معرکہ صدارتی انتخابات، اپوزیشن تقسیم، عارف علوی کی راہ ہموار

معرکہ صدارتی انتخابات، اپوزیشن تقسیم، عارف علوی کی راہ ہموار

  

اسلام آباد سے ملک الیاس

ملک میں صدارتی انتخابات کیلئے جوڑ توڑ جاری ہے اب تک کی صورتحال کے مطابق حکومتی امیدوار عارف علوی کی پوزیشن مضبوط نظرآرہی ہے اسکی بنیادی وجہ اپوزیشن کے مابین کسی ایک امیدوار پر اتفاق رائے نہ ہونا ہے ،صدارتی انتخابات کے لیئے کاغذات نامزدگی جمع کرانے کا مرحلہ مکمل ہو گیا ،کاغذات کی جانچ پڑتال آج بدھ کے روز کی جائیگی،امیدواروں کی جانب سے کاغذات نامزدگی 30اگست تک واپس لیئے جا سکتے ہیں اور اسی روز صدارتی الیکشن کے لیے امیدواروں کی حتمی فہرست بھی جاری کردی جائے گی، پولنگ 4ستمبر کو پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد اور چاروں صوبائی اسمبلیوں میں کی جائے گی،پولنگ کا وقت صبح 10 سے شام چار بجے تک مقرر کیا گیا ہے ،الیکشن کمیشن نے صدارتی انتخابات کے لیئے پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد کے لئے اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کو پریزائیڈنگ افسر مقرر کیا ہے،جبکہ چاروں صوبائی ہائیکورٹس کے چیف جسٹس صوبائی اسمبلیوں میں پریزائیڈنگ ہوں گے۔تحریک انصاف کے عارف علوی، پیپلز پارٹی کے اعتزاز احسن جبکہ مسلم لیگ ن اورحزب اختلاف کی دیگر جماعتوں کے امیدوار مولانا فضل الرحمان نے کاغذات نامزدگی جمع کرادیے،پیر کے روز تک اپوزیشن اتحاد مشترکہ صدارتی امیدوار لانے میں ناکام رہاہے ، پیپلز پارٹی اعتزاز احسن کے نام پر ڈٹی رہی اور اس نام پر مسلم لیگ (ن)کے اعتراض کے بعد دیگر جماعتوں نے مولانا فضل الرحمان کو اپنا امیدوار نامزد کیا۔مولانا فضل الرحمان نے اپنے وکیل کامران مرتضی کے ذریعے اسلام آباد ہائیکورٹ میں کاغذات نامزدگی جمع کرائے، اس موقع پر اپوزیشن اتحاد کے راجا ظفرالحق، احسن اقبال، عبدالغفور حیدری اور دیگر رہنما بھی اسلام آباد ہائی کورٹ پہنچے، امیر مقام مولانا فضل الرحمان کے کورنگ امیدوار ہیں۔ اپوزیشن رہنماؤں کاکہناتھا کہ ہمیں اعتزاز احسن سے ذاتی کوئی گلہ شکوہ نہیں انہوں نے حالیہ عرصے میں ذاتی سیاست کی‘ انہوں نے بیگم کلثوم نواز کی بیماری کو بھی سیاست سمجھا‘ جس طرح کی دھاندلی ہوئی اس کے لئے تمام سیاسی جماعتوں نے فیصلہ کیا کہ مضبوط اپوزیشن بنا کر اس معاملے پر احتجاج کریں گے‘ہم اپنے موقف سے اس لئے دستبردار ہوئے کہ اپوزیشن تقسیم نہ ہو‘ ہم نہیں چاہتے کہ ہم متحد ہونے کے باوجود الیکشن ہار جائیں‘ ہمیں کامیابی کیلئے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہونا ہوگا‘ ایک پارٹی کے نام پر تاریخ کی بدترین دھاندلی کی گئی ‘ ہم نے ان نتائج کو بالکل تسلیم نہیں کیا،پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت بضد رہی کہ وہ اعتزاز احسن کے نام کے سوا کوئی اور نام نہیں دے گی،ہماری کوشش ہوگی کہ پیپلز پارٹی کے پاس جا کر اپیل کریں گے کہ وہ متحدہ اتحاد کے امیدوار کی حمایت کریں میں امید کرتا ہوں کہ وہ اس فیصلے پر نظر ثانی کرکے اپوزیشن کے ووٹوں کو تقسیم ہونے سے بچائیں، ہمیں ڈٹ کر مقابلہ کرنا چاہئے تاکہ صدارتی انتخاب جیت سکیں ۔ شہباز شریف کا نام بھی وزارت عظمیٰ کیلئے پیپلز پارٹی نے تجویز کیا تھا فیصلہ کیا گیا تھا کہ کوئی مضبوط امیدوار ہونا چاہئے۔ شہباز شریف سے زیادہ کوئی مضبوط امیدوار نہیں تھا پیپلز پارٹی کے بیک آؤٹ سے بہت بڑا دھچکا لگا،ہماری پوری کوشش ہوگی کہ ہم آصف زرداری کے پاس جائیں تاکہ اپوزیشن نہ ٹوٹے۔

