نیوٹیک اور سی پی ایس کے اشتراک سے انڈسٹری کا کردار بڑھانے کیلئے بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد 

نیوٹیک اور سی پی ایس کے اشتراک سے انڈسٹری کا کردار بڑھانے کیلئے بین الاقوامی ...
نیوٹیک اور سی پی ایس کے اشتراک سے انڈسٹری کا کردار بڑھانے کیلئے بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد 

  


لاہور ( پ ر )انڈسٹری انسٹیٹیوٹ پارٹنر شپ کو درپیش مسائل کی نشاندہی اور حل کے ساتھ ساتھ ٹیکنیکل ووکیشنل سیکٹر میں نوجوانوں کیلئے ملازمت کے مواقع کی توسیع کیلئے آج ایک مقامی ہوٹل میں 4روزہ بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد ہوا ۔ کانفرنس کا اہتمام نیوٹیک اور کولمبو پلان اسٹاف کالج(CPSC) کی شراکت سے ہوا جس میں دس سے زائد ممالک نے شرکت کی جن میں سری لنکا، ملائیشیا، تھائی لینڈ، فلپائن ،میانمار، بنگلہ دیش، نیپال، مالدیپ اور افغانستان بھی شامل ہیں۔ کانفرنس کا افتتاح وفاقی وزیر برائے تعلیم جناب انجینئر بلیغ الرحمن نے کیا جس میں سری لنکا اور نیپال کے سفیروں سمیت بڑی تعداد میں سفارتکاروں ،صنعتکاروں اور تربیّتی اداروں کے سربراہوں نے شرکت کی۔ 

اسکل ڈویلپمنٹ اور تکنیکی تربیت کسی بھی ملک کی معاشی اور معاشرتی ترقی کیلئے بنیادی لوازم کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ یہ وہ شاہراہ ہے جس پر چل کر ہم موجودہ صورتحال کو تبدیل کرسکتے ہیں اور قومی ترقی کے راستے میں حائل رکاوٹوں پر قابو پاسکتے ہیں۔ یہ بات وزیر مملکت برائے قومی تعلیم و فنی تربیت جناب انجینئر بلیغ الرحمن نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنی توجہ ٹیکنیکل اور ووکیشنل تعلیم کی طرف مرکوز کرنی چاہیے اور اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت ملک کی نوجوان نسل کو ایسی تربیت دینے میں کوشاں ہے جو ان کو ملازمت حاصل کرنے میں مدد دے گی۔

انہوں نے کہا کہ اس کانفرنس کا موضوع بڑا اہم ہے جو نہ صرف پاکستان بلکہ دیگر ممالک کیلئے بھی بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ اپنی تقریر کے اختتام پر انہوں نے غیر ملکی وفود کو پاکستان آنے اور اپنے تجربات سے آگاہ کرنے پر انکا شکر یہ ادا کیا۔

کانفرنس کے شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے ذوالفقار احمد چیمہ نے کہا کہ ہمیں کامیاب ممالک کے تجربات سے سیکھنے کی ضرورت ہے اور اس پلیٹ فارم سے ہمیں دنیا کے ممالک کی بیسٹ پریکٹسز سے سیکھنے اور مستفید ہونے کا موقع ملے گا۔انہوں نے کہا کہ ترقی یافتہ ممالک میں انڈسٹری تربیت پر سرمایہ خرچ کرتی ہے اس لئے وہ ممالک آج بہت آگے نکل گئے ہیں ۔ ہمارے ہاں انڈسٹری اور فنی تربیت کے درمیان ایک خلیج ہے جسے ختم کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ اضافی ذرائع کو متحرک کرنے کیلئے نئی مستحکم شراکت داری کو فروغ دینے ،آلات اور طریقہ¿ کار کی تشکیل اور اس پر فوری عملدرآمد کی اشد ضرورت ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم آجروں کی جانب سے دی جانے والی تعلیم و تربیت پر توجہ مرکوز کئے ہوئے ہیں تاکہ وہ صنعت کی ضرورت کے مطابق تاحیات تربیت فراہم کرنے میں ہماری معاونت کرسکیں، انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ TVETسیکٹر میں انڈسٹری کی شراکت داری سے ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل ایجوکیشن اور ٹریننگ تک رسائی اور معیار میں بہتری آئے گی جس سے بالآخر تربیت یافتہ اور ہنر مند افرادی قوت میں اضافہ ہوگا اور ملک سے بیروزگاری کا خاتمہ ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ اسکل ڈیولپمنٹ ہی پورے خطے کیلئے امن اور خوشحالی کا سبب بن سکتی ہے ۔ انہوں نے غیر ملکی وفود کو کہا کہ چاردنوں میں آپ خود محسوس کریں گے کہ پاکستان ٹی وی پر دکھائے جانے والے معتصب عالمی میڈیا کی رپورٹس سے کہیں زیادہ خوبصورت ، امن پسند اور محفوظ ملک ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران ، ترکی اور سینٹرل ایشین ممالک کو بھی CPSCکی ممبر شپ دی جانی چاہیے۔ اس کے علاوہ مڈل ایسٹ کے ممالک کے لئے بھی اس کے دروازے کھلنے چاہئیں۔

سی پی ایس سی کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹررام ہری لامیچن نے کہا کہ یہ انٹرنیشنل کانفرنس پورے ایشیاءپیسیفک ریجن کیلئے فائدہ مند ثابت ہوگی اور اس پلیٹ فارم کے ذریعے TVETسیکٹر کو توانا بنانے کیلئے مختلف حکمت عملیاں زیر غور آئیں گی ۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس خطے کو قدرت نے نوجوان افرادی قوت سے نوازا ہے جن کو ہنر مند بناکر ہی پورے ریجن میں خوشحالی لائی جاسکتی ہے۔

اس کانفرنس میں غیر ملکی سفیرو ں، صنعتکاروں ، ماہرین تعلیم اور سرکاری افسران کے علاوہ دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے بھی شرکت کی ۔

مزید : لاہور