیت دیگر افراد کو عدالت میں طلب کرلیا ہے۔

دریں اثناءمعلوم ہوا ہے کہ شازیہ بی بی غریب گھرانے کی لڑکی ہے اور ملازمت کرکے اہل خانہ کا خرچہ چلارہی تھی کہ علی حیدر کی باتوںمیں آکر اپنا گھر برباد کر بیٹھی مگر عیاش علی حیدر جو بیرون ملک ایک قیمتی مکان کا مالک ہے نے شازیہ بی بی کو پرسکون زندگی کا جھانسہ دیا وہ اس کی باتوںمیں آگئی۔ دوسری طرف علی حیدر کے گھر والوںنے غیر برادری کی لڑکی کو بہو ماننے سے انکار کر دیا اور علی حید رکی منگنی اپنے رشتہ داروں میں ایک دوسری جگہ کر دی ہے۔ علی حیدر کی چونکہ خاندان کے ساتھ مشترکہ جائیداد ہے اس لیے وہ اپنے خاندان کے سامنے جھکنے پر مجبور ہوگیا اور ان دنوں شازیہ بی بی سے جان چھڑانے کی ہر ممکن کوشش کررہا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ علی حیدر کے والدین شریف شہری ہیں مگر وہ خود اچھے کردار کا مالک نہیں ہے اور اسی وجہ سے تین خاندان اس کی ایک غلطی نے برباد کر دیے ہیں۔

دریں اثناءممتازقانوندان چوہدری امجد علی ایڈووکیٹ اور سماجی کارکن قیصر ایوب شیخ جو شازیہ بی بی کی اخلاقی اور قانونی مدد کررہے ہیں نے بتایا کہ معصوم بچوں اور بوڑھی ماںکا بوجھ اب شازیہ بی بی کے کندھوں پر آگیا ہے اور یہ سارا کچھ علی حیدر کے مجرمانہ کردار کی وجہ سے ہوا ہے جو دوسال تک اس کی عزت کے ساتھ کھیلتا رہا اور اب جائیداد کی خاطر اسے چھوڑنے کو تیار ہوچکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ عدالت میں ثابت کریں گے کہ علی حیدر نے بہت ظالمانہ قدم اٹھایا ہے جبکہ شازیہ بی بی نا کردہ گناہوں کی سزا بھگت رہی ہے جب اس سلسلہ میں علی حیدر سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی تو متعدد بار رابطہ کرنے پر اس سے ملاقات نہ ہوسکی۔ علی حیدر کے والدین شازیہ کو قبول کرنے سے یکسر انکاری ہیں جبکہ شازیہ بی بی کی والدہ کا کہنا ہے کہ اس کی معصوم بیٹی کے ساتھ ظلم ہوا ہے ہم شریف خاندان کے لوگ ہیں ایک شخص نے ہماری پوری نسل کی نیک نامی کو سرعام نیلام کر دیا ہے میری عدالت خدا اور عدالت سے یہی التجا ہے کہ میری بیٹی اور اس کے بچوںکی زندگیاںبر باد کرنیوالے ملزم کو قرار واقعہ سز ا دی جائے۔

مزید :

قصور -