شہباز شریف :مسلم لیگ(ن) کا اہم ستون

شہباز شریف :مسلم لیگ(ن) کا اہم ستون
 شہباز شریف :مسلم لیگ(ن) کا اہم ستون

  


پاکستان میں سیاسی حکمرانی چند خاندانوں کے گرد گھومتی ہے جن میں قابلِ ذکر خاندان بھٹو ، کھوڑو، جتوئی، بگٹی، مری، شیرپاؤ، باچا خان، چٹھہ، چودھری اور شریف فیملی سے متعلق ہیں۔ بھٹو خاندان پاکستان بننے سے پہلے سیاست میں ہے جبکہ نواز خاندان حادثاتی طور پر سیاست میں آیا ہے۔ جنرل ضیاء الحق کی نظرِ کرم نواز شریف پر پڑی تو وہ گمنامی سے روشنی میں آگئے۔ نواز شریف نے اپنے کاروباری خاندان پر نظر ڈالی تو شہباز شریف کے سوا کسی اور میں سیاسی سوجھ بوجھ نظر نہ آئی۔چنانچہ دونوں بھائیوں نے (ن) لیگ کوکامیاب اور مستحکم کرنے میں خوب محنت کی۔دونوں بھائیوں کو ایک ساتھ رکھنے میں ان کے والد میاں شریف کا اہم کردار تھا۔ میاں شریف نے اپنے خاندان میں بڑے کا ادب لازم قرار دے رکھا تھاجو اب تک قائم ہے۔ نواز شریف جب وزیر اعلیٰ سے وزیر اعظم بنے تو انہوں نے کسی سیاسی رہنما پر اعتماد نہ کیا اورجن پر کیا انہوں نے دھوکا دیا بعد میں انہوں نے والد کی ہدایت پر پنجاب کی گدی بھائی کو سونپی۔تاریخ اگرچہ بتاتی ہے کہ جتنی بڑی حکومتیں دنیا میں قائم ہوئیں ان میں بادشاہوں کی اکثریت نے خونی رشتوں پر بہت کم اعتماد کیا تھا۔ انہوں نے اعلیٰ عہدوں پر اپنے بااعتماد اور وفادار لوگوں کو تعینات کیا تھا۔تاریخ بتاتی ہے کہ اولاد اوربیویوں نے بھی بغاوت کی تھی۔ اشوکہ ہندوستان کا ایک بہت بڑا نام ہے۔ اس کے27بھائی تھے۔ بادشاہ بننے سے پہلے اشوکہ ان کے بغیر کھانا نہیں کھاتا تھا لیکن بادشاہ بننے کے بعد اس نے یکے بعد دیگرے سبھی بھائیوں کو قتل کردیاتھا۔تاہم سلطنتِ عثمانیہ اور سعودی خاندان میں مل بانٹ کر حکومت کرنے کی روایات بھی قائم ہیں۔

شہباز شریف نے پنجاب کی باگ ڈور سنبھالنے کے فوراً بعد تابعدار،مخلص اور پرانے سیاستدانوں کی فوج اکٹھی کی، انہیں وزارتیں دیں جبکہ اہم وزارتیں اپنے پاس رکھیں۔وہ قابلِ اعتماد نوکر شاہی کو آگے لائے اور ایک مضبوط انتظامی ڈھانچہ تخلیق دے کر ترقیاتی کاموں پر توجہ دی۔سب سے پہلے لاہورپر توجہ دی اور اپنی نگرانی میں لاہور میں ترقیاتی کام شروع کرائے جن میں میٹرو بس، اورنج لائن ٹرین،انڈر پاس، فلائی اوور، سکول، ہسپتال، تعلیم، لیپ ٹاپ، دانش سکول، سیف سٹی جیسے پروگراموں پر خصوصی توجہ کی۔

لاہور کے بعد ملتان، اسلام آباد اور راولپنڈی میں سڑکیں، میٹروبس، فلائی اوور، انڈر پاس، ہسپتال اور سکول قائم کئے اور آہستہ آہستہ پورے پنجاب میں سہولتوں کا جال بچھا دیا۔ شہباز شریف نے سیاست کی بجائے تعمیرات پر زیادہ توجہ دی تاکہ عوام کو زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچے۔ڈینگی جیسے موذی مرض پرحکومت پنجاب نے کافی حد تک قابو پایا جبکہ دوسرے صوبے اس حوالے سے پیچھے رہ گئے۔ میٹرو بس جیسے منصوبوں کی تقلید ان کے مخالفین نے پشاور اور کراچی میں کی۔

شہباز شریف نے وفاق کے بجلی کے منصوبوں میں بھی مستعدی سے ہاتھ بٹایا اور سولر پاور و کول پاور کے ہزاروں میگاواٹ کے منصوبوں کو پایہ تکمیل تک پہنچایا۔ شہباز شریف کی ان کاوشوں سے نواز لیگ خصوصی طور پر پنجاب میں مضبوط ہوئی۔ شہباز شریف کا وفاق میں ناجانے کا فیصلہ دانشمندانہ ثابت ہوا۔ پنجاب کی نشستیں ہی وفاق میں حکومت بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔اُمید ہے شہباز شریف اپنی تیز رفتار طبیعت کے باعث سارے منصوبے وقت پر مکمل کرلیں گے جس کا فائدہ (ن) لیگ کو ہوگا۔ شہباز شریف کے وفاق میں نہ جانے سے کوئی اُلجھن پیدا نہیں ہوئی۔ وہ پاناما کیس سے بھی محفوظ رہے اور بطور وزیر اعلیٰ ان کے دور میں میگا کرپشن کا کوئی کیس بھی سامنے نہ آیا۔ نواز لیگ کو چاہئے کہ (ن) لیگ کو مضبوط رکھنے کے لئے شہباز شریف کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھائے۔

مزید : کالم