’میری بیٹی تھی اور وہ 20 نوعمر لڑکے تھے، پھر۔۔۔‘ عدالت میں لڑکی کی ماں نے ایسی شرمناک حقیقت سے پردہ اُٹھادیا کہ جج کا منہ بھی کھلا کا کھلا رہ گیا

’میری بیٹی تھی اور وہ 20 نوعمر لڑکے تھے، پھر۔۔۔‘ عدالت میں لڑکی کی ماں نے ...
’میری بیٹی تھی اور وہ 20 نوعمر لڑکے تھے، پھر۔۔۔‘ عدالت میں لڑکی کی ماں نے ایسی شرمناک حقیقت سے پردہ اُٹھادیا کہ جج کا منہ بھی کھلا کا کھلا رہ گیا

  


نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک)جنسی زیادتیوں کا دارالحکومت کہلانے والے بھارتی دارالخلافہ نئی دہلی میں گزشتہ دنوں ایک نوعمر لڑکی کے ساتھ ایسا واقعہ پیش آیا کہ سن کر ہی روح کانپ جائے۔ گلف نیوز کی رپورٹ کے مطابق 18سال سے کم عمر لڑکی کو 20اوباش مردوں کے ایک گروہ نے اغواءکیا اور ایک گھر میں محبوس رکھ کر ایک مہینے تک اجتماعی زیادتی کا نشانہ بناتے رہے۔ لڑکی کی ماں کی طرف سے مقدمہ درج کروائے جانے کے بعد ملزمان میں سے دو کو پولیس نے نئی دہلی کے بٹالہ ہاﺅس کے علاقے سے گرفتار کر لیا ہے۔ لڑکی ایک سرکاری سکول کی طالبہ تھی اور گرفتار ہونے والے دونوں ملزم بھی اسی سکول میں پڑھتے ہیں۔ اپنی رپورٹ میں متاثرہ لڑکی کی ماں نے بیان کیا ہے کہ اس کی بیٹی کو 20ملزمان ایک مہینے تک اجتماعی زیادتی کا نشانہ بناتے رہے ہیں۔“ جامعہ نگر پولیس سٹیشن کے ایک سینئر پولیس افسر نے دونوں ملزمان کی گرفتاری کی تصدیق کر دی ہے۔“ رپورٹ کے مطابق ایک ماہ بعد جب ملزمان لڑکی کو ایک جگہ پھینک کر فرار ہوئے اس وقت لڑکی کی حالت انتہائی تشویشناک تھی۔ لڑکی کو ہسپتال داخل کرا دیا گیا جہاں تاحال اس کا علاج جاری ہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس