تاریخ ساز کرکٹ گراؤنڈ ، انگلینڈ کا ٹرینٹ برج سٹیڈیم 1841 میں تعمیر ہوا: رپورٹ

تاریخ ساز کرکٹ گراؤنڈ ، انگلینڈ کا ٹرینٹ برج سٹیڈیم 1841 میں تعمیر ہوا: رپورٹ
تاریخ ساز کرکٹ گراؤنڈ ، انگلینڈ کا ٹرینٹ برج سٹیڈیم 1841 میں تعمیر ہوا: رپورٹ

  


ٹرینٹ برج نو ٹنگھم ( افضل افتخار) پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان ون ڈے سیریز کا تیسرا میچ تاریخی گراﺅنڈ ٹرینٹ برج نو ٹنگھم میں منگل کوکھیلا جائے گا۔

تفصیلات کے مطابق ٹرینٹ برج گراﺅنڈ تاریخی لحاظ سے اہمیت کا حامل ہے یہاں پر انٹرنیشنل کرکٹ میچوں کے ساتھ ساتھ کاﺅنٹی میچ بھی کھیلے جاتے ہیں۔ 1841 میں بننے والے اس گراﺅنڈ میں تماشائیوں کے بیٹھنے کی گنجائش 17 ہزار500 ہے جبکہ اس میں ٹیسٹ کرکٹ کے ساتھ ساتھ ون ڈے اور ٹی ٹونٹی میچز کا انعقاد ہوتا ہے ۔ 2009 کے آئی سی سی ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ کے فائنل کی میزبانی بھی اس گراﺅنڈ کو مل چکی ہے جبکہ اس کے علاوہ ورلڈ کپ اور دیگر اہم ایونٹس کے میچز کی میزبانی کا شرف اس کو حاصل رہا ہے۔

ٹرینٹ برج نوٹنگھم کرکٹ گراﺅنڈ میں پہلا ٹیسٹ میچ 1 سے 3 جون 1899 تک انگلینڈ اور آسٹریلیا کی ٹیموں کے درمیان کھیلا گیا تھا جبکہ اس گراﺅنڈ میں آخری کھیلا گیا ٹیسٹ میچ 6 سے 8 اگست2015 کو انگلینڈ اور آسٹریلیا کی ٹیموں کے درمیان ہی کھیلا گیا تھا ۔ پہلا ون ڈے 31 اگست 1974 کو انگلینڈ اور پاکستان کی ٹیموں کے درمیان کھیلا گیا تھا اس کے بعد اس گراﺅنڈ پر آخری ون ڈے 21 جون2016 انگلینڈ او رسری لنکا کے درمیان ہوا ۔ ٹی ٹونٹی میچوں کا پہلا میچ یہاں پر 6 جون 2009 کو بنگلہ دیش اور انڈیا کے درمیان کھیلا گیا تھا جبکہ آخری ٹی ٹونٹی 24 جون2012 کو انگلینڈ اور ویسٹ انڈیز کے درمیان کھیلا گیا تھا ۔

ٹرینٹ برج نوٹنگھم کرکٹ گراﺅنڈ پر کھیلے گئے میچوں میں اگر کھلاڑیوں کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو بے شمار کھلاڑیوں کے لئے یہ گراﺅنڈ بہت خوش قسمت ثابت ہواہے ۔ ٹرینٹ برج گراﺅنڈ دنیا کے بہترین گراﺅنڈ زمیں سے ایک ہے اگر اس کی تعمیر پرلگنے والے تخمینہ کا جائزہ لیا جائے تو اس کی تزئین و آرائش پر وقت کے ساتھ ساتھ خطیر رقم خرچ ہوئی حال ہی میں اس کی تزئین پر 7.2 ملین ڈالر کی خطیر رقم خرچ کی گئی ۔ جبکہ اس گراﺅنڈ کے لئے یہ اعزاز کی بات ہے کہ اس کو 1998 میں بہترین اور خوبصورت ہونے اور بہترین انتظامات کرنے کی بدولت آرٹیکلچر ایگسی لینس ایوارڈ سے بھی نوازا گیا تھا جو اس سے پہلے کسی اور گراﺅنڈ کو نہیں دیا گیا۔ ٹرینٹ برج کرکٹ گراﺅنڈ میں2007 میں آخری مرتبہ پویلین میں شائقین کے بیٹھنے کی گنجائش میں اضافہ کے لئے تعمیراتی کام کیا گیا اس سے پہلے یہاں پر شائقین کے بیٹھنے کی گنجائش15 ہزار تین سو اٹھاون تھی جسے اب بڑھا کر 17500 کیا گیا اس کی ایک وجہ یہاں پر شائقین کی ایک بڑی تعداد کا میچز دیکھنے کےلئے آنا تھا جس کے بعد اس میں شائقین کی تعداد میں اضافہ کردیا گیا ٹرینٹ برج کرکٹ گراﺅنڈ کو دنیا کی ہر ٹیم کی میزبانی کا شرف حاصل رہا ہے انگلینڈ میں اس وقت بے شمار کرکٹ گراﺅنڈ ہیں لیکن یہ گراﺅنڈ اپنی مثال آپ ہے اور اس کی اہمیت میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے یہاں پر ٹیسٹ کرکٹ کے ریکارڈز کی بات کی جائے تو ٹیسٹ کرکٹ میں یہاں پر سب سے زیادہ رنر 658 ہیں جو انگلینڈ اور آسٹریلیا کے درمیان ٹیسٹ میچ میں بنائے گئے تھے یہ میچ 1938 میں کھیلا گیا جبکہ ٹیسٹ کرکٹ میں یہاں پر سب سے کم سکور 60 رنز ہے جو 2015 میں انگلینڈ اور آسٹربلیا کے درمیان کھیلے گئے میچ میں ہی بنے تھے ۔ یہاں پر باﺅلرز میں انگلینڈ کے سٹورٹ براڈ کامیاب ترین باﺅلر ہیں جنہوں نے ایک ٹیسٹ میچ میں آٹھ وکٹیں حاصل کی ہوئی ہیں بیٹسمینوں میں بھارت کے سٹار بیٹسمین سچن ٹنڈولکر کامیاب ترین بیٹسمین ہیں جنہوں نے بیرون ملک اور انگلینڈ میں اس کرکٹ گراﺅنڈپر سب سے زیادہ رنر بنانے کا اعزاز حاصل کیا ہوا ہے اور اب تک یہ ریکارڈ ان کے پاس ہی ہے

مزید : کھیل