دوسری طرف جمعیت علمائے اسلام (ف) کے امیر مولانا فضل الرحمن نے صدارتی امیدوار کی دوڑ میں شامل ہونے کے بعد پیپلز پارٹی کو منانے کی کوششیں شروع کر دیں، انکا کہنا تھا کہ ہم کوشش کرینگے اپوزیشن کی طرف سے صدرمملکت کیلئے دوامیدوارنہ ہوں، متفقہ امیدوار سے ہی ہماری جیت ممکن ہوسکتی ہے ، توقع ہے پیپلزپارٹی اپنے فیصلے پرنظرثانی کرے گی، پاکستان ایک نئے پارلیمانی دورمیں داخل ہورہا ہے،حزب اختلاف کی جماعتوں کا شکر گزار ہوں جنھوں نے مجھے صدر کیلئے امیدوار چنا،امید ہے آصف زرداری اپنے فیصلے پر نظر ثانی کریں گے، جبکہ پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے مو لانا فضل الرحمان کے صدارتی امیدوار بننے پر تشویش کا اظہارکیا ہے، انہوں نے پارٹی رہنما ؤ ں کو اپنے صدارتی امیدوار کو ووٹ دینے کے لیے تحریک انصاف سمیت تمام پارلیمانی جماعتوں سے رابطے کی ہدایت کردی ،انکا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمان تو پیپلز پارٹی کے موقف کے حامی اور وکیل تھے، وہ خود کس طرح امیدوار بن گئے۔انکا کہنا تھا کہ اعتزاز احسن ہی پیپلز پارٹی کے صدارتی امیدوار ہیں۔جبکہ وزیر دفاع پرویز خٹک کاکہنا تھا کہ اپوزیشن جماعتوں کا صدر کے الیکشن کیلئے اکٹھا ہو جانا پاکستان کے خلاف سازش ہے، ن لیگ اور پیپلز پارٹی جتنی بھی کوشش کر لیں صدر پاکستان تحریک انصاف کا ہی منتخب ہوگا، اپوزیشن جماعتیں منفی سیاست کر کے جمہوریت کو کمزور کر رہی ہیں، ہم نے عمران خان کی قیادت میں نئے پاکستان کے ایجنڈے پر کام شروع کر دیا ہے۔

پیر کے روز سینیٹ میں اپوزیشن نے پہلے ہی اجلاس میں حکومت کو بے بس کر دیا۔اپوزیشن کے واک آؤٹ کے بعد حکومت سینیٹ میں کورم پورا نہ کر سکی جسکی وجہ سے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو اپنی تقریر ادھوری چھوڑنا پڑی اورکورم پورا نہ ہونے پر ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سلیم مانڈوی والا نے اجلاس اگلے روز کیلئے ملتوی کر دیا۔اپوزیشن جماعتوں نے وزیر اعظم عمران خان کی سینیٹ میں تقریر پر اپوزیشن ارکان کی جوابی تقاریر سنے بغیر ایوان سے چلے جانے پر احتجاجاً واک آؤٹ کیا،سینیٹ میں گستاخانہ خاکوں کے خلاف مشترکہ مذمتی قرارداد منظور کرلی گئی،قرار داد میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ حکومت اس مسئلے کو سفارتی سطح پر اٹھائے اور ہالینڈ کی حکومت سے بھرپور احتجاج کیا جائے،وزارت مذہبی امور ایک کمیٹی تشکیل دے جو کہ مسلمان دانشوروں اور ماہرین پر مشتمل ہو ،کمیٹی اس طرح کے مواد کی روک تھام کیلئے قابل عمل تجاویز تیار کرے۔ اجلاس میں قائد ایوان سینیٹر شبلی فراز نے قرار داد پیش کی۔سینٹ میں وزیراعظم عمران خان نے گستاخانہ خاکوں کا معاملہ اقوام متحدہ اور او آئی سی میں اٹھانے کا اعلان کیا،انکا کہنا تھاکہ گستاخانہ خاکوں کے مقابلے مسلمانوں کی اجتماعی ناکامی ہے، مغربی معاشرے میں آزادی اظہار کے نام پر فتنہ اور جذبات بھڑکانا بہت آسان ہے، قومی اسمبلی کیساتھ ساتھ سینیٹ میں بھی ارکان کے سوالوں کے جواب دیا کرؤں گا،اخراجات کم کرنے اور آمدنی بڑھانے اور ایف بی ار میں اصلاحات کا پروگرام ایک ہفتے تک پارلیمنٹ کے سامنے رکھیں گے،جب تک عوام حکومت کو اپنا نہیں سمجھے گی وہ ٹیکس نہیں دیں گے، یقین دلاتا ہوں کہ ملک کومشکل صورتحال سے نکالیں گے۔

اسلام آباد میں پیر کے روز احتساب عدالت نمبر 2کے جج محمد ارشد ملک نے سابق وزیراعظم نوازشریف کیخلاف العزیزیہ اسٹیل ملز اور فلیگ شپ انویسمنٹ ریفرنسز کی سماعت کی۔دونوں ریفرنسز میں نامزد ملزم نواز شریف کو سخت سیکیورٹی میں عدالت لایا گیا، اس موقع پر ان کے وکیل کی سپریم کورٹ میں مصروفیات کے باعث فاضل جج نے سماعت میں ایک گھنٹے کا وقفہ کیا۔ وقفے کے بعد دوبارہ عدالت لگی تو نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے جے آئی ٹی سربراہ اور نیب کے گواہ واجد ضیا پر جرح کی،واجد ضیا نے اس موقع پر بتایا کہ مشاورت کے بعد جے آئی ٹی نے طے کیا کہ ملزمان کے گواہان کو پیشگی سوالنامہ نہیں بھیجا جائے گا جس پر نواز شریف کے وکیل نے سوال کیا کہ کیا اسی فیصلے کو آپ نے جے آئی ٹی رپورٹ کے ساتھ منسلک کیا ہے جس پر ان کا کہنا تھا کہ نہیں ایسا نہیں کیا گیا۔واجد ضیا کا کہنا تھا کہ قطری شہزادے کے خط پرمشاورت کے بعد ہم کسی رائے پر نہیں پہنچ سکے کہ اب دوحا جانا ہے یا نہیں، قطری کی شرائط اور دوحا جانے کا معاملہ سپریم کورٹ کے عملدرآمد بینچ کے سامنے رکھا اور دو آپشنز رکھے کہ ہم دوحا جائیں ہی نہیں اور دوسرا آپشن تھا کہ ہم دوحا جائیں لیکن سوالنامہ پہلے نہ بھیجیں۔جبکہ دوسری جانب سپریم کورٹ نے احتساب عدالت کو سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف العزیزیہ اسٹیل ملز اور فلیگ شپ ریفرنسز کا ٹرائل مکمل کرنے کے لیے مزید6ہفتے کی مہلت دیتے ہوئے احتساب عدالت کوہفتہ وارپیش رفت رپورٹ بھجوانے کا حکم د یاہے۔

پیر کے روز ہی آصف علی زرداری اور ان کی بہن فریال تالپور نے جعلی اکا ؤ نٹس کے ذریعے منی لانڈرنگ کیس میں ایف آئی اے کے سامنے پیش ہو کر بیان قلمبند کرا یا،ایڈیشنل ڈی جی ایف آئی اے نجف مرزا نے آصف زرداری اور فریال تالپورسے پوچھ گچھ کی جس کے دوران مختلف سوالات پوچھے گئے۔آصف زرداری اور فریال تالپور نے منی لانڈرنگ کیس میں عدالت سے عبوری ضمانت حاصل کر رکھی ہے تاہم دونوں ملزمان ایف آئی اے کی جانب سے چوتھی بار طلب کیے جانے پر پیش ہوئے۔

مزید :

ایڈیشن 1 -