جنوبی پنجاب صوبہ۔۔۔کیا اقدامات کئے جا رہے ہیں؟

جنوبی پنجاب صوبہ۔۔۔کیا اقدامات کئے جا رہے ہیں؟

  

وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے کہا ہے کہ نئے پاکستان میں پسماندہ علاقوں کی ترقی اور غریب عوام کی محرومیوں کا ازالہ ہو گا، تبدیلی کے لئے عوام سے کئے گئے وعدے نبھائیں گے، میرٹ اور گڈ گورننس پاکستان تحریک انصاف کی ترجیحات میں سرفہرست ہے، قانون کی حکمرانی کو پوری قوت سے نافذ کریں گے، اقربا پروری کا مکمل خاتمہ کر کے میرٹ اور انصاف کا بول بالا کیا جائے گا۔ وزیراعظم عمران خان کے تبدیلی کے خواب کی تعبیر کے لئے پنجاب ہر اول دستے کا کردار ادا کرے گا، جنوبی پنجاب کے پسماندہ علاقوں کے مسائل کے حل کے لئے مخلصانہ کاوشیں کی جائیں گی، سرکاری وسائل کو امانت سمجھ کر دیانتداری سے خرچ کریں گے۔عمران خان کے سو دن کے ایجنڈے پر عملدرآمد کے لئے کوئی کسر اُٹھا نہیں رکھیں گے۔انہوں نے کھلی کچہریاں لگانے اور ضلع اور ڈویژنوں کے دوروں کا بھی اعلان کیا۔انہوں نے اِن خیالات کا اظہار ڈیرہ غازی خان اور تونسہ کے معززین سے ملاقات کے دوران کیا۔صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے کہا ہے کہ سو دن میں عوام کو حقیقی تبدیلی نظر آئے گی، ہیلتھ کارڈ پنجاب میں بھی دیا جائے گا۔

پنجاب کے وزیراعلیٰ منتخب ہونے کے بعد عثمان بزدار مسلسل جن خیالات کا اظہار کرتے چلے آ رہے ہیں اُن سے تو کسی کو اختلاف نہیں ہو سکتا،انہوں نے وزیراعظم عمران خان کے سو دن کے ایجنڈے کا بھی بار بار ذکر کیا ہے، جس میں جنوبی پنجاب صوبے کا قیام سرفہرست ہے،لیکن اب وہ اس کا نام نہیں لے رہے، بس اس علاقے کی پسماندگی کا ذکرکرتے ہیں، اب دیکھنا ہو گا کہ وہ اِس ایجنڈے کو کس طرح روبعمل لاتے اور عوام الناس کے اطمینان کا باعث بنتے ہیں، سو دن کے ایجنڈے میں بہت سے ایسے وعدے وعید ہیں جن کی تکمیل تو وفاقی حکومت کرے گی،لیکن بہت سے امور وہ ہیں جو پنجاب حکومت کو کرنے ہوں گے ان میں اگر اہمیت اور اوّلیت کے حساب سے دیکھا جائے تو جنوبی پنجاب صوبے کی تشکیل کا معاملہ ایسا ہے جو صوبے کے عوام کو بنیادی طور پر متاثر کرے گا۔ جنوبی پنجاب صوبے کے حوالے سے دیکھنے والی بات یہ ہے کہ اس کی حدود کہاں سے کہاں تک ہوں گی،کیونکہ ابھی تک اِس سلسلے میں کوئی زیادہ ہوم ورک کسی جماعت نے نہیں کیا،ممکن ہے تحریک انصاف نے اِس سلسلے میں کوئی کام کیا ہو، کیونکہ پہلے سو دِنوں کے اندر یہ صوبہ بنانے کا وعدہ اِس کے بعد ہی کیا گیا ہو گا، یہ کام چونکہ خاصی سنجیدگی کا متقاضی ہے اِس لئے امید کی جا سکتی ہے کہ وفاقی اور پنجاب حکومتوں نے مل کر اِس سلسلے میں کام شروع کر دیا ہو گا۔جب تحریک انصاف نے اپنے سو دن کے ایجنڈے کا اعلان کیا تھا اس وقت تو اُسے معلوم نہیں تھا کہ پنجاب میں اس کی حکومت بنے گی یا نہیں اور اگر بنے گی تو اس کا چیف ایگزیکٹو، یعنی وزیراعلیٰ جنوبی پنجاب کے ایک پسماندہ علاقے سے تعلق رکھنے والا ہو گا اِس لئے اسے ان علاقوں کی خوش قسمتی سمجھا جانا چاہئے کہ صوبے کی قیادت ایک ایسے وزیراعلیٰ کے پاس آ گئی ہے جو نہ صرف پسماندہ علاقے سے تعلق رکھتا ہے،بلکہ ان علاقوں کے مسائل کا بھی کماحقہ ادراک رکھتا ہے اور بار بار اعلان بھی کر رہا ہے کہ وہ یہ مسائل حل کرے گا۔

