کچھ صد روزہ پراگرس چارٹ کے بارے میں!

کچھ صد روزہ پراگرس چارٹ کے بارے میں!
کچھ صد روزہ پراگرس چارٹ کے بارے میں!

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

نئی حکومت کو تشکیل ہوئے ابھی صرف آٹھ دس روز ہوئے ہیں۔ پی ٹی آئی نے پاکستان کو نئی راہوں پر ڈالنے کے لئے 100دنوں کا وعدہ کیا تھا۔ دیکھتے ہیں کہ یہ وعدۂ فردا وفا ہوتا ہے یا۔۔۔؟خبر یہ بھی ہے کہ وزیر اعظم کے کسی مشیر نے ان 100دنوں کا ایک روزانہ پراگرس چارٹ بناکران کو پیش کر دیا ہے۔اس تناظر میں، میں یہاں فوج کی ورکنگ کا ایک خاکہ سا آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔

فوج کی تمام یونٹوں اور فارمیشنوں میں، کمانڈنگ افسروں اور کمانڈروں کے دفاتر یا ان کے متعلقہ سٹاف آفیسرز کے دفتروں میں ایک چارٹ بناکر آویزاں کردیا جاتا ہے جوآنے والے تین یا چھ ماہ کا ٹائم ٹیبل کہلاتا ہے۔۔۔۔ کمانڈنگ افسروں اور کمانڈروں کے درمیان کیا فرق ہوتا ہے اس کو سمجھنے کے لئے سویلین قارئین کو پہلے یہ بتانا ہوگا کہ یونٹ اور فارمیشن میں فرق کیا ہوتا ہے۔

کسی مزید تفصیل میں جائے بغیر اتنا سمجھ لیجئے کہ یونٹ یا پلٹن یا بٹالین یا رجمنٹ ایک ہی عددی گروپ کے نام ہیں۔ اس گروپ کی کل نفری کی تعداد بالعموم 700سے لے کر 1000 تک چلی جاتی ہے جس کو رینک کے حساب سے تین حصوں میں تقسیم کردیا جاتا ہے جن کو بالترتیب سولجرز، جے سی اوز اورآفیسرز کا نام دیا جاتا ہے۔ کسی بھی یونٹ میں سب سے زیادہ تعداد سولجرزکی ہوتی ہے، ان کے بعد جے سی اوز صاحبان(JCOs)کی اور اس کے بعد آفیسرز کی۔ آفیسرز سے مراد کمیشنڈ آفیسرز لی جاتی ہے۔ افسروں میں سیکنڈ لیفٹیننٹ، لیفٹیننٹ، کیپٹن، میجر اور لیفٹیننٹ کرنل کے رینکس شامل ہوتے ہیں۔ بٹالین کے جونیئر ترین کمیشنڈ آفیسر کا رینک سیکنڈ لیفٹیننٹ اور سینئر ترین کا لیفٹیننٹ کرنل ہوتا ہے۔ اس لیفٹیننٹ کرنل کو تحریری طور پر تو لیفٹیننٹ کرنل لکھا اور پڑھا جاتا ہے لیکن زبانی طور پر ’’کرنل صاحب‘‘ کہا جاتا ہے۔۔۔۔بٹالین سے اوپر کی افرادی تنظیم کو فارمیشن کہتے ہیں جو بریگیڈ، ڈویژن اور کور سے عبارت ہوتی ہے۔ ان تینوں تنظیموں (بریگیڈ،ڈویژن اور کور) کو ’’فارمیشن‘‘ کہا جاتا ہے اور ان کے سینئر ترین کمیشنڈ آفیسر کو ’’کمانڈر‘‘ بولا جاتا ہے جبکہ لکھنے میں بریگیڈکمانڈر، ڈویژن کمانڈر(یا GOC) اور کور کمانڈر لکھا جاتا ہے۔۔۔ یاد رہے کہ بٹالین کمانڈر کو کبھی کمانڈر نہیں بولا/لکھا جاتا جبکہ فارمیشن کمانڈروں کوکبھی کمانڈنگ آفیسر نہیں کہا جاتا۔

وہ سب ’’کمانڈر‘‘ کہلاتے ہیں۔ ۔۔۔امید ہے قارئین کو اب کمانڈنگ آفیسر اور کمانڈر میں فرق معلوم ہوگیا ہوگا۔۔۔ اب آگے بڑھتے ہیں۔۔۔

