پشاوری جوتوں سے ٹکور

پشاوری جوتوں سے ٹکور
 پشاوری جوتوں سے ٹکور

  


کسی زمانے پیپلزپارٹی کے کارکن اکثر ایک دوسرے کے ساتھ ’’گتھم گتھا‘‘ ہو جایا کرتے تھے، مگر اب ایک عرصے سے یہ کارکن بالکل ’’شل‘‘ ہو کر رہ گئے ہیں،حالانکہ بلاول بھٹو پوری کوشش کررہے ہیں کہ کارکن دوبارہ حرکت میں آجائیں ،مگر کیفیت وہی ہے کہ ۔۔۔

’’زمیں جُنبد نہ جُنبد گل محمد‘‘مسلم لیگ (ن) کے کارکن بھی کبھی کبھار ایک دوسرے کے ساتھ الجھ پڑتے ہیں، مگر ایسا کبھی کبھی نظر آتا ہے اور وہ بھی ’’کھانے‘‘ کے موقع پر۔۔۔اس حوالے سے آج کل تحریک انصاف کے کارکن خاصے ’’اِن‘‘ جا رہے ہیں۔

یہ کارکن عام طور پر عمران خان کے نزدیک جانے کے معاملے پر ایک دوسرے کے ساتھ ’’ہتھ وہتھ‘‘ ہو جاتے ہیں، بلکہ گزشتہ روز تحریک انصاف لاہور کے سیکرٹریٹ میں تو باقاعدہ ’’لترو لتری‘‘ ہوتے نظر آئے اور یہ لتر مارنے والے بھی کوئی عام لوگ نہیں، بلکہ علیم خان اور جہانگیر ترین کے سیکیورٹی گارڈ تھے اور ظاہر ہے کہ انہوں نے جن ’’لتروں‘‘ کے ساتھ کارکنوں کی ’’جھاڑ پونچھ‘‘ کی ہوگی، وہ کوئی عام جوتے تو ہونہیں سکتے۔ یقینی طورپر پشاور کے خاص جوتے ہوں گے۔بتایا گیا ہے کہ ان کارکنوں کو کپتان نے خود بلایا تھا اور ملاقات کے دوران وہ ان سے حلقہ 120کے ضمنی الیکشن کے حوالے سے مشاورت کرنا چاہتے تھے، مگر یہ کارکن جب سیکرٹریٹ پہنچے تو علیم خان اور جہانگیر ترین کے باڈی گارڈز کے ’’جوتوں‘‘ سے ان کا استقبال کیا گیا۔

تحریک انصاف کے جلسوں میں اس طرح کے واقعات کوئی نئی بات نہیں ہے۔ تقریباً ہر جلسے کے موقع پر اس طرح کی صورت حال پیدا ہو جاتی ہے۔ کارکن جذباتی ہوجاتے ہیں اور پھر کسی اور لیڈر کی کیا، خود عمران خان کی بھی نہیں سنتے۔ تحریک انصاف کے کارکن عموماً اس بات پر بھی الجھ پڑتے ہیں کہ خواتین کے لئے علیحدہ جگہ کیوں بنائی گئی ہے، مردوں اور عورتوں کے درمیان شامیانے کی دیوار کیوں بنا دی گئی ہے اور پھر کارکن اس دیوار کو گراتے ہوئے عورتوں اور مردوں کے درمیان فاصلہ ختم کرنے کی کوشش کرتے ہیں، پھر ظاہر ہے ’’دنگا فساد‘‘ہو جاتا ہے اور کارکن ایک دوسرے کے ساتھ ’’لترو لتری‘‘ ہوجاتے ہیں، جس سے مخالف سیاسی جماعتیں بہت فائدہ اٹھاتی ہیں اور عمران خان کو طرح طرح کے الزام بھی سننا پڑتے ہیں۔ عمران خان شاید خود بھی اس صورت حال سے پریشان ہوتے ہوں گے۔ پارٹی کے اندر ایک نظم و ضبط ہونا چاہیے، مگر اس کے لئے عملی طور پر وہ کچھ بھی کرتے نظر نہیںآتے، تنظیمی امور کی طرف ان کی کوئی توجہ نہیں ہے۔ بدقسمتی سے تحریک انصاف ایک ’’گروہ‘‘ کی شکل میں آگے بڑھتی نظر آتی ہے۔ ملک گیر سطح پر یہ ابھی تک کوئی منظم شکل بنانے میں ناکام ہے۔ جماعت کے منشور کے حوالے سے کہیں بھی کوئی مذاکرہ یابیانیہ نہیں آتا۔

