قومی معیشت اور بڑے فیصلے کرنے کی گھڑی

قومی معیشت اور بڑے فیصلے کرنے کی گھڑی
قومی معیشت اور بڑے فیصلے کرنے کی گھڑی

  

پاکستان کی نئی حکومت ، نئے اور انقلابی انداز میں قومی معاملات کو لے کر آگے بڑھنے کے لئے یک سو نظر آرہی ہے قومی اسمبلی کے سپیکر ، ڈپٹی سپیکر اور وزیراعظم کے انتخاب تک تمام مراحل بخیروخوبی انجام پا چکے ہیں۔ صوبائی حکومتیں بھی قائم ہو چکی ہیں معاملات بڑے جذبے کے ساتھ آگے بڑھتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔ موجودہ حکومت کے حوالے سے ایک بات کہی جا رہی تھی کہ اسے ایک تجربہ کار اور توانا اپوزیشن کا سامنا کرنا پڑے گا، جس میں تجربہ کار اور منجھے ہوئے سیاستدان شامل ہیں، لیکن جو صورتحال نظر آرہی ہے اس کے مطابق اپوزیشن فکری و نظریاتی طور پر تقسیم ہو چکی ہے وزیراعظم کے انتخاب کے موقع پر پیپلز پارٹی نے شہباز شریف کو ووٹ دینے سے انکار کیا۔ صدارتی انتخاب کے موقع پر ن لیگ نے پیپلز پارٹی کے امیدوار کو تسلیم نہیں کیا۔ اپوزیشن متفقہ صدارتی امیدوار لانے میں ناکام نظر آئی ہے۔

نئے مالی سال 2018-19 ء کا بھی آغاز ہو چکا ہے ۔نئی حکومت نے قومی معیشت کے حوالے سے بہت سے سٹریٹیجک فیصلے کرنے ہیں۔ فیصلہ سازی نہ ہونے کے باعث بہت سے اہم معاملات رکے ہوئے ہیں قومی معیشت کا پہیہ بھی رکا ہوا ہے۔ بین الاقوامی ادارے موڈیز نے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ بھی کم کر دی ہے ادارے کے ’’سرمایہ کاری شعبے‘‘ نے وارننگ بھی جاری کر دی ہے کہ روپے کی گھٹتی ہوئی قدر کے باعث پاکستان کے بجٹ میں بیان کردہ تخمینہ جات زیرو زبر ہو رہے ہیں۔ بین الاقوامی قرضہ جات کی ادائیگی (واپسی)، درآمدی بل کی ادائیگی اور زرمبادلہ کے کم از کم مطلوبہ ذخائر برقرار رکھنے کے حوالے سے پاکستان کی مشکلات میں گھرا ہوا نظر آتا ہے۔ ایک سال کے دوران روپے کی قدر میں 4 دفعہ گراوٹ آچکی ہے، جس کے باعث ڈالر کی قیمت بہت زیادہ ہو چکی ہے ڈالر کی قدر میں اضافے / روپے کی قدر میں کمی کے باعث پاکستان کی درآمدات بہت مہنگی ہو چکی ہیں درآمدی اشیاء کی قیمتوں میں اضافے کے باعث صنعتی اور زرعی مصارف پیداوار میں بہت اضافہ ہو گیا ہے۔

اس طرح عالمی منڈی میں پاکستانی مصنوعات کی طلب گھٹ رہی ہے اور زرمبادلہ کی آمدنی میں کمی ہو رہی ہے۔ قدر زر میں کمی کے باعث ایک سال کے دوران بنیادی شرح سود میں 175 بنیادی پوائنٹ کا اضافہ بھی ہو چکا ہے۔پاکستانی زرمبادلہ کے ذخائر گھٹتے گھٹتے 10.23 ارب ڈالر کی سطح پر آچکے ہیں۔ یہ صرف 90 دن تک درآمدی بل ادا کرنے کے برابر ہیں، یعنی اتنے ڈالرز کے ساتھ ہم 90 دن تک کی درآمدات کی ادائیگی کر سکتے ہیں۔ دوسری طرف کرنٹ اکاؤنٹ کو 17.99 ارب ڈالر کے خسارے کا سامنا ہے یعنی2017-18 کے گزرے مالی سال کے دوران 17.99 ارب ڈالر کا خسارہ موجود ہے۔ موڈیز نے بڑے کھلے الفاظ میں بتایا ہے کہ اگر زرمبادلہ کے ذرائع میں اضافہ نہ ہوا تو کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ مزید بڑھ سکتا ہے۔ اس سے ہماری قومی معیشت پر مزید بوجھ پڑے گا اور صورت حال میں مزید خرابی ہو گی۔ وزیر خزانہ اسد عمر اکنامک افئیر ڈویژن کے اہلکاروں کے ساتھ مصروف ہیں وہ جاری معاشی صورت حال کے بارے میں بریفنگز بھی لے رہے ہیں۔ کلی معاشی معاملات، قرض دینے والے اداروں کے ساتھ معاہدات، لین دین بارے معلومات حاصل کر رہے ہیں، کیونکہ اس وقت معاشی صورت حال تسلی بخش نہیں ہے۔اور حکومت کو بڑے بڑے فیصلے جلد کرنے ہیں۔

سٹیٹ بینک آف پاکستان کی طرف سے حال ہی میں جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق اس وقت پاکستان کے ذمہ 29.9 ٹریلین روپے کے قرضے ہیں۔ یعنی پاکستان نے 29 ہزار900 ارب روپے کے قرضے ادا کرنے ہیں، جبکہ ان قرضوں کا حجم 2013 میں 16.4 ٹریلین روپے تھا یعنی 2013ء میں 16 ہزار 400 ارب روپے کا قرض 2018 تک 29 ہزار 900 ارب روپے تک جا پہنچا ہے یہ ہماری قومی معیشت کا 87 فیصد ہے۔مرکزی بینک کے جاری کردہ اعدادو شمار کے مطابق 29.9 ٹریلین روپے کے قومی قرضے میں 25 ٹریلین روپے براہ راست حکومت کے ذمے ہیں جو قومی معیشت کے 72.5 فیصد کے برابر ہے عالمی معاشی اصولوں کے مطابق یہ حد زیادہ سے زیادہ 60 فیصد تک ہے۔ ہم قرض داری میں یہ حد پار کر چکے ہیں۔2013 میں غیر حکومتی قرضوں کا حجم 649 ارب روپے تھا جو 2018 میں بڑھتے بڑھتے 1900 ارب روپے تک جا پہنچا ہے یعنی 5 سالوں میں غیر سرکاری قرضوں میں 1300 ارب روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ آئی ایک ایف کا قرضہ 2013 میں 435 ارب روپے تھا جو 2018 میں بڑھتے بڑھتے 741 ارب روپے ہو گیا ہے۔

یہ اعدادو شمار سٹیٹ بینک آف پاکستان کے مرتب و جاری کردہ ہیں جاری کردہ رپورٹ میں تفصیلات بھی درج ہیں کہ کس مد میں کس عالمی ادارے یا قرض خواہ سے رقوم حاصل کی گئیں ان اداروں میں انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ ، ورلڈ بینک چین، ایشین ڈویلپمنٹ بینک سر فہرست ہیں ہم نے ہر اس ادارے سے قرض لیا، جس سے ہمیں قرض مل سکتا تھا۔ نواز لیگ حکومت نے توانائی کے کئی منصوبے شروع کئے نندی پور، قائداعظم سولر پارک، کاسا، بلوکی گیس پاور پلانٹ، کھچی کینال ، نیلم جہلم ہائیڈرو پراجیکٹ ، گولن گول ہائیڈرو پراجیکٹ ، داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ ، ساہیوال کول پاور پراجیکٹ، تھرکول پاور پلانٹ ،گلپورین بجلی منصوبہ، حویلی بہادر شاہ بجلی منصوبہ، بھکی پاور پلانٹ، اپالو سولر پاور پراجیکٹ ، کریسنٹ انرجی سولر پاور پراجیکٹ ، میٹرو ونڈپاور پراجیکٹ، یونس ونڈ پاور پراجیکٹ، ٹپال ونڈ پاور پراجیکٹ، ماسٹر ونڈ پاور پراجیکٹ، گل احمد ونڈ پاور پراجیکٹ، فاطمہ انرجی، حمزہ شوگر پاور پراجیکٹ ، گلف پاور پراجیکٹ وغیرھم، پورٹ قاسم پاور پراجیکٹ ، تربیلا IV توسیعی منصوبہ، چشمہ نیوکلئیر پاور پلانٹ 4,3,2 اس کے علاوہ ہیں۔ گزرے پانچ سالوں کے دوران توانائی کے ان منصوبوں کے ذریعے سسٹم میں 10 ہزار میگا واٹ بجلی داخل کی گئی اور قوم کو توانائی کی بحرانی صورتحال سے نجات ملی۔

انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ کے لئے لیگی حکومت نے ترجیحی بنیادوں پر کام کیا کئی ایک میگا پراجیکٹ شروع کئے گئے بہت سے مکمل بھی ہوئے اور ان سے پاکستان کے عوام فائدہ بھی اٹھا رہے ہیں۔ سینکڑوں نہیں ہزاروں کلومیٹر لمبی سڑکیں تعمیر کی گئیں۔ درجنوں انڈرپاس اور اوور ہیڈپل تعمیر کئے گئے۔ ماس ٹرانزٹ کے کئی منصوبے شروع کئے کچھ مکمل ہو چکے ہیں اور کچھ مکمل ہونے والے ہیں۔ نئے ائیرپورٹس کی تعمیر اور کچھ میں توسیع کی گئی۔تعلیم اور صحت کے شعبے میں بھی کئی قابل ذکر کام کئے گئے۔ دیگر شعبوں میں بھی ترقیاتی کام کئے گئے۔ یہاں ان تمام منصوبوں کی تفاصیل بیان کرنے کی گنجائش نہیں ہے، لیکن یہ بات بیان کرنا ضروری ہے کہ معیشت میں اگر قرضوں کے حوالے سے بگاڑ نظر آرہا ہے تو اس کے پیچھے تعمیر و ترقی کی ایک دنیا بھی آباد ہے کئی منصوبے اپوزیشن کی تنقید کی زد میں بھی آئے۔ کچھ پر نیب سایہ فگن ہے کچھ کے مقدمات عدالتوں میں ہیں ،لیکن سوا کروڑ ووٹروں نے ن لیگ کو ووٹ دے کر انکی پالیسیوں پر مہر تصدیق بھی ثبت کی ہے۔ ہمیں ن لیگ کو اس بات کا کریڈٹ بھی دینا چاہتے۔

ن لیگ حکومت نے 2013 میں واجب الادا 60 ارب ڈالر کے قومی قرضوں کو بھی نبھایا ہے قرض خواہ عالمی اداروں کے ساتھ معاملات کو 5 سال تک پوائنٹ آف نو ریٹرن تک نہیں جانے دیا۔ ان قرضوں پر سود کے ساتھ ساتھ طے شدہ اصل زر کی واپسی کا بھی بندوبست کئے رکھا ہے۔سٹیٹ بینک آف پاکستان کی رپورٹ کے مطابق قومی قرضوں پر سود کی ادائیگی کا بوجھ بھی بہت بڑھ چکا ہے۔ 2013 میں ہم اس مد میں 996 ارب روپے سالانہ ادا کر رہے تھے اب 2018 میں 1600 ارب روپے ادا کرنا پڑ رہے ہیں۔حکومت نے گزرے مالی سال میں اندرونی قرضوں کی مد میں 1330 ار روپے ادا کئے ،جبکہ بیرونی قرضوں کی مد میں 172.4 ارب روپے ادا کئے ہیں۔ یہ رقم مجموعی طور پر بہت زیادہ ہے۔ قومی معیشت اس قرض کا اتنا بوجھ برداشت نہیں کر سکتی ہے۔ ن لیگی دورِ حکمرانی بیت گیا۔ اب ہمارے نئے حکمرانوں کا امتحان ہے کہ وہ قومی معیشت کو بدحالی سے کس طرح نکالتے ہیں۔ اسد عمر کے حوالے سے قوم کو بہت توقعات ہیں۔ ان کی ذہانت اور مہارت کسی شک وشبہے سے بالاتر ہے۔ اب ان کا امتحان ہے اللہ انہیں کامیاب کرے ( آمین) ان کی کامیابی میں ہی ہماری قومی سلامتی ہے۔اللہ سبحانہ و تعالیٰ پاکستان کو اپنے حفظ و امان میں رکھے۔آمین!

B

مزید :

رائے -کالم -