صدارتی انتخاب: متحدہ اپوزیشن منزل ہے کہاں تیری

صدارتی انتخاب: متحدہ اپوزیشن منزل ہے کہاں تیری
صدارتی انتخاب: متحدہ اپوزیشن منزل ہے کہاں تیری

  

صدارتی انتخاب کے خدوخال واضح ہوچکے ہیں، کوئی کرشمہ ہی اپوزیشن کا مشترکہ امیدوار لاسکتا ہے۔ پیپلز پارٹی نے چودھری اعتزاز احسن اور متحدہ اپوزیشن نے مولافضل الرحمن کو میدان میں اُتارا ہے، جبکہ تحریک انصاف نے عارف علوی کو اپنا امیدوار نامزد کیا ہے۔ اپوزیشن اپنا متفقہ امیدوار سامنے لاتی تو مقابلے کی کوئی صورت پیدا ہوسکتی تھی، اب تو ایسا لگ رہا ہے کہ تینوں امیدوار انتخاب میں حصہ لیتے ہیں تو عارف علوی بآسانی صدر منتخب ہو جائیں گے۔یہ دوسری مرتبہ ہے کہ اپوزیشن یہ ثابت کرنے میں ناکام رہی ہے کہ وہ متحد ہے، اس سے پہلے شہبازشریف کو پیپلزپارٹی نے وزارتِ عظمیٰ کا ووٹ نہیں دیا، حالانکہ پہلی اے پی سی میں طے ہوا تھا کہ وزیراعظم کے لئے مسلم لیگ (ن) امیدوار نامزد کرے گی۔ اسی وجہ سے مسلم لیگ (ن) نے خورشید شاہ کو سپیکر قومی اسمبلی کا ووٹ بھی دیا تھا، مگر وقت آیا تو پیپلز پارٹی اس بات پر اڑ گئی کہ مسلم لیگ (ن) شہباز شریف کی بجائے کوئی دوسرا امیدوار کھڑا کرے۔ اس بار صدارتی انتخابات کے موقع پر مسلم لیگ (ن) نے یہ ضد کی ہے کہ پیپلز پارٹی اعتزاز احسن کی بجائے کسی دوسرے کو صدارت کے لئے نامزد کرے۔ آصف علی زرداری کو جو لوگ جانتے ہیں، انہیں علم ہے کہ وہ یوٹرن نہیں لیتے۔ شہباز شریف کے معاملے میں بھی انہوں نے یوٹرن نہیں لیا اور اب اعتزاز احسن کو دستبردار کرانے میں اُن کی آمادگی ناممکن ہے۔

یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ مولانا فضل الرحمن نے پرائی شادی میں عبداللہ دیوانہ والی بات کیوں کی ہے۔ انہیں تو پیپلز پارٹی نے اپوزیشن کے درمیان کسی متفقہ امیدوار پر ثالثی کے لئے نامزد کیا گیا تھا، وہ نجانے کس کے کہنے پر صدارتی امیدوار بن گئے۔ عام انتخابات میں دو حلقوں سے شکست کھانے کے بعد کیا جواز رہ جاتا ہے کہ وہ خود کو ملک کے سب سے بڑے آئینی عہدے کے لئے امیدوار بنالیں۔ 2018ء کے انتخابی نتائج کو جس طرح مولانا فضل الرحمن نے مسترد کیا اور یہ تک کہا کہ کوئی حلف اُٹھانے نہیں جائے گا اور ہم دیکھیں گے کہ تحریک انصاف کے ارکان کیسے اسمبلی میں داخل ہوتے ہیں، اُس کے بعد تو اُن کا اس پارلیمنٹ کے ذریعے صدر منتخب ہونے کی خواہش کرنا نہایت معیوب لگتا ہے، پھر یہی نہیں انہوں نے اپنی شکست کے بعد فوج پر حملے کئے اور غصے میں یہاں تک کہہ گئے، اس بار یوم آزادی نہیں، بلکہ جدوجہد آزادی کا دن منائیں گے۔