نوازشریف کی نااہلی کے بعد بطور پارٹی تحریک انصاف کو بہت سنجیدہ نظر آنا چاہیے تھا، مگر افسوس کی بات ہے کہ پارٹی اتنی بڑی ’’فتح‘‘ کے بعد بھی اپنی طاقت میں کوئی اضافہ کرتی نظر نہیں آتی۔ ہر جگہ پارٹی کے اندر کئی گروپ ایک دوسرے کے خلاف سینہ تان کے کھڑے ہیں۔ کسی بھی ضلع کے ضلعی سربراہ کے ساتھ کارکنوں کا تعاون نہ ہونے کے برابر ہے، خود کپتان کے اپنے ضلع میانوالی میں کپتان کی نامزد کردہ ضلعی قیادت کے ساتھ کارکنوں کا عملی تعاون نظر نہیں آتا،جبکہ ایک منحرف گروپ الگ سے اپنا سیاسی سفر جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس منحرف گروپ نے گزشتہ بلدیاتی انتخابات میں تحریک انصاف کو ضلعی چیئرمین شپ میں عبرتناک شکست سے دوچار کروایا،اس کے باوجود اب بھی خود کو مخلصین تحریک انصاف قرر دیتے ہیں اور ضلعی قیادت کے خلاف ہر موقع پر سازشیں کرتے نظر آتے ہیں، جبکہ اس ’’منحرف‘‘ گروپ کی تمام جماعت مخالف سرگرمیاں پارٹی قیادت کے علم میں ہیں، مگر قیادت ان کے خلاف کوئی قدم اٹھانے سے خوفزدہ ہے۔ ضلعی صدر ایم این اے امجد علی خان ان مشکل حالات میں بھی ضلعی سطح پر جماعت کو مضبوط کرنے کے لئے کوشاں ہیں۔ وہ جونہی ضلع بھر میں بعض شخصیات کو پارٹی میں لانے کے مشن میں کامیاب ہوتے ہیں، منحرف گروپ ان کے خلاف علاقائی تعصب پر مبنی الزام لگانا شروع کر دیتا ہے۔ یہ صورت حال صرف میانوالی تک محدود نہیں ہے۔ پورے جنوبی پنجاب میں یہی صورت حال ہے۔ پوری جماعت صرف جہانگیر ترین اور شاہ محمود قریشی کی مٹھی میں ہے۔ مقامی سطح پر جماعت کی تنظیمی شکل و صورت ایسی نظر نہیں آتی۔ جلسے جلوس کی حد تک یہ لوگ کسی نہ کسی طرح لوگ اکٹھے کر لیتے ہیں، مگر وہ جو جماعت سازی ہوتی ہے نظر نہیں آتی۔

ان حالات میں اگر عمران خان سمجھتے ہیں کہ وہ آئندہ انتخابات میں کوئی بڑی سیاسی کامیابی حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے تو وہ بہت بڑی غلطی پر ہیں، انہیں سب سے پہلے کارکنوں کو نظم و ضبط میں لانا ہو گا اور انہیں پارٹی قیادت کے پروگرام سے متعارف کرانا ہوگا۔۔۔ اسی طرح پارٹی قیادت کو بھی سمجھنا چاہیے کہ کارکن جماعت کا سرمایہ ہوتے ہیں، اگر وہ کسی وجہ سے جذباتی ہوجائیں تو انہیں ’’پشاوری جوتوں‘‘ کے ساتھ نہیں، اپنی قائدانہ صلاحیتوں کے ساتھ ’’رام‘‘ کرنا چاہیے، کیونکہ یہ کارکن ہی پارٹی کی اصل طاقت ہوتے ہیں۔ یہ کارکن ہی ہیں جو قیادت کو کندھوں پر بٹھاکر ایوان اقتدار تک پہنچاتے ہیں۔ اگر ان کے ساتھ تشدد کے ذریعے پیش آنے کا سلسلہ جاری رکھا گیا تو پھر مستقبل قریب میں جماعت کے اندر صرف ’’لیڈر‘‘ نظر آئیں گے، کارکن غائب ہوں گے۔کیوں کہ وہ جوتے کھانے کے لئے تونہیں آتے ۔اس وقت عمران خان کو پارٹی کے حقیقی مسائل کی طرف توجہ دینی چاہیے، انہیں جماعت کے اندر گروپ بندی، بلکہ ’’گروہ بندی‘‘ کو ختم کرنے کی ضرورت ہے، انہیں چاہیے کہ وہ اب تمام اضلاع کے عہدیداروں کے ساتھ براہ راست رابطہ کریں اور ہر ضلع کی قیادت کے ساتھ مشاورت کرتے ہوئے ان کے علاقائی مسائل کو سمجھنے کی کوشش کریں اور ان کی جائز شکایات کو دور کرنے کے بعد تمام ضلعی قیادت کو مکمل اختیار کے ساتھ فیصلے کرنے کی اجازت دیں، تاکہ آئندہ انتخابات سے پہلے مخلص اور جانباز کارکن تیار ہو جائیں، جو پارٹی مفادات کو حاصل کرنے کے لئے متحرک ہو جائیں اور پارٹی کے مشن کو آگے بڑھائیں۔ بصورت دیگر پارٹی کو ایک بار پھر بڑے سیاسی نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا، خاص طور پر پنجاب میں پارٹی پوزیشن ابھی تک اپنی پرانی سطح پر کھڑی ہے، اہم بات یہ ہے کہ پیپلزپارٹی نے بھی پنجاب میں اپنے کارکنوں کو واپس لانا شروع کر دیا ہے جو گزشتہ انتخابات میں یا تو خاموش تھے یا پھر تحریک انصاف کے ساتھ کھڑے نظر آتے تھے، مگر اب واپس اپنی جماعت کا رخ کررہے ہیں۔

مزید : کالم