نریندرا مودی 3 ستمبر کو ویتنام جائیں گے، چین کے مقابلے میں بھارت کا اہم قدم قرار

نریندرا مودی 3 ستمبر کو ویتنام جائیں گے، چین کے مقابلے میں بھارت کا اہم قدم ...
نریندرا مودی 3 ستمبر کو ویتنام جائیں گے، چین کے مقابلے میں بھارت کا اہم قدم قرار

  


نئی دلی (نیوز ڈیسک) بھارتی وزیر اعظم نریندرا مودی چین میں ہونے والے جی 20 ممالک کے سربراہان حکومت کے اجلاس میں شرکت سے پہلے ویتنام جائیں گے جو جنوب مشرقی ایشیا میں چین کے مقابلے میں بھارت کی موجودگی کی طرف اہم قدم ہوگا۔

بھارتی اخبار ٹائمز آف انڈیا کے مطابق جی 20 ممالک کے سربراہان حکومت کا اجلاس 4 اور 5 ستمبر کو چین میں ہوگا تاہم اجلاس میں شرکت سے پہلے بھارتی وزیر اعظم 3 ستمبر کو ویتنام کے دارالحکومت ہنوئی جائیں گے ۔ امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ نریندرا مودی اپنے ایک روزہ دورے کے دوران ویتنام کے ساتھ دفاعی تعاون کے مختلف معاہدوں پر دستخط کریں گے۔

’زیادہ سے زیادہ بچے پیدا کریں‘جنوبی کوریا کی حکومت نے اپنے شہریوں سے اپیل کردی

ذرائع کا کہنا ہے کہ نریندرا مودی اپنے دورے کے دوران ویتنام کے ساتھ 100 ملین ڈالر مالیت کی 4 پٹرولنگ کشتیوں کی فراہمی کے معاہدے پر دستخط کریں گے ۔ اس کے علاوہ انڈیا کی جانب سے ویتنام کو فوجی طاقت بڑھانے کیلئے مالی تعاون، فوجیوں کی تربیت کا کوٹہ بڑھانے کے ساتھ دفاعی سازو سامان کی فراہمی اور مرمت کے معاہدے ہونے کی توقع بھی کی جا رہی ہے۔ مودی کے دورے کے نتیجے میں سائبر سکیورٹی پارٹنرشپ کے ایم او یو پر بھی دستخط ہوسکتے ہیں۔

امریکہ سے جنگ کے دوران انڈیا کی جانب سے جذباتی و اخلاقی حمایت کے بعد ویتنام اور انڈیا ایک دوسرے کے قریب آئے۔

پائلٹ کی کاک پٹ میں ایسی چیز کے ساتھ شرمناک ترین حرکتیں کہ ایئرلائن نے فوری نوکری سے ہی نکال دیا،کوئی لڑکی نہیں تھی بلکہ۔۔۔

بھارتی اعلیٰ حکام کی جانب سے مودی کے حالیہ دورے کو اسی قربت کا نتیجہ قرار دیا جارہا ہے جبکہ اس دورے کا مقصد جنوب مشرقی ایشیائی ملک ویتنام کو مضبوط کرنا بھی ہے جو جنوبی چینی سمندرمیں چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے آگے بند باندھ سکے۔ماہرین کا کہنا ہے چونکہ انڈیا جنوبی چینی سمندر میں فوجی طور پر متحرک نہیں ہے اس لیے انڈیا اور ویتنام اپنے تعلقات میں چین کی جانب سے ممکنہ ردعمل سے بچنے کیلئے انتہائی محتاط رویہ اپنائے ہوئے ہیں ۔

مزید : بین الاقوامی