فوج کے کمانڈنگ افسروں اور کمانڈروں کے ہیڈ کوارٹرز میں متعلقہ سٹاف آفیسرز کے دفاتر میں ایک یہ چارٹ بھی آویزاں ہوتا ہے کہ جس پر سال کو دو یا چار حصوں میں تقسیم کرکے ایک ششماہی یا سہ ماہی پروگرام ترتیب دے دیا جاتا ہے۔ سفید رنگ کے ایک بڑے سے چارٹ پر ان چھ ماہ کے لئے یکساں حجم کے چھ کالم بنائے جاتے ہیں، ہر کالم کو 30یا 31 دنوں کے لئے ذیلی کالموں/خانوں میں تقسیم کردیا جاتا ہے۔ فروری کے مہینے میں چونکہ 28یا 29دن ہوتے ہیں اس لئے اس ماہ کے کالم/ خانے، کو 28یا 29حصوں میں تقسیم کر دیتے ہیں۔

ہر چارٹ کی دواطراف ہوتی ہیں۔ ایک کو طول اور دوسری کو عرض کہہ لیجئے۔ ان کو آپ افقی تقسیم اور عمودی تقسیم کہہ لیں توپھر بھی ایک ہی بات ہے۔ ۔۔۔ عمودی تقسیم اس چارٹ پر اوپر سے نیچے آتی ہے جبکہ افقی تقسیم بائیں سے دائیں طرف پھیلتی جاتی ہے۔ عمودی تقسیم میں مختلف پراجیکٹ یا Eventsلکھے ہوتے ہیں اور افقی تقسیم جوششماہی ہوتی ہے وہ 180دنوں کے لئے 180 خانوں کو محیط ہوتی ہے۔ اس چارٹ میں ظاہر کیا جاتا ہے کہ کسی بھی عمودی ترتیب میں لکھے ہوئے مخصوص پراجیکٹ کو کس روز لانچ کیا جائیگا۔ اس کی تکمیل کے لئے جتنے دن مقرر کئے جائیں گے ان کے خانوں میں روزانہ کی کارکردگی ظاہر کی جاتی ہے۔ مثال کے طور پر کوئی پراجیکٹ یا ایونٹ 33دنوں میں مکمل ہونا ہے تو پہلے دن کے خانے میں 3%، دوسرے میں 6%،تیسرے میں 9% اور آخری 33ویں خانے میں 100% کام مکمل ہوتا دکھایا جاتا ہے۔ بعض پراجیکٹ مقرر وقت سے پہلے بھی مکمل کرلئے جاتے ہیں۔ مثلاً اگر 33دنوں کا پراجیکٹ 16دنوں میں مکمل کرلیا جائے تو 16ویں دن کے خانے میں 100% کی پراگرس دکھا دی جاتی ہے۔۔۔ اس طرح کی ترتیب کو گراف کی شکلوں میں بھی ظاہر کیا جاتا ہے۔

اس چارٹ یاگراف کے دو فائدے ہوتے ہیں۔ ایک تو متعلقہ ہیڈ کوارٹر کو معلوم ہوتا رہتا ہے کہ کون سا منصوبہ کس مرحلے میں ہے اور اس کی رفتارِ تکمیل معمول کے مطابق جا رہی ہے یا کم/ زیادہ ہے۔۔۔ اور دوسرا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ جو منصوبہ آہستہ روی کا شکار نظر آئے اس کے تکمیل کنندگان کو کام کی رفتار تیز کرنے کی ہدایت کردی جاتی ہے۔ اگر سٹاف آفیسر یہ دیکھے کہ کسی منصوبے کی پراگرس پروگرام کے مطابق نہیں جارہی اور ماتحت یونٹ کو اس کی یادہانی کرانے کے باوجود تکمیل کنندگان کی طرف سے وقت کا لحاظ نہیں رکھا جارہا تو وہ سٹاف آفیسر اپنے بالا کمانڈنگ آفیسر/کمانڈر کو اس کے دفتر میں جاکر رپورٹ کرتا ہے کہ فلاں منصوبہ تاخیر کا شکار ہورہا ہے اور اس کا ذمہ دار فلاں آفیسر یا ہیڈ کوارٹر ہے۔ اس تاخیر کا فوری نوٹس لیا جاتا ہے۔ بعض اوقات کمانڈنگ آفیسر یا کمانڈر خود موقع پر پہنچ کر کام کی رفتار کا جائزہ لیتا ہے اور اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ زیرِ نظر منصوبہ وقت پر تکمیل پائے۔

