زرعی یونیورسٹی فیصل آبادنے کپاس کی موزوں ترین ورائٹی پر کام شروع کر دیا

زرعی یونیورسٹی فیصل آبادنے کپاس کی موزوں ترین ورائٹی پر کام شروع کر دیا

فیصل آباد(آن لائن)زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے ماہرین ٹھوس تحقیقاتی شواہد کی بنیاد پر آئندہ سال ضلعی سطح پر کپاس کی موزوں ترین ورائٹی کی نشاندہی میں کامیاب ہوجائیں گے جس کی وجہ سے کپاس کی فی ایکڑ پیداوار میں نمایاں اضافہ دیہی ترقی اور کسان کی معاشی حالت میں بہتری کی بنیاد بنے گا۔ آن لائن کے مطابق یونیورسٹی کے شعبہ ایگرانومی میں کلائمیٹ چینج ریسرچ ٹیم کے سربراہ پروفیسرڈاکٹر اشفاق احمد چٹھہ کے مطابق ان کی ٹیم نے مختلف ایگروایکالوجیکل زونز میں موسمیاتی تبدیلیوں کے تناظر میں بی ٹی کاٹن کی بہترین پیداوارکے قومی پروگرام میں پنجاب اور سندھ کے مختلف اضلاع میں سروے مکمل کر لئے ہیں جن کے نتائج کی روشنی میں بہت جلد ضلعی سطح پر موزوں ترین ورائٹی کی نشاندہی کر دی جائے گی۔ یونیورسٹی کے ڈی ایل سی تھری میں مستقبل کیلئے دیرپا بنیادوں پر کپاسکی پیداوار پر منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر اشفاق احمد چٹھہ نے بتایا کہ ملکی سطح پر گزشتہ کئی برسوں سے 15ملین گانٹھیں سالانہ پیدا ہورہی تھی تاہم سال 2015 میں بی ٹی کاٹن کے نام پر غیرمعیاری بیج کی فروخت درجہ حرارت اور بارشوں میں غیرمعمولی اضافے اور گلابی سنڈی کے حملہ سے پیداوار 10.7ملین گانٹھوں تک محدود ہوگئی جس کے نتیجہ میں معیشت کو اربوں روپے کا نقصان اٹھانا پڑا ۔ انہوں نے کہا کہ ہرچندپاکستان ماحولیاتی مسائل کے ذمہ دار ممالک میں شامل نہیں ہے تاہم موسمیاتی تبدیلیوں کے متاثرین میں دنیا کا ساتواں بڑا ملک بن چکا ہے ۔ انہوں نے خبردار کیا کہ موسمیاتی غیرپائیداری موسمیاتی تبدیلیوں سے زیادہ تشویشناک معاملہ ہے جس میں ماضی کے اعدادو شمار کے مقابلہ میں ہر سال نئے چیلنجز کیلئے نئی حکمت عملی درکار ہوتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ماضی قریب میں ضلع وہاڑی کی تحصیل میلسی میں کپاس کی پیداوار سندھ کی مجموعی پیداوار سے زیادہ ہوتی تھی تاہم مختلف مسائل و چیلنجز کی وجہ سے آج میلسی میں کپاس کم ہوتی جا رہی ہے۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ یونیورسٹی ماہرین کی تحقیقات کے نتیجہ میں کپاس کی پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ ہوگا جس سے اربوں روپے دیہی سطح پر منتقل ہونے کے ساتھ ساتھ شہروں میں بھی روزگار کے مواقع پیداہونگے۔ سیمینار سے شعبہ ایگرانومی کے اسسٹنٹ پروفیسرڈاکٹر تسنیم احمد نے بھی خطاب کیا۔

مزید : کامرس