ایک انتخابی سیاسی شکست کے بعد جو شخص صبر کا دامن چھوڑ دے اور ہر حد پار کر جائے، اسے ملک کے صدر کا انتہائی بردباری اور تحمل کا متقاضی منصب کیسے دیا جاسکتا ہے؟ اُن میں اگر سیاسی بصیرت ہوتی تو کبھی اپوزیشن کی طرف سے اس نامزدگی کو قبول نہ کرتے، کیونکہ اگر وہ متفقہ امیدوار بن بھی جاتے تو خفیہ رائے شماری میں انہیں متحدہ اپوزیشن کے خاطرخواہ ووٹ بھی نہیں پڑنے تھے۔ اعتزاز احسن ایک ٹی وی چینل پر بتا رہے تھے کہ جب مولانا فضل الرحمن کو نامزد نہیں کیا گیا تھا اور میری وجہ سے اپوزیشن تقسیم ہو رہی تھی تو میرا جی چاہتا تھا کہ مسلم لیگ (ن) ایاز صادق یا کسی دوسرے کو صدارت کے لئے نامزد کرے، وہ اس کے حق میں دستبردار ہو جائیں گے، تاکہ اس الزام سے بچ سکیں کہ اپوزیشن ان کی وجہ سے تقسیم ہوئی ہے، مگر جب سے مولانا فضل الرحمن نامزد ہوئے ہیں، ان کے ساتھی اور حامی ہاتھ جوڑ کر کہہ رہے ہیں کہ اب کسی صورت دستبردار نہ ہونا، کیونکہ مولانا فضل الرحمن کا صدارتی امیدوار بننا جمہوریت اور منصب صدارت کے لئے کسی بھی طرح سود مند نہیں۔

یہ سوال بھی حل طلب ہے کہ مسلم لیگ (ن) نے ایک بڑی پارلیمانی پارٹی ہونے کے ناطے خود اپنا کوئی امیدوار نامزد کیوں نہیں کیا۔ کیوں مولانا فضل الرحمن کو سامنے لائی؟ بظاہر یہی لگ رہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) نے یہ دیکھتے ہوئے کہ پیپلزپارٹی اعتزازاحسن کو دستبردار کرانے پر آمادہ نہیں ،ایک تیر سے دو شکار کرنے کی کوشش کی۔ مولانا فضل الرحمن کو نامزد کرکے ایک طرف اپوزیشن میں اپنی پوزیشن مضبوط کرلی اور دوسرا آصف علی زرداری کی خود منتیں کرنے کی بجائے مولانا فضل الرحمن کو ان کے پیچھے لگا دیا کہ وہ اعتزازاحسن کو مولانا فضل الرحمن کے مقابلے سے دستبردار کرائیں۔ مولانا فضل الرحمن شاید اس خوش فہمی میں مبتلا تھے کہ آصف علی زرداری کے ساتھ ان کی گاڑھی چھنتی ہے۔پھر سرد و گرم موسموں میں ساتھ بھی رہے ہیں، اس لئے وہ مان جائیں گے۔

آصف علی زرداری آج کے پورے منظرنامے میں یہ کہتے ہیں کہ اس کار بیکار میں پڑنے کی کوئی ضرورت نہیں، کیونکہ تحریک انصاف حکومت میں ہے۔تین صوبوں کی حکومتیں بھی اس کے ساتھ ہیں، اس لئے حکومتی پارٹی کے امیدوار کو ہرانا ممکن نہیں۔ خواہ مخواہ مولانا کی حمایت کا الزام مول لینے کی کیا ضرورت ہے۔ اس سے بہتر ہے پیپلزپارٹی کا امیدوار خود حصہ لے کر ہار جائے۔ پھر فرحت اللہ بابر کی اس بات کو پیشِ نظر رکھا جانا چاہیے جو انہوں نے مولانا فضل الرحمن کی آصف علی زرداری سے ملاقات کے بعد کہی کہ مولانا فضل الرحمن پیپلزپارٹی کے نزدیک ایک ناپسندیدہ شخصیت ہیں، ان کی حمایت کیسے کی جا سکتی ہے۔ مولانا کو اتنی سی بات سمجھ میں نہیں آئی کہ آصف علی زرداری نے اعتزاز احسن کی بجائے سید یوسف رضا گیلانی اور رضا ربانی کو امیدوار بنانے کی پیشکش بھی قبول نہیں کی، حالانکہ مسلم لیگ (ن) نے اس پر آمادگی ظاہر کی تھی کہ اگر ان میں سے کسی کو امیدوار نامزد کیا جائے تو اسے اپوزیشن کا متفقہ امیدوار مان لیا جائے گا۔ ایسے میں وہ مولانا کی حمایت کیسے کر سکتے ہیں۔