اتفاق کی بات ہے کہ پنجاب کی کابینہ میں جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے چار وزراء کو نمائندگی دی گئی ہے، پانچویں خود وزیراعلیٰ ہیں، اِس لئے ان وزراء پر مشتمل ایک ٹاسک فورس یا کمیٹی بنا دی جائے جو مجوزہ صوبے کے حدود اربعے اور خدوخال کے متعلق فیصلے کر لے،کیونکہ ایسی تفصیلات طے کئے بغیر صوبہ بنانے کا کام آگے نہیں بڑھ سکتا،اتفاق سے صوبے کی اپوزیشن جماعت مسلم لیگ(ن) کو بھی اس سے زیادہ اختلاف نہیں اِس لئے قائد حزب کی مشاورت سے یہ کام خوش اسلوبی سے پایۂ تکمیل تک پہنچایا جا سکتا ہے جہاں تک پیپلزپارٹی کا تعلق ہے وہ تو صوبہ بنانے کی پُرجوش حامی ہے اور اپنے انتخابی منشور میں بھی اس نے صوبے کا وعدہ کیا تھا، یہ الگ بات ہے کہ جنوبی پنجاب میں یہ نعرہ بھی پارٹی کے لئے کامیابی کی کوئی نوید لے کر نہیںآیا تاہم پنجاب اسمبلی میں اِس کے دس ارکان موجود ہیں ان سب کی معاونت اور مشاورت سے اِس کام کو آگے بڑھایا جا سکتا ہے اور آئینی ضرورت پوری کرنے کے لئے پنجاب اسمبلی سے دوتہائی اکثریت سے قرارداد منظور کرائی جا سکتی ہے،کیونکہ اس کے بغیر اِس ضمن میں پیش رفت مشکل ہو گی، نیا صوبہ بنانے کے لئے آئین میں ترمیم کی بھی ضرورت ہے اس کے لئے بھی پارلیمینٹ کے دونوں ایوانوں میں دوتہائی اکثریت سے ترمیم منظور ہونا ضروری ہے، جو اگرچہ تحریک انصاف کے پاس موجود نہیں ہے تاہم پیپلزپارٹی کے تعاون سے یہ مرحلہ بھی بخوبی طے ہو سکتا ہے۔

بظاہر یہ محسوس کیا جا رہا ہے کہ تحریک انصاف کے حلقوں میں اب جنوبی پنجاب صوبے کی صدائے باز گشت کم کم ہی سُنی جا رہی ہے، صوبے کی تشکیل کے لئے الیکشن سے قبل جو محاذ بنا تھا وہ تو زیادہ دن قائم نہ رہ سکا اور بعد میں تحریک انصاف میں ضم ہو گیا، غالباً اس انضمام کی ضرورت اور طریقِ کار پہلے سے طے تھا،لیکن عجیب اتفاق ہے کہ کامیابی کے بعد جنوبی پنجاب صوبے کے محرکین کوئی زیادہ سرگرم نظر نہیں آ رہے، خسرو بختیار اِس محاذ کے عہدیدار تھے جو وفاقی وزیر بن گئے ہیں، وزیر تو وہ پہلے بھی رہے ہیں،لیکن اب کی بار لگتا تھا اُن کی تگ و تاز کا میدان جنوبی پنجاب کا صوبہ ہے، اِس لئے اِس ضمن میں ٹھوس کوششیں ہونی اور ہوتی ہوئی نظر آنی چاہئیں اور اگر یہ سمجھ لیا گیا ہے ، چونکہ پنجاب کا وزیراعلیٰ جنوبی پنجاب سے آ گیا ہے، اِس لئے اب اِس سلسلے میں زیادہ سرگرمی کی ضرورت ہی نہیں تو بھی سو دن کے بعد یہ معاملہ واضح ہو جائے گا۔

جو لوگ دانشورانہ سطح پر جنوبی پنجاب صوبے کا نعرہ لگاتے رہے ہیں یا اب تک لگا رہے ہیں اُن میں سے کوئی ایک شخص یا جماعت ایسی نہیں جو اِس قابل ہو کہ جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے کا کام عملاً انجام دے سکے یہ کام تحریک انصاف ہی کو کرنا پڑے گا،جس نے ایک پورے محاذ کو اپنے دامن میں اِس لئے جگہ دی تھی کہ وہ اس کے مقاصد کی نگرانی کرے گی۔اِس لئے ہمارے خیال میں اس کام کے لئے عملی اقدامات کا آغاز ہو جانا چاہئے تاکہ اُن لوگوں کو تسلی ہو سکے جو ’’تختِ لاہور‘‘ کی بالادستی سے مسلسل شِکوہ سنج تھے اور وقت بے وقت لاہوری بالادستی کا راگ الاپتے رہتے تھے، اب اگر اِس ضمن میں کوئی ٹھوس کوششیں نہیں ہوتیں تو یہی سمجھا جائے گا کہ جنوبی پنجاب محض ایک نعرہ تھا اور یہ نعرہ لگانے والے نہ اس سے پہلے مخلص تھے اور نہ آج کسی اخلاص کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔

مزید :

رائے -اداریہ -