سندھ کے عوام کے ساتھ دھوکا اور فراڈ منظور نہیں، پاک سرزمین پارٹی نے بھی مردم شماری کے اعداد و شمار کو مسترد کر دیا

سندھ کے عوام کے ساتھ دھوکا اور فراڈ منظور نہیں، پاک سرزمین پارٹی نے بھی مردم ...
سندھ کے عوام کے ساتھ دھوکا اور فراڈ منظور نہیں، پاک سرزمین پارٹی نے بھی مردم شماری کے اعداد و شمار کو مسترد کر دیا

  


کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاک سرزمین پارٹی نے بھی مردم شماری کے اعداد وشمار کو مسترد کر دیا، پی ایس پی کے رہنما انیس ایڈووکیٹ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمیں مردم شماری کے نتائج قابل قبول نہیں، 18سال پہلے کراچی 98 لاکھ کا شہر کہا گیا ،کراچی میں لاکھوں پختون ، بلوچ اور دیگر قوموں کے لو گ آباد ہیں،پنجاب سے بھی لوگ سندھ اورکراچی میں آبادہوتے ہیں،دنیا کہہ رہی ہے سندھ کی آبادی 6 کروڑ سے زائد ہے اورصرف کراچی کی آبادی ڈھائی کروڑ سے زیادہ ہے ،ہر سال کراچی میں مختلف علاقوں سے سالانہ 10سے15لاکھ لوگ آتے ہیں،قومی مردم شماری میں ایک شہرکودوسرے پرفوقیت دی گئی اور لاہورکی آبادی میں 116 فیصد اضافہ دکھایاگیاجو سندھ کے ساتھ زیادتی ہے، انیس ایڈووکیٹ نے مردم شماری کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ عید کے بعدچھوٹے بڑے مظاہرے کریں گے اورمردم شماری پرتحفظات کے اظہارکیلئے عوام میں جائیں گے،انہوں نے کہا کہ سندھ سے ناانصافی ہوئی تو پاک سرزمین احتجاج کاحق رکھتی ہے، پی ایس پی کے رہنما کا کہنا تھا کہ مردم شماری سپریم کورٹ کے حکم پر کی گئی ہے ہماری عدالت عالیہ سے استدعا ہے کہ مردم شماری بوگس طریقے سے کی گئی مردم شماری کے نقائص کو دور کیا جائے ،انہوں نے بیوروکریسی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بتایا جائے کہ بیوروکریسی پاکستان کی خدمت کررہی ہے یاصوبوں کولڑارہی ہے؟انیس ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ مردم شماری سے وسائل کی منصفانہ تقسیم ہوتی ہے اوروسائل کی منصفانہ تقسیم سے ملک ترقی کرتاہے،کراچی کو منی پاکستان کہہ کر منی شہر تک تسلیم کرنے کو تیار نہیں ، مردم شماری کے اعدادوشمارسے نفرتیں پیداہوں گی ، لوگوں میں آگاہی کےلئے پی ایس پی ہرپلیٹ فارم استعمال کرے گی۔

مزید : کراچی