بھارت بلوچستان میں مداخلت بند کرے ، چین نے نئی دہلی کو واضح پیغام دیدیا

بھارت بلوچستان میں مداخلت بند کرے ، چین نے نئی دہلی کو واضح پیغام دیدیا
بھارت بلوچستان میں مداخلت بند کرے ، چین نے نئی دہلی کو واضح پیغام دیدیا

  


بیجنگ( آن لائن ) بلوچستان میں بھارتی مداخلت بند نہ ہونے کی صورت میں چین نے بھی میدان میں آنے کا واضح اشارہ دے دیا ہے۔چین کے اہم ترین تھنک ٹینک چائنہ اسٹیٹیوٹ آف کنٹمپریری انٹرنیشنل ریلیشن (سی آئی سی آئی آر) سے خطاب کرتے کرتے ہوئے انسٹی ٹیوٹ آف ساؤتھ اینڈ ساؤتھ ایسٹ ایشین اینڈ اوشینین سٹڈیز کے ڈائریکٹر ہو شی شینگ نے بھارت اور امریکا کے بڑھتے ہوئے تعلقات اور متنازع ’ساؤتھ چائنا سی‘ کے حوالے سے نئی دلی کے بدلتے ہوئے رویے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بھارت چین کے لئے خطرے کی گھنٹی بنتا جا رہا ہے، ماضی میں ساؤتھ چائنہ سمندر کے حوالے سے بھارت کا موقف غیر جانبدارانہ تھا لیکن اب بھارت اس معاملے میں بڑھ چڑھ کر مداخلت کر رہا ہے۔

ہو شی شینگ نے بھارت کے 70 ویں یوم آزادی پر وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے بلوچستان کے حوالے سے کی جانے والی تقریر پر بھی خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسے بھارت کی پاکستان کے حوالے سے اچانک تبدیلی تصور کیا جا سکتا ہے اور چین کو خدشہ ہے کہ بھارت بلوچستان میں موجود حکومت مخالف عناصر کو استعمال کر کے چین اور پاکستان کے درمیان 46 ارب ڈالر کی لاگت سے جاری پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر بھارت کی بلوچستان میں دراندازی سی پیک منصوبے کو نقصان کا باعث بنتی ہے تو پھر چین کو بھی بھارتی مداخلت کو روکنے کے لئے میدان میں کودنا ہوگا کیونکہ بھارتی مداخلت سے نہ صرف پاکستان کے حالات خراب ہوں گے بلکہ بیجنگ اور نئی دلی کے تعلقات میں بھی تناؤ بڑھے گا۔ہو شی شینگ نے مزید کہا کہ چین کو پہلے بھارت کے امریکا اور دیگر ممالک کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے کوئی خدشات نہیں تھے لیکن نریندر مودی کے اقتدار میں آنے کے بعد سے بھارت کے امریکا کے ساتھ عسکری تعلقات بڑھتے ہی جا رہے ہیں جو چین کے لئے بھی خطرے کا باعث ہیں۔

انھوں نے کہا کہ اندازہ ہے کہ بھارت کو کنٹرول کرنے کے لئے ہمین امریکا اور جاپان کے دباؤ کا سامنا کرنا پڑے گا، امریکا، جاپان اور آسٹریلیا کی جانب سے بھارت کو اپنے گروپ میں شامل کرنے کے لئے بڑے پیمانے پر جدید ٹیکنالوجی اور ہتھیاروں کی لالچ دے رہے ہیں۔

مزید : بین الاقوامی