بھارتی سیکیورٹی اداروں کی ’’سچا سودا ‘‘ میں بڑی کارروائی ،رام رحیم سنگھ کی قید سے 18سال سے کم عمر اٹھارہ لڑکیاں بازیاب،مکمل جسمانی معائنہ کرانے کا حکم

بھارتی سیکیورٹی اداروں کی ’’سچا سودا ‘‘ میں بڑی کارروائی ،رام رحیم سنگھ کی ...
بھارتی سیکیورٹی اداروں کی ’’سچا سودا ‘‘ میں بڑی کارروائی ،رام رحیم سنگھ کی قید سے 18سال سے کم عمر اٹھارہ لڑکیاں بازیاب،مکمل جسمانی معائنہ کرانے کا حکم

  


نئی دہلی (ڈیلی پاکستان آن لائن)بھارتی ریاست ہریانہ کے اعلیٰ سیکیورٹی حکام نے سکھوں کی مشہور درگاہ ’’سچا سودا ‘‘ پر بھاری نفری کے ہمراہ چھاپہ مارتے ہوئے 18سال سے کم عمر اٹھارہ لڑکیوں کو درگاہ کے سزا یافتہ سربراہ گرمیت رام رحیم سنگھ کی مبینہ قید سے آزاد کراتے ہوئے ان کے مکمل جسمانی معائنہ کرانے کا اعلان کیا ہے ۔درگاہ میں رہائش رکھے 650افراد کو بھی ان کے گھروں میں واپس بھیج دیا گیا ،ہریانہ اور بھارتی پنجاب سمیت دیگر علاقوں میں موبائل اور انٹرنیٹ سروسز بحال ،سکولز اور کالجز کھولنے کا اعلان ۔

بھارتی نجی ٹی وی چینل ’’ زی نیوز ‘‘ کے مطابق ہریانہ کے حکام نے منگل کو ڈیرہ سچا سعدا ہیڈکوارٹر سے 18 نابالغ لڑکیوں کو آزاد کراتے ہوئے انکو طبی معائنے کے لئے بھیجنے کا اعلان کیا ہے ۔سرسا کے ڈپٹی کمشنر پریجھوت سنگھ کا کہنا تھا کہ کہ انہوں نے ڈیرہ سچا سودا میں تمام ضروری قانونی کارروائی کرتے ہوئے یہاں سے 18سال سے کم سن 18لڑکیوں کے ایک گروپ کو بازیاب کرا یا ہے جن کا مکمل طبی معائنہ کروایا جائے گا ، تحقیقات مکمل ہونے تک یہ اٹھارہ لڑکیاں چائلڈ پروٹیکشن بیورو کی حفاظتی تحویل میں رہیں گی جس کے بعد انہیں ریاست چائلڈ پروٹیکشن بیورو کے مختلف اداروں میں مستقل طور پر بھیجا جائے گا ۔انہوں نے کہا کہ آج کی کارروائی میں سچا سودا میں رہنے والے 650افراد کو بھی وہاں سے نکالتے ہوئے انہیں ان کے گھروں میں بھیجا گیا ہے جبکہ اب وہاں پر رہائش رکھنے والے افراد کی تعداد ڈھائی سو سے 3سو کے درمیان ہے ۔ڈپٹی کمشنر کا کہنا تھا کہ سرسا میں اب مکمل امن قائم ہے اور حالات معمول کی طرف آ رہے ہیں ،جبکہ ریاست ہریانہ میں معطل ہونے والی موبائل اور انٹر نیٹ سروسز بھی بحال کر دی گئی ہیں جبکہ تعلیمی اداروں اور بینکوں کو بھی دوبارہ معمول کے مطابق کھول دیا گیا ہے تاہم حالات نارمل ہونے کے باوجود ریاست ہریانہ کے مختلف اضلاع میں نارمل حالات کے باوجود بھارتی فوج اور سیکیورٹی اداروں کی بڑی تعداد تعینات رہے گی ۔

مزید : بین الاقوامی