ایچ بی ایل کا رضاکارانہ طور پر نیویارک کاروبار ختم کرنے کا فیصلہ

ایچ بی ایل کا رضاکارانہ طور پر نیویارک کاروبار ختم کرنے کا فیصلہ

کراچی(پ ر) ایچ بی ایل سال 1978 سے نیویارک میں اپنی برانچ کے ذریعے بنیادی طور پر امریکی ڈالر کی کلیئرنگ سروسز کی خدمات پیش کررہا ہے۔ سال 2015 میں نیویارک اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ آف فنانشل سروسز (DFS) اور فیڈرل ریزرو بینک آف نیویارک نے ایچ بی ایل پر کنسنٹ آرڈر اور سیز اور ڈیزسٹ آرڈر (Consent Order and Cease and Desist Order) لاگو کئے جس کے بارے میں ایچ بی ایل نے پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو آگاہ کر دیا تھا ۔ ایچ بی ایل کی جانب سے گزشتہ دو سالوں کے دوران انتہائی جامع اور موثر اقدامات کے باوجود DFSنے بینک کی کاوشوں کا نہ اعتراف کیا اور نہ ہی اسے سراہا۔ اس ضمن میں ایچ بی ایل کو DFS کی جانب سے محکمانہ سماعت کا نوٹس موصول ہوا ہے جس کے تحت 62 کروڑ 96 لاکھ 25 ہزار ڈالرز تک کا حیران کن سول مالیاتی جرمانہ تجویز کیا گیا ہے۔ فی الوقت کوئی جرمانہ عائد نہیں کیا گیا۔ اس سلسلے میں DFSحکام کے ساتھ بینک کی محکمانہ سماعت ہوگی جس میں حتمی جرمانے کا فیصلہ ہوگا ۔ ایچ بی ایل امریکہ میں اس نوٹس کی سماعت اور عدالتی کارروائیوں کا بھرپور انداز سے دفاع کرے گا کیونکہ یہ اقدام انتہائی غیرمنصفانہ، ناروا اور نامناسب ہے اور قانون سے مطابقت نہیں رکھتا۔ ایچ بی ایل نے نیویارک سے اپنا کاروبار رضاکارانہ طور پر ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ اس ضمن میں جلد ہی بتدریج کارروائی کا آغاز ہوگا۔ اس فیصلے سے ایچ بی ایل کے امریکہ سے باہر بزنس پر کوئی اثر نہیں پڑے گا اور ایچ بی ایل ملکی و بین الاقوامی صارفین کو اپنی خدمات بشمول اپنے ڈالر بزنس کی سروسز کی فراہمی جاری رکھے گا۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر