’میرے والد فوج میں تھے، انہیں 1971ءمیں بھارت نے جنگی قیدی بنالیا، گرفتاری کے فوراً بعد انہیں ایک ٹرین میں بٹھایا گیا جس میں۔۔۔‘ پاکستانی خاتون نے اپنے فوجی والد کے بارے میں ایسی بات بتادی کہ ہر پاکستانی کی آنکھیں نم کردیں

’میرے والد فوج میں تھے، انہیں 1971ءمیں بھارت نے جنگی قیدی بنالیا، گرفتاری کے ...
’میرے والد فوج میں تھے، انہیں 1971ءمیں بھارت نے جنگی قیدی بنالیا، گرفتاری کے فوراً بعد انہیں ایک ٹرین میں بٹھایا گیا جس میں۔۔۔‘ پاکستانی خاتون نے اپنے فوجی والد کے بارے میں ایسی بات بتادی کہ ہر پاکستانی کی آنکھیں نم کردیں

  


لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) وطن کی حفاظت کے لئے شب و روز سرحدوں پر پہرہ دینے والے فوجی جوان ہمارے دلوں کی دھڑکن ہیں اور ہر ایک پاکستانی، وہ بچہ ہو یا جوان، امیر ہو یا غریب، مزدور ہو یا کسان، ان سے محبت کرتا ہے۔ اگرچہ اس محبت کا اظہار ہمیں جا بجا ملتا ہے لیکن جس طرح ایک پاکستانی فوجی افسر کی بیٹی نے اپنے بہادر باپ کی یادوں کو تازہ کیا ہے، ایسی جذباتی کر دینے والی داستان کم ہی سننے میں آتی ہے۔ ویب سائٹ ’الجزیرہ‘ پر شائع ہونے والی اس خصوصی تحریر میں سنیعہ احمد پیرزادہ وطن کی محبت میں ناقابل تصور تکالیف کا سامنا کرنے والے اس فوجی افسر کی کہانی کچھ یوں بیان کرتی ہیں:

یہ وہ کہانی ہے جو میں ایک مدت سے سنانا چاہ رہی تھی۔ دراصل یہ کہانی ہمیشہ میرے ساتھ رہی ہے لیکن میں کبھی اسے کاغذ پر منتقل نہیں کرپائی۔ یہ میرے والد میجر نعیم احمد کی کہانی ہے۔ وہ 26 جنوری 1946ءکے روز لاہور سے تعلق رکھنے والے ایک متوسط گھرانے میں پید اہوئے۔ وہ زمانہ طالبعلمی میں ایک شاندار اتھلیٹ تھے اور گورنمنٹ کالج جیسے اعلیٰ ترین تعلیمی ادارے میں ان کی کامیابیوں کی یادیں آج بھی باقی ہیں۔

سعودی شہری نے قربانی کے تمام ریکارڈ توڑ دئیے، 36 کروڑ میں صرف ایک جانور اور وہ بھی۔۔۔ پوری دنیا حیرت کے سمندر میں ڈوب گئی، کیا خریدا؟ جان کر آپ کیلئے یقین کرنا مشکل ہو جائے گا

گریجوایشن مکمل کرنے کے بعد انہوں نے جون 1968ءمیں پاک فوج میں کمیشن حاصل کیا۔ پاکستان ملٹری اکیڈمی سے تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ مزید تربیت کیلئے کراچی بھیج دئیے گئے۔ جب 1971ءکی جنگ شرو ع ہوئی تو میرے والد کو بنگلہ دیش میں ایک اسلحہ ڈپو میں تعینات کیا گیا۔ ان کی ذمہ داری اسلحہ کی ترسیل تھی جس کیلئے بعض اوقات وہ خود ریل گاڑی چلا کر لے جایا کرتے تھے۔

جب 16 دسمبر 1971ءکے روز ہزاروں پاکستانی فوجیوں کو جنگی قیدی بنالیا گیا تو میرے والد کیلئے ایک نئی جنگ کا آغاز ہوا۔ انہیں ڈھاکہ میں اسلحہ پہنچانے کیلئے بھیجا گیا تھا لیکن ان کے کمانڈر کو مقامی جغرافیے کا اچھی طرح علم نہیں تھا جس کی وجہ سے انہیں غلط سمت میں بھیج دیا گیا۔ جنگل میں بھارتی فوج نے ان پر حملہ کردیا لیکن انہوں نے اپنے ساتھ موجود 150 فوجیوں کی قیادت کرتے ہوئے نہایت بہادری سے مقابلہ کیا۔ تین گھنٹے بعد جب بندوقیں خاموش ہوئیں تو 64پاکستانی فوجی شہید ہوچکے تھے جبکہ 26 بھارتی بھی مارے گئے تھے۔ میرے والد کی بہادری کو دیکھتے ہوئے بھارتی فوجیوں کو حکم دیا گیا تھا کہ انہیں زندہ پکڑا جائے۔ ان کے خلاف لڑنے والے میجر راجپال نے بعدازاں کہا ”ہمیں بتایا گیا تھا کہ یہ اسلحہ پہنچانے والے فوجی ہیں لیکن وہ ماہر تربیت یافتہ انفنٹری کی طرح لڑے۔“

میرے والد اس لڑائی میں شدید زخمی ہوگئے تھے۔ ان کی ٹانگ میں گولی لگی تھی، بائیں آنکھ کی بینائی ضائع ہوگئی تھی اور ان کا دماغ بھی بری طرح متاثر ہوا تھا۔ ڈھاکہ میں ان کے ابتدائی علاج کے بعد انہیں جنگی قیدی بنا کر بھارتی ریاست بہار لیجایا گیا۔ انہیں جس ٹرین میں لیجایا گیا اس کی کھڑکیوں کو لکڑی کے تختوں سے ڈھانپا گیا تھا تا کہ باہر موجود مشتعل ہجوم کو پتا نہ چلے کہ اندر قیدی بنائے گئے پاکستانی فوجی تھے۔ جب وہ رانچی کے کیمپ 95 میں پہنچے تو ان کے پاس تن کے کپڑوں کے سوا کچھ نہ تھا۔ قید کے دوران انہوں نے بے شمار صعوبتیں برداشت کیں اور ان کے نفسیاتی و ذہنی مسائل نے اس قید کو ان کے لئے مزید تکلیف دہ بنا دیا تھا۔

فروری 1974ءمیں ہزاروں دیگر فوجیوں کے ساتھ انہیں بھی واپس پاکستان بھیج دیا گیا۔ وطن واپسی پر ان تمام جنگی قیدیوں کو ’بلیک‘ قرار دے کر فوج کے لئے غیر موزوں قرار دے دیا گیا اور یہاں کوئی بھی ان کیلئے مثبت جذبات نہیں رکھتا تھا۔ میرے والد کی ٹانگ میں لگی گولی بالآخر دو سال بعد نکالی گئی جبکہ ان کی ایک آنکھ کی بینائی ضائع ہونے کی وجہ سے انہیں 50 فیصد معذور قرار دیا گیا۔ 1984ءمیں جب وہ کوئٹہ میں تھے تو ان کے ذہنی مسائل میں شدت آچکی تھی۔ انہیں اعداد اور تاریخیں تو یاد رہتی تھیں لیکن باقی چیزیں بھول جایا کرتے تھے۔ بعدازاں جب انہیں کراچی بھیجا گیا تو یہ مسائل اور شدید ہوچکے تھے۔

23مارچ 1986ءکے دن انہیں بحریہ کے ایک ہسپتال میں داخل کیا گیا، جس کے بعد 1987ءمیں انہیں لاہور کے ایک فوجی ہسپتال میں داخل کیا گیا۔ جنوری 1989ءمیں ایک نوجوان سائیکاٹرسٹ نے ان کا علاج شروع کیا جو ادویات کی بجائے بہیورئیل تھیراپی کو زیادہ اہمیت دیتے تھے۔ ان کی حالت میں کچھ بہتری آئی، لیکن مثبت پیش رفت بہت زیادہ نہ تھی۔

ان مسائل کے باوجود وہ ہمیں خوش رکھنے کے لئے ہر ممکن کوشش کرتے تھے۔ ایک روز وہ ہمیں ایک ائیرشو میں لے کر گئے جہاں سے واپسی کے دوران اچانک وہ بولنے کی صلاحیت سے بھی محروم ہوگئے۔ دسمبر 1993ءمیں انہیں مرگی کا مرض بھی لاحق ہوگیا۔

پاکستانی لوگ مہمان نواز ، ہنس مکھ اور جینے کا ہنر جاننے والے ہیں: امریکی کامیڈین

جب مارچ 1994ءمیں لاہور کے جنرل ہسپتال میں ان کے دماغ کا سی ٹی سکین کیا گیا تو ڈاکٹر اس بات پر حیرت زدہ رہ گئے کہ وہ کیسے زندہ تھے۔ ان کے دماغ میں گولیوں کے پرخچے سینکڑوں کی تعداد میں موجود تھے، اور اس بات کا انکشاف پہلی بار ہو رہا تھا۔ نیوروسرجن کا کہنا تھا کہ وہ الزائمرز کے بھی مریض ہیں اور تقریباً چھ ماہ بعد ان کا جسم بے حس و حرکت ہوچکا ہوگا۔ وہ اپنی بیماری سے بہت ثابت قدمی کے ساتھ لڑتے رہے، لیکن 1995ءکی ایک شام جب وہ صوفے پر بیٹھے تھے تو اچانک زمین پر گرگئے اور ان کا جسم بری طرح جھٹکے کھانے لگا۔ انہیں ہسپتال لے جایا گیا، اور اس کے بعد بھی وہ بے شمار بار ہسپتال گئے۔ شدید ترین بیماری کے باوجود ان کی ہمت اور مقابلے کا جذبہ بے مثال تھا۔

رفتہ رفتہ ان کی بیماری شدید سے شدید تر ہو گئی تھی۔ اگست 2000ءمیں انہیں دوبارہ ملٹری ہسپتال لیجایا گیا جہاں وہ 10ہفتوں تک کومے میں رہے۔یہ 30 اکتوبر کا دن تھا کہ جب میں معمول کے مطابق ان سے ہسپتال میں ملنے گئی۔ میرے کانوں میں مغرب کی اذان کی آواز سنائی دی۔ میں ہمیشہ ان کی صحتیابی کے لئے دعا کیا کرتی تھی لیکن اس روز میں نے دعا کہ اے خدا ان کے حق میں جو بہتر ہے فرما دے۔ اس شام چھ بجکر چھتیس منٹ پر وہ اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس