قتیل شفائی کی آپ بیتی. . .قسط نمبر 52

قتیل شفائی کی آپ بیتی. . .قسط نمبر 52
قتیل شفائی کی آپ بیتی. . .قسط نمبر 52

  


کمال امروہوی

الفت کی نئی منزل کو چلا

تو ڈال کے بانہیں بانہوں میں

دل توڑنے والے دیکھ کے چل

ہم بھی تو پڑے ہیں راہوں میں

میرا یہ گیت انڈیا اور پاکستان دونوں میں ہی بہت مقبول ہوا۔ اور اس کی وجہ سے ہر باذوق شخص مجھے جاننے لگا تھا ۔ اس زمانے میں پاکستان کا کوئی ریکارڈ وہاں کی گرامو فون کمپنی جاری نہیں کرتی تھی حالانکہ ہزماسٹر وائس کمپنی جو آجکل یہاں ای ایم آئی کے نام سے کام کر رہی ہے ایک بین الاقوامی کمپنی تھی اور اس کے دونوں ملکوں کی شاخوں کی ملکیت بھی ایک ہی تھی۔ لیکن یہاں کا کوئی ریکارڈ باضابطہ طور پر وہاں جاری نہیں کیا جا سکتا تھا۔

قتیل شفائی کی آپ بیتی. . .قسط نمبر 51  پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

اس حقیقت میں کوئی مبالغہ نہیں ہے کہ یہ ریکارڈ پاکستان سے ہزاروں کی تعداد میں سمگل ہو کر انڈیا گیا اور وہاں ستر روپے میں بکا جبکہ یہاں اس کی قیمت ڈھائی تین روپے تھے ۔ جب یہ ریکارڈ سمگل ہو کر ہزاروں کی تعداد میں انڈیا پہنچ گیا تو کمپنی نے مجبور ہو کر اسے باضابطہ طور پر اپنی بمبئی برانچ سے بھی جاری کیا۔ میرے علم کے مطابق کسی پاکستانی گیت کا وہاں سے باضابطہ طور پر جاری ہونے والا پہلا ریکارڈ تھا۔

میری یہی غزل مینا کماری سے میرے تعارف کا باعث بنی ۔ مینا کماری ایک باذوق خاتون تھیں۔ ادب سے دلچسپی رکھتی تھیں اور خود بھی شعر کہنے کا ذوق رکھتی تھیں۔ غالباً اسی ذوق کی وجہ سے کمال امرو ہوی صاحب سے ان کی شادی بھی ہوئی۔

یہ انہی دنوں کی بات ہے جب وہ کمال صاحب کی بیوی کی حیثیت سے وقت گزار رہی تھیں۔ ہوا ایسا کہ کمال صاحب سے میرا تعارف پہلے سے تھا جب میں بمبئی گیاتو چونکہ یہ مجھ سے سینئر تھے اس لئے میں اپنا فرض سمجھ کر ان سے ملنے کیلئے گیا۔ یہ میرے ساتھ بہت شفقت سے پیش آئے۔ آہستہ آہستہ یہ شفقت بے تکلفی میں بدل گئی اور ہم دوستی کی ا س نہج پر آگئے جہاں انسان ایک دوسرے کو بے تکلفی سے مخا طب بھی کر سکتا ہے۔ ایک دو ملاقاتوں میں ہم بہت قریب آچکے تھے۔

کمال صاحب ‘ ڈائیلاگ کے معاملے میں اتنی شہرت رکھتے ہیں کہ آج بھی شاید لوگوں میں ان کی اس شہرت کو چھونے کی ہمت کم ہو ۔ کیونکہ میں خود لفظیات اور لفظیات کی صوت کا طالب علم ہوں اور میں سمجھتا ہوں کہ قدرت نے یہ علم مجھے و دیعت کر رکھا ہے اس لئے میں نے دیکھا کہ ان کے مکالموں میں بھی وہی چیز موجود تھی ۔ ان مکالموں میں غنائیت یا موسیقی تو نہیں تھی لیکن یہ ایسے متاثر کن جملے ہوتے تھے جو ختم ہونے کے بعد دل کے ساتھ چپک کر رہ جاتے تھے ۔ میری کمال صاحب سے اس موضوع پر گفتگو ہوئی۔

ضرور پڑھیں: ڈالر مہنگا ہو گیا

انہوں نے میری شاعری کے اس پہلو کو پہلے سے محسوس کر رکھا تھا اور جب انہوں نے اس بارے میں مجھ سے بات کی تو میں نے کہا ’’صاحب وہ تو شاعری ہے اور شاعری میں تو ایسا ہوہی جاتا ہے لیکن آپ مجھے اپنے بارے میں بتائیے کہ آپ کے یہاں الفاظ کی یہ کیا Jugglery ہے۔ میں نے دیکھا ہے کہ قانون کا ایک غلط فیصلہ بھی آپ کے ڈائیلاگ کے زور سے صحیح ثابت ہو جاتا ہے ۔ مثال کے طور پر چند ر موہن کی ایک فلم میں جب نسیم بانو ملکی بنتی ہے اور اس کے تیر سے کسی عورت کا خاوند مر جاتا ہے اور اس پر مقدمہ چلتا ہے تو سیدھی بات تو یہ ہے وہ قاتل ہے اور اسے سزا ملنی چاہیے لیکن شہنشاہ فیصلہ یہ دیتے ہیں کہ چونکہ اس نے تمہیں بیوہ بنایا ہے اس لئے تم بھی اسے بیوہ بنا دو۔ اب یہ فیصلہ بالکل غلط تھا لیکن آپ نے ڈائیلاگ کے زور سے وہ جادو کیا کہ کسی نے یہ سوچا ہی نہیں کہ بادشاہ نے کتنا غلط فیصلہ دیا ہے۔ بلکہ اس ڈائیلاگ پر ہال میں ہر شو میں تالیاں بجتی تھیں‘‘

کمال صاحب میری بات سن کر بڑے ہنسے اور پھر مجھے ایک کاغذ دکھا کر کہنے لگے ’’ یہ دیکھئے یہ ایک جملہ ہے اس کے آٹھ الفاظ ہیں۔ انہی آٹھ الفاظ کو میں یوں کہتا ہوں تو ان کا تا ثر یہ بنتا ہے لیکن جب میں ایک لفظ کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جا کر وہ جملہ ادا کرتا ہوں تو اس کا اثر بالکل بدل جاتا ہے چنانچہ میں جب ڈائیلاگ لکھتا یوں تو اکثر جملے تو خود بخود ذہن میں آجاتے ہیں لیکن جہاں ذہن ذرا اٹکتا ہے تو میں اس طرح یہ جملے پڑھتا ہوں۔ اور الفاظ کی ترتیب بدل کر تنہا کمرے میں باقاعدہ ڈائیلاگ بول کے دیکھتا ہوں۔تب جا کر کہیں یہ ڈائیلاگ کاغذ پر لکھتا ہوں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ میرا ہر ڈائیلاگ وہی اثر رکھتا ہے جس کا آپ نے ذکرکیا ہے‘‘

کمال صاحب سے میں نے الفاظ کی جگہ تبدیل کرنے کا یہ فن سیکھا اور حقیقت یہ ہے کہ کوئی مجھ سے بڑا ہو یا چھوٹا ہو لیکن اگر مجھے اس میں کوئی روشنی نظر آئے تو میں ضرور یہ کوشش کرتا ہوں کہ اس روشنی سے اپنے آپ کو تھوڑا سا منور کر لوں۔ زندگی بھر میرا یہی دستور رہا ہے۔ میں نے سکھا نے کا دعویٰ کبھی نہیں کیا لیکن سیکھنے کا دعویٰ ضرور کرتا ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ میں نے کمال صاحب سے باقاعدہ سوال کر کے ان کی اس خوبی کے بارے میں پوچھا۔

کمال صاحب نے مجھ سے کہا’’ ہماری بیگم آپ کی شاعری کی دلدادہ ہیں اور محض ریکارڈوں کی حد تک ہی نہیں بلکہ آپ دیکھیں گے کہ ان کے پاس آپ کی تصنیف بھی موجود ہے‘‘ اس وقت تک میری ایک ہی کتاب ’’گجر ‘‘ آئی ہوتی تھی۔ انہوں نے مجھے کہا’’ میری بیگم چاہتی ہیں کہ آپ ہمارے ساتھ کھانا کھائیں ‘‘ میں نے ہامی بھر لی۔

میرے ذہن میں مینا کماری کے نام کا بڑا رعب تھا۔ میں سوچتا تھا کہ وہ اتنی بڑی آرٹسٹ اور اتنی بڑی ہیروئن ہیں کہ میں ان سے کس طرح ملوں گا۔ ان کا معاملہ بالکل الٹ تھا۔ چنانچہ جب ہم کھانے پر بیٹھے تو پہلے تو مینا کماری میری کتاب لائیں اور پھر بڑی مؤدب ہو کر کہنے لگیں ’’ اس پر اپنا آٹو گراف دے دیں‘‘ پھر ’’ہم بھی تو پڑے ہیں راہوں میں ‘‘ کا ریکارڈ لائیں اور اس پر بھی آٹو گراف لیا۔

میں دیکھ رہا تھا کہ ایسا کرتے ہوئے ان کے ہاتھوں میں ہلکا سالرزہ آجاتا تھا۔ جب کھانے کے لئے بیٹھے تو ان کے ہاتھ سے دوبار چمچ گرا ۔ جب میں بات کرتا تھا تو ان پر کچھ ایسا اثر ہوتا تھا جیسے میں ان کی نظر میں بہت بڑا ہوں اور وہ مجھے Face نہیں کر پا رہیں۔ اس کا تجزیہ یہی ہے کہ جس طرح میں ان کے فن سے بہت متاثر تھا اسی طرح وہ بھی فنکار اور شاعرہ اور میری شاعری کی دلدادہ ہونے کی وجہ سے جب میں پہلی بار ان کے سامنے گیا تو ان پر بھی وہی اثر ہوا جو مجھ پر ہوا تھا۔

