متروکہ وقف املاک اور ایم ڈی اے نے غریبوں کے خواب چُرا لیے

متروکہ وقف املاک اور ایم ڈی اے نے غریبوں کے خواب چُرا لیے

ملتان (سٹی رپورٹر)متروکہ وقف املاک بورڈ کے 1998ء میں ایم ڈی اے سے طے کئے جانے والے معاملات عام شہریوں کے لئے وبال جان بن گئے۔ دل میں بسے خواب پورے کرنے کے حقداروں کو زمین کا قبضہ تاحال نہیں مل سکا۔ یاد رہے کہ ناردرن بائی پاس پر واقع متروکہ وقف املاک بورڈ (بقیہ نمبر11صفحہ12پر )

کی ملکیتی 91 ایکڑ پر مشتمل رقبے کو ایم ڈی اے کے ساتھ جوائنٹ ایڈونچر کے طور ماڈل ٹاؤن ہاؤسنگ سکیم کی بنیاد رکھی گئی جس میں 5ایکڑ کمرشل اراضی بھی شامل تھی جس کی ڈیویلپمنٹ کے لئے بورڈ نے ایم ڈی اے سے 28 اپریل 2009ء کو معاہدہ کیا جس کے تحت اراضی پر ڈیویلپمنٹ ایم ڈی اے نے کرنا تھی مگر منافع مساوی بنیادوں پر تقسیم کیا جانا تھا۔ معاہدے کے تحت اراضی کو مختلف پیمائش کے پلاٹس میں تقسیم کیا گیا۔ ڈیویلپمنٹ کے بعد 2009ء میں کمرشل اراضی کو 309 پلاٹس کی شکل دی گئی، معاہدے کے تحت 154پلاٹ متروکہ وقف املاک بورڈ کے حصہ میں آئے جبکہ باقی پلاٹ بورڈ نے 10 ہزار فی مرلہ کے حساب سے ایم ڈی اے کو فروخت کر دئیے۔ بعد ازاں بورڈ نے 2010ء میں 117 پلاٹس کی3 لاکھ فی مرلہ کے حساب سے نیلامی کی جس سے بورڈ کو 5 کروڑ 90 لاکھ 24 ہزار 867 روپے آمدنی حاصل ہوئی۔ نیلام کئے جانے والے پلاٹوں میں 99 پلاٹس بی بلاک جبکہ 18 پلاٹس اے بلاک کے تھے۔ مگر نیلامی اور خریداروں سے پیسے وصول کرنے کے بعد صلاح الدین مرزا نامی گمنام شخص کی درخواست پر بورڈ نے خریداروں کو پلاٹوں کا قبضہ دینے سے انکار کر دیا جس پر متاثرین نے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا، حقیقی حقداروں نے کیس جیتنے کے لئے اپنی جمع پونجی خرچ کر ڈالی اور کیس جیت گئے مگر متروکہ وقف املاک بورڈ کے حکام کو پھر بھی رحم نہ ا?یا اور ہائی کورٹ میں کیس ہارنے کے بعد بورڈ کروڑوں روپے دبانے کے لئے سپریم کورٹ جا پہنچا جہاں مالی استطاعت نہ ہونے کی وجہ سے حقدار سپریم کورٹ میں پیروی کرنے سے محروم ہو گئے۔ واضح رہے کہ پوری عدالتی کاروائی میں نیلامی کے خلاف درخواست گزار صلاح الدین مرزا نامی شخص نے آج تک کسی عدالتی کاروائی میں حصہ نہ لیا۔ جس بندے کا سرے سے وجودہی نہیں بورڈ اس کی درخواست پر قبضہ دینے سے انکاری ہے۔ 5سال گزر گئے مگر محکمہ کے کانوں پر جوں تک نہ رینگی جبکہ متروکہ وقف املاک بورڈ متاثرین کی جمع پونجی سے 6 کروڑ روپے کا منافع بھی حاصل کر چکا ہے۔

جمع پونجی

مزید : ملتان صفحہ آخر