ِ پنجاب حکومت 2001کی طرح پھر ناکام تجربہ کرنا چاہتی ہے،مبشراحمد

ِ پنجاب حکومت 2001کی طرح پھر ناکام تجربہ کرنا چاہتی ہے،مبشراحمد

راولپنڈی( جنرل رپورٹر)آل پاکستان کلرکس ایسو سی ایشن(ایپکا) راولپنڈی ڈوہژن کے صدر چوہدری مبشراحمدنے ضلعی تعلیمی اتھارٹی اور ضلع ہیلتھ اتھارٹی کے قیام کو کلرکوں و ملازمین کے ساتھ حکومت کا استحصالی پروگرام قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومتِ پنجاب 2001کی طرح ایک دفعہ پھر ناکام تجربہ کرنا چاہتی ہے تو بڑے شوق سے کرے اس سے محکموں میں بہتری آنے کے بجائے محکموں کی حالتِ زار خراب ہوئی ان میں کوئی بہتری نہیں آئی اب مزید تباہی کی طرف دھکیل دیا گیا۔2001میں تو ملک میں آمریت قائم تھی اور ایک آمر بلا شرکت غیرے فیصلے مسلط کر رہا تھا وہاں تک کسی کی رسائی بھی نہ تھی تو عوام اور ملازمین کا استحصال ہوتا رہا اب جبکہ عوامی حکومت کا دور ہے تب بھی اگر افسر شاہی 2001سے بھی بد تر بحران پیدا کرنے میں کامیاب ہو گئی تو جمہوریت اور آمریت میں کیا فرق رہ گیا۔ اس نظام سے اساتذہ اور ملازمین کو سرکاری کنٹرول کے بجائے چیئرمینوں اور نامزد کردہ اتھارٹی ممبران کے تحویل میں دیا جا رہا ہے جو کسی بھی صورت میں کامیاب نہیں ہو گا۔ پہلے ہی لاکھوں ملازمین سرخ فیتہ کی چکی میں پس رہے ہیں پورے ضلع میں پچلے پندرہ سال سے ون میں شو رہا۔ اختیارات اس طرح دیئے گئے کہ ہر محکمہ میں ون میں شو کے بعد ہر ضلع میں ون مین شو اور اب تو صوبہ میں بھی یہء صورتِ حال جاری ہے اس سے ضلع راولپنڈی کے محکمہ ہیلتھ و تعلیم کے کلرکوں کو سب سے زیادہ نقصان اٹھانا پڑا جو کہ آج تک پورا نہیں ہو سکتا گذشتہ سو لہ سالوں سے محکمہ صحت میں ترقیاں نہیں عمل میں لائی گئیں جس سے تیس تیس سال سروس والے اہلکار آسامیاں خالی ہونے کے باوجود ترقی کے منتظر ہیں ۔ایپکا محکمہ تعلیم کے صدر راجہ آفتاب احمد نے کہا ہے کہ محکمہ تعلیم میں جو انتظامی دفاتر کے لیے عملہ مختص کیا گیا ہے وہ بالکل ناکافی ہے اس پر نظر ثانی کی سخت ضرورت ہے۔اگر حکومتَ پنجاب نے اتھارٹی کے قیام پر یہی روش جاری رکھی تو دفاتر کا چلنا نہ صرف محال ہوگا بلکہ تمام محکمہ کے دفاتر مفلوج ہو کر رہ جائیں گے۔ اس سے پہلے کہ یہ نظام بھی ناکام ہو حکومت دفاتر کو ان کی ضرورت کے مطابق عملہ فراہم کرے تاکہ گڈ گورننس کا خواب پور ہو سکے۔ ایپکا کی مرکزی نائب صدرشہزاد کیانی، صوبائی نائب صدرچوہدری مبشر، ملک عدالت حسین، راجہ شاہد محمود، چوہدری اجمل اورچوہدری ابرار علی نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت ضلعی دفاتر کے عملہ کو برقرار رکھے اور ڈویژنل سطع پرعملہ کی نئی آسامیاں منظور کرے بصورتِ دیگر آل پاکستان کلرکس ایسو سی ایشن احتجاج پر مجبور ہو گی اور مطالبات کی منظوری تک احتجاج جار رہے گا۔ ادھر تمام محکموں میں کلرکوں کی ترقیوں کے لیے پروموشن کمیٹیوں کے اجلاس بلانے اور بالخصوص محکمہ زراعت، سائل کنزویشن، مائنز، پولٹری اور زراعت توسیع میں سپرنٹنڈنٹ، ہیڈکلرکوں اور سینئر کلرکوں کی خالی آسامیوں پرپروموشن کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے جو بہت ضروری قرار دیا گیا ہے۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر