ٹکڑوں میں بٹی پیزے والی خوشیاں دے دو اُن کو

ٹکڑوں میں بٹی پیزے والی خوشیاں دے دو اُن کو
ٹکڑوں میں بٹی پیزے والی خوشیاں دے دو اُن کو

  


ماں نے کہا ’’آج دھونے کے زیادہ کپڑے مت نکالنا ‘‘

میں نے پوچھا ’’کیوں ؟‘‘

’’اس لئے کہ کام والی ماسی دو دن نہیں آئے گی ‘‘

میں نے سوالیہ انداز میں دیکھا توبولیں’’ اپنی نواسی سے ملنے بیٹی کے پاس جارہی ہے کہہ رہی تھی کہ دودن نہیں آئیں گی‘‘

’’ ماسی کو پانچ سو روپے دے دوں ؟‘‘ماں جی نے پوچھا۔

میں نے کہا’’ ابھی عید آرہی ہے تب دے دیں گے ‘‘

’’ارے نہیں بیٹا ! غریب ہے بیچاری بیٹی اور نواسی کے پاس جارہی ہے تو اسے بھی اچھا لگے گا اور کچھ اپنی نواسی کے لیے بھی لے جائے گی اس کی بیٹی اور نواسی بھی خوش ہوجائیں گی۔ ویسے بھی اس مہنگائی کے دور میں اس کی تنخواہ سے کیا بنتاہوگا ۔اپنوں کے پاس جارہی ہے ۔کچھ ہاتھ میں ہوگا تو اسے بھی اچھا لگے گا اورکچھ اپنی نواسی کے لیے بھی لے جائے گی اس کی بیٹی اور نواسی بھی خوش ہوجائیں گی‘‘

’’ماں آپ تو ضرورت سے زیادہ جذباتی ہو جاتی ہیں‘‘ مین نے ناگواری چھپا کر پھر بھی کہہ دیا۔ہم ایسی نسل کے لوگ ہیں جو ہر غریب کا مسئلہ جینوئن نہیں سمجھتے ۔

’’ فکر مت کرو زیادہ پیسے نہیں دوں گی ۔ ہم آج کا پیزا کھانے کا پروگرام منسوخ کردیتے ہیں خواہ مخواہ 500 اڑجائیں گے ۔اس موٹی روٹی پیزا کے آٹھ ٹکڑوں کے بدلے اس کی مدد کرنا بہتر ہوگا‘‘

تین دن بعد میں نے ماسی سے پوچھا ’’اماں کیسی رہی چھٹی ؟ ‘‘

ماسی نے کہا ’’ صاحب بہت اچھی رہی ۔ مالکن جی نے پانچ سو روپے دیے تھے ۔ بڑے کام آئے۔ اللہ سلامت رکھے آپ سب کو ۔کہنے لگیں میرا بیٹابڑا دیالو،اس نے خاص طور پر کہا ہے کہ ماسی عزیزوں سے ملنے جارہی ہے تو اسکی جیب میں پیسے ہونے چاہیءں ‘‘

میں نے اپنی شرمندگی چھپا کر کھسانے پن سے سوال کیا’’اماں 500 روپے کا کیا کیالیا‘‘

’’نواسی کے لیے 150 روپے کی فراک لی اور چالیس روپے کی گڑیا۔ بیٹی کے لیے 50 روپے کے پیڑے لے گئی تھی ۔50 روپے کی جلیبیاں محلے میں بانٹ دیں ۔60 روپے کرایہ لگ گیا تھا۔ 25روپے کی چوڑیاں بیٹی کے لیے اور داماد کے لیے 50 روپے کا بیلٹ لیا۔ باقی 75 روپے بچے تھے وہ بھی میں نے نواسی کو کاپی اور پنسل خریدنے کے لیے دے دیے ‘‘جھاڑو پونچھا لگاتے ہوئے پورا حساب اس کی زبان پر رٹا ہواتھا ۔اسکی آنکھیں تشکر سے بھری تھیں ،زبان پر ممنونیت تھی۔

میں حیران ہوا اور پیزے کے آٹھ ٹکڑوں کا موازنہ ماسی کے خرچ سے کرنے لگا ۔ پہلا ٹکڑا بچے کی ڈریس کا، دوسرا ٹکڑا پیڑے کا، تیسرا ٹکڑا محلے کے لوگوں کا ،چوتھا کرائے کا ،پانچواں گڑیا کا، چھٹا ٹکڑا چوڑیوں کا، ساتواں داماد کی بیلٹ کا اور آٹھواں ٹکڑا بچی کی کاپی پنسل کا۔پیزے کے آٹھ ٹکڑے مجھے زندگی کا مطلب سمجھاگئے تھے ۔ہم ان چھوٹی چھوٹی باتوں پر کبھی غور نہیں کرتے ۔ہمارے لیے پانچ سو یا ہزارروپے کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی لیکن یہ ہزار یا پانچ سو غریبوں کو دینا چاہین تو موت پڑجاتی ہے ۔ کاش ہم سب اپنی نامحسوس ہونے والی چھوٹی چھوٹی خوشیاں کسی کے نام کرکے ان کو بڑی محسوس ہونے والی خوشیا دیکر ایس نئی زندگی کا آغاز کرسکیں جس کھسیانا پن اور شرمندگی نہ ہو۔

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