تحصیل تونسہ کے پسماندہ علاقے والے عثمان بزدار وزیراعلیٰ، مسائل کو جانتے، حل کرلیں گے؟

تحصیل تونسہ کے پسماندہ علاقے والے عثمان بزدار وزیراعلیٰ، مسائل کو جانتے، حل ...

  

شوکت اشفاق

عیدالضحیٰ ملتان سمیت جنوبی پنجاب میں مذہبی جوش و خروش سے منائی گئی اور کوئی ناخوشگوار واقع وقوع پذیر نہیں ہوا۔ عید اپنے اپنے آبائی علاقوں میں منانے والے بھی واپس جا چکے جبکہ سیاسی رہنماء اور ارکان اسمبلی بھی عید منانے کے بعد وفاقی اور صوبائی دارالحکومتوں میں پہنچ گئے ہیں لاہور میں تو صوبائی کابینہ کے لئے جوڑ توڑ اور مشورے جاری تھے جبکہ اسلام آباد میں صدارتی انتخاب کے لئے گہما گہمی جاری ہے جس کے لئے حکمران جماعت نے ڈاکٹر عارف علوی کو اپنا صدارتی امیدوار مقرر کر رکھا ہے جبکہ ’’متحدہ‘‘ اپوزیشن اس مرتبہ پھر ’’متفقہ‘‘ فیصلہ کرنے میں بوجوہ ناکام رہی ہے، پیپلز پارٹی کے نامزد کردہ صدارتی امیدوار چوہدری اعتزاز احسن کو متفقہ امیدوار بنانا چاہتی ہے جبکہ ن لیگ نے ان کے علاوہ کسی بھی امیدوار کو نامزد کرنے پر ساتھ دینے کا وعدہ کیا اور ساتھ میں یہ مشورہ بھی دیا کہ سید یوسف رضا گیلانی کو صدارتی امیدوار نامزد کر دیا جائے مگر پیپلز پارٹی اپنی بات پر ڈٹی ہوئی ہے اس لئے اب ن لیگ اور اس کی اتحادی جماعتوں کے امیدوار مولانا فضل الرحمن ہوں گے یہ اب تک کی سیاسی پوزیشن ہے ممکن ہے کہ ایک آدھ روز میں مسلم لیگ ن ہی بوجوہ مان جائے گو اس کے امکانات کم ہی ہیں لیکن وہ کیا ہے کہ سیاست میں کوئی بات حرف آخر نہیں ہے اور سیاسی فیصلے راتوں رات بھی تبدیل ہو جاتے ہیں ٹھیک اسی طرح جیسا کہ پنجاب میں ڈیرہ غازی خان کی تحصیل تونسہ کے پس ماندہ علاقے سے سردار عثمان خان بزدار کو وزیر اعلیٰ مقرر کر دیا گیا ہے ویسے یہ بات تو واضح ہے کہ اپوزیشن نے خواہ مخواہ ہی حجت تمام کرتے ہوئے اپنا بھرم ’’خراب‘‘ کر لیا کیونکہ صدارتی انتخاب تو حکمران جماعت کے امیدوار نے جیت ہی جانا ہے اس سے بہتر نہیں تھا کہ یہ اتفاق کا مظاہرہ ہی کر لیتے جس کا حکومتی بنچوں کو کم از کم ایک مضبوط پیغام جاتا تھا مگر اب مستقبل میں بھی یہی صورتحال رہی تو پھر اپوزیشن کا روایتی خوف بھی جاتا رہے گا اب اس کے لئے اپوزیشن کے سیاسی پنڈتوں نے کیا سوچ رکھا ہے یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا کیونکہ قومی ایوان میں اس وقت ارکان اسمبلی کی ایک بڑی تعداد کو فوجداری مقدمات کا سامنا ہے جن کی تعداد 71 ہے اور ان میں 27 کا تعلق حکمران جماعت سے ہے 14 ن لیگ، 10 پیپلز پارٹی، 4 گرینڈ ڈیموکریٹک الائینس، 3 بلوچستان عوامی پارٹی، 2 ایم کیو ایم پاکستان اور 2 اے این پی سے ہیں ان کے مقدمات عدالتوں میں زیر سماعت ہیں اب اس پر ’’تبدیلی‘‘ کا کیا اثر ہوتا ہے اس کے لئے بھی وقت کا انتظار کرنا ہو گا۔

دوسری طرف وزیر اعلیٰ پنجاب جن کا تعلق اس خطے سے ہے کو انتظار کئے بغیر ایسے اقدامات کرنے ہوں گے جس سے سڑکوں پر ٹریفک حادثات کی روک تھام ہو سکے جو جنوبی پنجاب کے پس ماندہ علاقوں میں ہیں کیونکہ ان سڑکوں کی حالت زار اور ٹریفک کے بے ہنگم دباؤ کی وجہ سے آئے دن حادثات ہوتے رہتے ہیں اس عید کی خوشی کے موقعہ پر بھی جنوبی پنجاب کے متعدد علاقوں میں مختلف ٹریفک حادثات میں 34 سے زیادہ قیمتی جانیں ضائع ہوئیں کئی خاندان تباہ ہوئے ہیں جو ایک مسلسل سانحہ کی صورت اختیار کر چکے ہیں تحریک انصاف کے منشور اور وزیر اعظم عمران خان کے قوم سے خطاب کی روشنی میں وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان خان بزدار کا فرض بنتا ہے کہ وہ فوری طور پر اس کا ایکشن لیں اور ذمہ دار متعلقہ محکموں سے اس کی رپورٹ طلب کریں جس کی روشنی میں جو قصور وار ہو اس کے خلاف قانون کے عین مطابق کاروائی کی جائے تاکہ ایسے حادثات پر آئندہ قابو پانے میں مدد مل سکے اب وزیر اعلیٰ اس پر کتنا سنجیدہ عمل کرتے ہیں اس کے لئے انتظار کرنا پڑے گا۔

آخر کار پنجاب کی کابینہ کا اعلان بھی کر دیا گیا ہے شنید تھی کہ چونکہ ملتان سے پی ٹی آئی کو تاریخی کامیابی حاصل ہوئی ہے اس لئے صوبائی کابینہ میں اس کا حصہ ضرور ہو گا لیکن ضلع ملتان تو چھوڑیں ڈویژن بھر سے کسی کو صوبائی کابینہ میں شامل کرنے کے قابل نہیں سمجھا گیا اس طرح کئی عشروں کے بعد یا شاید یہ پہلا موقعہ ہے کہ پنجاب کابینہ میں اتنے اہم ترین علاقے کی نمائندگی نہیں ہے اب یہ چونکہ خالصتاً حکمران جماعت کا اندرونی معاملہ ہے کہ وہ ’’ہما‘‘ کس کے سر رکھتی ہے مگر یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ وفاق کی طرح پنجاب کابینہ میں بھی ماضی کا تسلسل برقرار رکھا گیا ہے اب ان سے وہ کیا تبدیلی لے کر آتے ہیں اس کے لئے کچھ کہنا قبل از وقت ہو گا ادھر وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے ایک مرتبہ پھر جنوبی پنجاب صوبے کے قیام کے لئے پیپلز پارٹی سمیت مختلف سیاسی جماعتوں سے رابطے کا اعلان کیا ہے اس کی وجہ وہ بیان کرتے ہیں کہ اس مقصد کے لئے ہمیں دو تہائی اکثریت کی ضرورت ہے جس کے لئے امید ہے کہ پیپلز پارٹی ان کا ساتھ دے گی غالباً پیپلز پارٹی کو بھی اس کا ادراک ہے یہی وجہ ہے کہ پیپلز پارٹی کے سینئر وائس چیئر مین اور سابق وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ جنوبی پنجاب صوبہ پیپلز پارٹی کے بغیر نہیں بن سکتا کیونکہ سینٹ میں ہماری اکثریت ہے تاہم انہوں نے تحریک انصاف کے لئے بھی قربانیاں دینے کے دور کا آغاز قرار دیا اور کہا کہ حکومت چلانا اس قدر آسان کام نہیں ہے اس کے لئے مسلسل جدوجہد کی ضرورت ہوتی ہے پی ٹی آئی کو اپنے منشور پر عمل درآمد کرنا ہو گا ورنہ نوشتہ دیوار ہے۔

وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کو فری ہینڈ کام کرنے دیا گیا تو وہ جنوبی پنجاب کے مسائل حل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے کیونکہ ان کا تعلق ایک پس ماندہ علاقے سے ہے اور اس علاقے کے مسائل بخوبی سمجھتے ہیں اب انہیں فری ہینڈ کیسے ملتا ہے یہ تو پی ٹی آئی کی قیادت ہی بتا پائے گی کیونکہ جنوبی پنجاب میں اس وقت جو بنیادی مسائل ہیں وہ کسی سے اوجھل نہیں اور خاص کر یہاں کے باسی اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ یہاں پینے کے لئے نہ صرف صاف پانی میسر نہیں ہے بلکہ اب زراعت کے لئے پانی کے حصول میں بھی مشکلات پیدا ہوتی جا رہی ہے پانی ہی کی عدم دستیابی نے یہاں کے باسیوں کو مختلف امراض نے گھیر رکھا ہے جس میں کالا یرقان سمیت گردے کی بیماریاں شامل ہیں جس کے لئے طبی سہولتوں کا فقدان ہے تعلیمی ادارے ہیں تو وہاں انتظامی افسران کی کمی ہے غازی یونیورسٹی میں گذشتہ کئی سالوں سے کوئی مستقل وائس چیئر مین تعینات نہیں ہو سکا اس طرح ملتان کی وومن یونیورسٹی بھی وائس چانسلر سے محروم ہے غرض یہ کہ

درداں دی ماری

اے دلڑی علیل ہے

مگر اب اس کے چارہ گر کی ضرورت ہے وہ کون ہو گا اس کے لئے کیا اب بھی وسیب کو انتظار کرنا ہو گا؟

مزید :

ایڈیشن 1 -