قارئین گرامی! میں نے سطورِ بالا میں فوج کے دفاتر اور ہیڈکوارٹرز میں مختلف ٹریننگ، نان ٹریننگ، آپریشنل ،بندوبستی اور انتظامی منصوبوں کی پیش رفت کو چیک کرنے کا ایک معمول بتایا ہے۔ میں نے اگرچہ کسی سویلین ادارے میں کام نہیں کیا لیکن مجھے اس میں قطعاً کوئی شک نہیں کہ وہاں بھی تدریجی پراگرس رپورٹ چیک کرنے کا یہی معمول ہوگا۔ مجھے دورانِ سروس کئی بار سویلین دفاتر میں جانے کا اتفاق ہوا تو وہاں بھی کمشنر، ڈپٹی کمشنر، اسسٹنٹ کمشنر وغیرہ کے دفاتر میں یہی طریقہ رائج تھا۔ سول سیکرٹریٹ میں بھی سیکشن آفیسر، ڈپٹی سیکرٹری، جوائنٹ سیکرٹری اور سیکرٹری کے دفاتر میں بھی یہی معمول ہوتا ہے۔ البتہ مجھے پرائم منسٹر سیکرٹریٹ میں جانے اور وہاں کام کرنے کے معمولات کو دوچار بار ہی دیکھنے کا موقع ملا اور اندازہ ہوا کہ وہاں بھی مختلف منصوبوں اور پراجیکٹوں کے نظامِ تکمیل کا جائزہ اسی طرح لیا جاتا ہے اور اسی ’’کاغذی کارروائی‘‘ کے مطابق ہی ’’گراؤنڈ کارروائی‘‘ کی نگرانی کی جاتی ہے۔

نئی حکومت کے لئے 100 دن کا موعودہ (Promised) ایجنڈا دو اعتبارات سے غیر معمولی اہمیت اور نگرانی کا متقاضی ہے۔ ۔۔۔ ایک تو یہ کہ پی ٹی آئی کی قیادت نے اقتدار میں آنے کے بعد جن معاملات کو ’’سنوارنے اور نکھارنے‘‘ کا عندیہ دیا تھا یا بار بار وعدہ کیا تھا ان کا حجم ہوش ربا ہے۔ ان کے مطابق فی الوقت تمام محکموں کی حکومتی مشینری کا کوئی کل پرزہ بھی سیدھا نہیں۔ یا اگر یہ کہا جائے تو شائد زیادہ موزوں ہو کہ کوئی کل پرزہ اُس معیار پر پورا نہیں اترتا جو نئی قیادت کے پیش نظر تھایا ہے۔۔۔ اور دوسری بات یہ ہے کہ وقت کم ہے اور مقابلہ سخت ہے!

میرا اندازہ ہے کہ وزیر اعظم نے اس 100روزہ ایجنڈے کی تکمیل کے لئے جو ٹائم ٹیبل اپنے ذہن میں ترتیب دیا ہوگا اس پر پورا اترنے کے لئے کاغذی اور زمینی کارروائیوں کا تانا بانا بھی موجود ہوگا۔ تاہم اس تانے بانے کو مزید ذیلی ترجیحات پر تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ حکومت کو ان ترجیحات کی بار آوری اور نتائج کا شدت سے احساس ہوگا کیونکہ یہ ان کی ناکامی یا کامیابی کا بیرومیٹر تصور کیا جائے گا۔

میرے خیال میں وزیراعظم نے اپنی اصلاحاتی ترجیحات کو درج ذیل ترتیب سے مرتب کروایا ہوگا:

*1\۔اقتصادی امور:ان میں قرضہ جات کی ادائیگی۔۔۔IMF سے رجوع کرنے یا نہ کرنے کی مجبوریاں۔۔۔بیرونی سرمایہ کاری۔۔۔ تارکینِ وطن کی طرف سے مالی معاونت۔۔۔ دوست ممالک سے کوئی بیل آؤٹ سکیم ۔۔۔کفائت شعاری کا دائرہ جو معاشرے کے ہر طبقے کو محیط ہو۔۔۔ بجٹ۔۔۔ وغیرہ وغیرہ۔

*2۔انتظامی امور:بیوروکریسی کی اکھاڑ پچھاڑ (Re-shuffling) ۔۔۔پولیس کا کوہِ گراں ۔۔۔ سیاسی اپوزیشن سے عہدہ برآ ہونے کی سٹرٹیجی ۔۔۔ میڈیا کا ہفت خواں۔۔۔ وغیرہ وغیرہ۔

*3۔روز مرہ امور: مہنگائی کا عفریت۔۔۔ تعلیم۔۔۔ صحت۔۔۔ ریلوے ۔۔۔پی آئی اے۔۔۔ زراعت۔۔۔ بجلی ۔۔۔پٹرولیم۔۔۔ صنعت و تجارت۔۔۔ درآمدات و برآمدات۔۔۔ عدالتی اصلاحات۔۔۔ (CPEC) کے معاملات ۔۔۔ پانی کا مسئلہ جو پینے کے پانی سے لے کر ندی اور دریاؤں کے پانیوں تک پھیلا ہوا ہے۔وغیرہ وغیرہ

*4۔سفارتی امور:خارجہ امور کی Re-vamping۔۔۔ خارجہ پالیسی کی بدلی ہوئی سمت۔۔۔سفارت کارں کی ٹرانسفرز اور پوسٹنگز۔۔۔ سفارتی عملے کو نئی ہدایات ۔۔۔وغیرہ وغیرہ۔

*5۔سیکیورٹی:اندرونی امن و امان۔۔۔ بیرونی سیکیورٹی۔۔۔مسلح افواج سے انٹرایکشن۔۔۔ ہمسایہ ممالک سے دفاعی تعلقات۔۔۔ وہ حکمت عملی جس پرگزشتہ دس برسوں سے سیکیورٹی فورسز کے غلبے کا مسئلہ سویلین حکومتوں کے لئے ایک مستقل تنازعہ بن چکا ہے۔۔۔ وغیرہ وغیرہ۔

ایک بہت ضروری بات جس کی طرف قارئین کی توجہ دلانی مقصود ہے وہ یہ ہے کہ ’’بے صبری‘‘ کو اپنا قومی شعار بننے کی اجازت نہ دیں۔وزیراعظم اور اُن کی کابینہ کو موقع دیں کہ وہ 100 دن پورے کرنے کے بعد آپ کے سامنے پیش ہو۔ یہ روزانہ اور لمحہ بہ لمحہ کی مانیٹرنگ اور کامیابی یا ناکامی کوجانچنے کی عادت ترک کردیں۔ میڈیا کو بھی چاہئے کہ وہ صبر سے کام لے اور اپنے ناظرین وسامعین کو اس شتابی سے باز رکھے جو ہمیشہ خرابی کا سبب بناکر تی ہے۔

پی ٹی آئی کو بھی چاہئے کہ وہ میڈیا کی طعنہ زنی، تنقید، تنقیص کی پرواہ نہ کرے۔ سہج پکے سو میٹھا ہو پہ عمل کیجئے۔ ایک ہی وار سے گردن اتارنے کا ’’فن‘‘ تو بڑے سے بڑے جلاد کو بھی آہستہ آہستہ ہی آتا ہے۔ سعودی حکومت نے بارہا اس منظر کو دیکھا ہے کہ گردن پہلے ہی وار سے جسم سے الگ ہو کر دور نہیں جا پڑتی۔ بقول غالب:’’کام اچھا ہے وہ جس کا کہ مآل اچھا ہے‘‘۔۔۔۔ حکومتی کارکردگی کی روزانہ ’’گردن زدگی‘‘ خلاف فطرت ایکسر سائز ہوگی۔ اگر تبدیلی آہی گئی ہے تو اس کا استقراردیکھنے کے لئے زیادہ بے تابی کا مظاہرہ نہ کریں۔ اگر حکومت نے 100 دنوں کا وعدہ کیا ہے تو 18 اگست سے شمار کرکے یہ دیکھئے کہ 100 دن کب پورے ہو رہے ہیں۔ نومبر کے اواخر کو تو آنے دیجئے، اس سے پہلے ہر روز چاقو چھریاں لے کر بیٹھ جانے کا فائدہ ؟ لائن میں لگ کر انتظار کو شعار بنائیے اور اگر بالفرض حکومت 100 دنوں کے بعد بھی 100فیصد نتائج نہ دکھا سکے تو ذرا ریاضی کا ایک سادہ سا فارمولا بھی زیر غور رکھیں۔۔۔۔ حکومت نے 5 سال اگر پورے کرنے ہیں تو یہ دیکھ لیجئے کہ اس کی شارٹ ٹرم 100دنوں کی کارکردگی اس کے لانگ ٹرم 1625 دنوں کے ایجنڈے کی طرف جارہی ہے یاگزشتہ 10 برسوں کے 3650 دنوں کی ’’کارکردگی‘‘ کی جانب رواں دواں ہے۔

مزید : رائے /کالم