کچھ لوگ یہ تھیوری عام کررہے ہیں کہ پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف میں ایک خفیہ این آر او ہو چکا ہے جس کے باعث پہلے وزارتِ عظمیٰ کے الیکشن میں پیپلز پارٹی اپوزیشن سے علیحدہ ہوئی اور اب صدارت کے لئے اپنے امیدوار کے سوا کوئی دوسرا امیدوار لانے کو تیار نہیں۔ اعتزاز احسن کا انتخاب بھی شاید اسی لئے کیا گیا تھا کہ مشترکہ امیدوار پر اتفاق رائے نہ ہوسکے، کیونکہ اعتزاز احسن کے نواز شریف اور مریم نواز کے خلاف خیالات کی گونج اب بھی سنائی دے رہی ہے۔ پھر انہوں نے کلثوم نواز کی بیماری پر بھی گاہے بہ گاہے تنقید کی تھی کہ انہیں سیاسی بچاؤ کے لئے استعمال کیا جارہا ہے، لیکن مَیں سمجھتا ہوں پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف میں کبھی کوئی این آر او نہیں ہوسکتا۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ عمران خان کا سارا ایجنڈا ہی اس نکتے پر کھڑا ہے کہ کسی کو احتساب میں رعایت نہیں دی جائے گی اور جس نے قوم کا مال لوٹا ہے، اُس سے واپس نکلوایا جائے گا، اگر کوئی سمجھتا ہے کہ آصف علی زرداری اور فریال تالپور کے خلاف منی لانڈرنگ کا جو کیس چل رہا ہے، اُس میں آصف علی زرداری کو کوئی این آراو مل جائے گا، تو اسے اُس کی احمقانہ سوچ ہی قرار دیا جاسکتا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے کچھ رہنما جن میں خواجہ سعد رفیق، شاہد خاقان عباسی اور رانا افضل جیسے لوگ شامل ہیں، یہ کہہ رہے ہیں کہ جب بھی اپوزیشن کا کوئی اتحاد بننے لگتا ہے تو آصف علی زرداری کو ایف آئی اے کے نوٹس آجاتے ہیں اور وہ اپنا موقف تبدیل کرلیتے ہیں۔

میرا خیال ہے اس سے زیادہ بے پرکی اڑائی نہیں جاسکتی، کیا آصف علی زرداری کے بارے میں یہ تصور کیا جاسکتا ہے کہ وہ ایف آئی اے کا ایک نوٹس ملنے پر اپنا موقف بدل دیں یا ایجنڈا تبدیل کردیں؟ اس طرح توانہیں بڑی آسانی سے ہر مقصد کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اس کے برعکس حقیقت یہ ہے کہ آصف علی زرداری بہت دور کی سوچتے ہیں، اُن کے ذہن میں ضرور یہ بات رہی ہوگی کہ اگر اس سسٹم کو اگلے پانچ برس کے لئے کامیابی سے چلانا ہے، تو آئینی اداروں کے درمیان محاذ آرائی کی کوئی صورت پیدا نہیں ہونی چاہئے، مثلاً فرض کریں مولانا فضل الرحمن صدرمملکت بن جاتے ہیں، تو کیا وہ تحریک انصاف کی حکومت کے خلاف اُسے ایک اکھاڑا نہیں بنا دیں گے؟اس لئے آصف علی زرداری یہ ضرور چاہتے ہوں گے کہ یا تو کوئی آئینی امور کا ماہر اور سلجھا ہوا بندہ اپوزیشن کی طرف سے صدارت کے منصب پر پایا جائے یا پھر تحریک انصاف کو اپنا صدر لانے دیا جائے، تاکہ حکومتی و ریاستی معاملات بغیر کسی رکاوٹ کے چلتے رہیں۔ آصف علی زرداری میں جو سیاسی بصیرت ہے، بدقسمتی سے مسلم لیگ (ن) اُس سے محروم نظر آتی ہے، اس کی حالیہ بڑی مثال مولانا فضل الرحمن کی منصب صدارت کے لئے بطور نامزدگی ہے۔

مزید : رائے /کالم