ایک بات جو خاص ہوئی وہ یہ تھی کہ کھانے پانچ سات بنے ہوئے تھے۔ میں نے ان میں سے ایک کھانے کی اس طرح داد دی جیسے کوئی سخن فہم آدمی غزل کے اس شعر کی داد دیتا ہے جسے شاعر بھی اپنا حاصل غزل شعر سمجھتا ہے ۔ اس کھانے پر میں نے داد دی تو دونوں میاں بیوی میری طرف دیکھنے لگے اور پھر ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر کچھ سوچا اور کہا کہ ہمیں اس بات کا پتا ہی نہیں تھا کہ آپ یہ ذوق بھی رکھتے ہیں۔

میں کوئی تین ماہ تک بمبئی میں رہا اور اس کے بعد وہ ہمیشہ یہ کرتے تھے کہ جب بھی ان کے ہاں انوکھی چیز پکتی تھی تو اکثر ان کاآدمی مجھے تلاش کر کے لے جاتا تھا اور وہ مجھے کھانے میں شامل کرتے تھے۔

بظاہر ان کی زندگی بڑی اچھی تھی لیکن ادھر اُدھر سے کانوں میں آواز بھی پڑجاتی تھی کہ کوئی گڑ بڑ بھی ہے اور دونوں ایک دوسرے سے آسودہ نہیں ہیں بالخصوص مینا کماری ۔ اس زمانے میں ’’پاکیزہ ‘‘ فلم کا ابتدائی حصہ فلمایا جا رہا تھا۔ میں سیٹ پر گیا تو دونوں میاں بیوی نے میرے ساتھ تصویر بھی بنوائی۔ مجھے بالکل ایسی کوئی بات نظر نہیں آرہی تھی کہ ان میں کوئی اختلاف ہے لیکن جب میں انڈیا سے واپس آگیا تو بعد میں پتا چلا کہ دونوں میں اختلافات بڑھ گئے ہیں اور علیحدگی بھی ہو گئی ہے۔

مگر اس خاتون کی عظمت دیکھئے کہ جب علیحدگی ہوئی تو فلم ادھوری تھی اور اس پر لاکھوں روپے لگے ہوئے تھے ۔ اگر وہ چاہتی اور آرٹسٹ نہ ہوتی تو کمال صاحب سے بدلہ لیتی اور فلم کا باقی کام نہ کرتی۔ لیکن بہت سے اختلاف رکھنے کے باوجود مینا کماری نے باقی فلم مکمل کروائی اور سنا ہے کہ آخری دنوں میں بیماری کی وجہ سے اس قابل نہیں تھیں کہ فلم میں کام کر سکیں لیکن انہوں نے کمال صاحب کیلئے اس میں کام کیا۔

اس کے بعد کے دن ایسے آئے کہ انہوں نے اپنے دکھ درد کو مٹانے کیلئے شراب کا سہارا لیا اور گرتے گرتے اس حالت کو پہنچیں کہ بیان بھی نہیں کیا جا سکتا۔ ہم معاشرے کو فیشن کے طور پر بھی برا بھلا کہتے رہتے ہیں لیکن اس خاتون کے ساتھ معاشرے نے جو کیا وہ معاف نہیں کیا جا سکتا ۔ وہ ایک ایسی خاتون تھی کہ جس شخص کے ساتھ بھی اس کا رابطہ ہوا وہ پھلا پھولا۔ آج کے کئی بڑے نام مینا کماری کے نام سے وابستہ ہیں کیونکہ مینا کماری نے ہ شخص کو فائدہ پہنچایا ۔ مگر ان سب بڑے ناموں کے باوجود مینا کماری بہت چھوٹی ہو کر مری اور جن کو اس نے بڑا بنایا تھا انہوں نے اس کی کوئی خبر نہ لی۔ سنا ہے کہ مرنے کے بعد اس کے جنازے میں جتنے لوگوں نے شرکت کی وہ بمبئی کی فلم انڈسٹری کے لئے کوئی قابل فخر بات نہیں۔خدا اسے جنت دے اور اس کی روح کو سکون دے کیونکہ یہاں اس نے بڑی تکلیفیں برداشت کیں۔

ہم ہر مرنے والے کے بعد کہتے ہیں کہ اس کی جگہ پر نہیں ہو گی لیکن وہ اتنی بڑی آرٹسٹ تھی کہ اس مرنے والی کے بعد واقعی آج تک اس کی جگہ پر نہیں ہوئی۔(جاری ہے )

قتیل شفائی کی آپ بیتی. . .قسط نمبر 53 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : گھنگروٹوٹ گئے