حکومت تاجروں کوٹیکس ری فنڈ کرنے میں نا کام

حکومت تاجروں کوٹیکس ری فنڈ کرنے میں نا کام
حکومت تاجروں کوٹیکس ری فنڈ کرنے میں نا کام

  

اسلام آباد( آن لائن ) حکومت تاجروں کو ری فنڈ ادا کرنے میں ناکام ہوگئی۔ کمرشل بینکوں سے تقریبا دو سو ارب قرضہ لے کر برآمد کنندگان کو رقوم دینے کا فیصلہ کرلیا گیا۔ اقتصادی ماہرین نے ٹیکس محاصل میں پانچ سو ارب کی ہیراپھیری کا الزام عائد کر دیا میڈیا رپورٹ کے مطابق تاجروں کے تقریبا تین سو ارب روپے مالیت کے ٹیکس ری فنڈز کی ادائیگی میں ناکامی کاشکار ہوئے ہیں۔ حکومت نے کمرشل بینکوں سے سو سے دوسوارب روپے تک قرضہ لینے کا منصوبہ تیارکرلیا ہے۔ تاجروں کوسات فیصدسے زیادہ شرح سود اداکرناپڑے گا۔

ایف بی آر ذرائع کے مطابق کمرشل بینکوں سے قرضہ لینے کیلئے اکتوبر میں نئی سرمایہ کاری کمپنی قائم کی جائے گی۔ اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ قرض کا حصول3104ارب کے سالانہ ٹیکس محاصل میں ہیراپھیری کا ثبوت ہوگا۔سیکرٹری خزانہ ڈاکٹر وقار مسعود نے میڈیا کو بتایا کہ ری فنڈ کی ادائیگی کیلئے ممکنہ قرض کی مالیت کا تعین ہونا ابھی باقی ہے۔

مزید :

اسلام آباد -