توہین آمیز خاکے،معاملہ اقوام متحدہ میں اٹھانے کا اعلان

توہین آمیز خاکے،معاملہ اقوام متحدہ میں اٹھانے کا اعلان

  

عالم اسلام ہی نہیں پوری دنیا کے مسلمانوں کے لئے ختم المرسلین، پیغمبر آخرالزمان حضرت محمد مصطفی، احمد مجتبیٰﷺ اپنی جانوں سے بھی پیارے ہیں اور دنیا کی تاریخ میں صاحب علم اور معتبر حضرات نے آپؐ کی عظمت کو تسلیم بھی کیا ہوا ہے، اس کے باوجود دنیا میں ایسے بدبخت لوگ موجود ہیں جو عقیدت مندوں کی دل آزاری سے باز نہیں آتے اور مسلمانوں کوایذا پہنچانے کے لئے نبی آخرالزمانؐ کی توہین کے مرتکب ہوتے رہتے ہیں، ایسے روسیاہ ماضی میں رہے اور آج بھی موجود ہیں، اب اطلاع ہے کہ ہالینڈ میں کسی شخص نے توہین آمیز خاکوں کی نمائش کا اعلان کردیا ہے اس پر اسلامیان عالم نے احتجاج کیا، پاکستان میں شدید غصہ او ر رنج پایا جاتا ہے اور مطالبہ کیا جارہا ہے کہ اس نمائش کو رکوایا جائے، اس سلسلے میں ہالینڈ کی حکومت کی طرف سے عجیب غیر اخلاقی وضاحت کی گئی ہے، حکومتی ترجمان نے اس نمائش سے لاتعلقی کا اظہار کیا اور اسے فرد کا ذاتی فعل قرار دیا اور ساتھ ہی کہا کہ ان کے ملک میں آزادی اظہار پر کوئی پابندی نہیں۔یہ جواز اور منطق بہت عجیب ہے، کیا کوئی بھی شخص آزادی اظہار کا حق استعمال کرتے ہوئے کسی کے بھی اکابرین مذہب و ملت کی جان بوجھ کر اہانت کرسکتا ہے؟ ایسا کسی کتاب میں نہیں لکھا گیا، برطانیہ میں بھی آزادی اظہار کی آزادی ہے، لیکن وہاں ملکہ معظمہ کو کوئی برا نہیں کہہ سکتا یوں بھی تمام مذاہب میں کسی بھی نبی کی اہانت کی اجازت نہیں ہے، چہ جائیکہ کوئی ہمارے جذبات مجروح کرے۔اس سلسلے میں ملک کے ایوان بالا(سینٹ) میں بجا طور پر ایک قرار داد منظور کی گئی، اتفاق رائے سے منظور ہونے والی قرار داد میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اس کے خلاف کارروائی کی جائے اور اس ناپاک جسارت کو حکومتی سطح پر رکوایا جائے۔وزیر اعظم عمران خان سینٹ میں پہلی بار آئے توانہوں نے بھی اس ناپاک جسارت کا ذکر کیا اور بالکل درست کہا کہ ایسا ہونا عالم اسلام کی کمزوری ہے، اسلامی کانفرنس نے بھی کوئی کردار ادا نہیں کیا، وزیر اعظم نے یقین دلایا کہ وہ او، آئی، سی کو متحرک کرنے کی کوشش کریں گے اور یہ مسئلہ اقوام متحدہ میں بھی لے کر جائیں گے، وزیر اعظم کا یہ اعلان اور یقین دہانی قابل ستائش ہے، اس پر عمل درآمد ضرور اور جلد ہونا چاہئے۔ فوری طور پر او، آئی،سی کو متحرک کیا جائے تاکہ اگلے ماہ ہونے والے جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر یہ مسئلہ بھرپور طریقے سے اٹھا کر ایسی مذموم سازشوں اور شرارتوں کا سلسلہ ہمیشہ کے لئے بند کرایا جاسکے، وزیر اعظم کی تقریر کے موقع پر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی بھی موجود تھے، اب ان کا فرض ہے کہ وہ وزیر اعظم عمران خان کی یقین دہائی اور عزائم کو پورا کرنے کے لئے ابھی سے کوشش شروع کردیں۔ او،آئی، سی ممالک سے رابطے کریں اور ان سب کو متحد ہو کر متفقہ موقف اختیار کرنے پررضا مند کریں، اس سلسلے میں او، آئی، سی کا اجلاس بلانے کی تحریک بھی کریں،اقوام متحدہ میں بھی اس مسئلہ پر مثالی اتحاد نظر آنا چاہئے۔

مزید :

رائے -اداریہ -