گورنر سندھ، متوقع صدر مملکت کا تعلق کراچی سے، دونوں میں ہم آہنگی شہر کے لئے مفید ہوگی

گورنر سندھ، متوقع صدر مملکت کا تعلق کراچی سے، دونوں میں ہم آہنگی شہر کے لئے ...

  

کراچی :مبشر میر

سیاست کے افق پر عام انتخابات اور وزیراعظم پاکستان کے انتخاب کے بعد صدر مملکت پاکستان کے انتخاب کا مرحلہ ہے ۔صدر ممنون حسین اپنی مدت مکمل کرنے کے بعد ریٹائر ہوجائیں گے ان کا تعلق کراچی سے ہے لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ کراچی خاص طور پر اور سندھ مجموعی طور پر مسائل سے دوچار رہا ہے اگر چہ گزشتہ دس سال کراچی نے سیاسی اتار چڑھاؤ کے کتنے ہی مناظر دیکھے لیکن صدر مملکت ممنون حسین اپنے پانچ سالہ دور میں ایسے لاتعلق نظر آئے جیسے انسانی بدن میں کوئی عضو معطل ہو ۔کراچی کے عوام لینڈ مافیا اور واٹرٹینکر مافیا کے ہاتھوں بری طرح خوار ہورہے ہیں ۔ٹرانسپورٹ اور میونسپل سروسز کے مسائل ہیں ۔یہ بات واضح دکھائی دیتی ہے کہ صدر محترم ،گورنر سندھ سے کراچی کے مسائل پر بات کرنے کی کوشش نہیں کرتے رہے ،سندھ حکومت تو بعد کی بات ہے ۔موجودہ متوقع صدر ڈاکٹر عارف علوی ہیں ۔ان کی کامیابی یقینی دکھائی دیتی ہے ۔وہ شہر کراچی کی ایک معروف شخصیت ہیں ۔دوسری مرتبہ قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے ہیں ۔ان سے یہ توقع نظر آتی ہے کہ وہ کراچی کے مسائل میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے ۔گورنر سندھ عمران اسماعیل کی موجودگی صدر ڈاکٹرعارف علوی کے لیے تقویت کا باعث ہوگی ۔دونوں شروع سے تحریک انصاف سے وابستہ ہیں اور وزیراعظم عمران خان کے قریبی ساتھی ہیں ۔اس حوالے سے کراچی کے لیے یہ خوش آئند ہے کہ گورنر سندھ اور متوقع صدر مملکت کے درمیان پہلے سے ہم آہنگی موجود ہے ۔گورنر سندھ عمران اسماعیل ،کراچی کے لیے خاص طور پر وفاقی حکومت سے بڑا ترقیاتی پیکج حاصل کرنے میں کامیاب ہوسکتے ہیں کیونکہ وزیراعظم عمران خان کے قابل اعتماد ساتھیوں میں ان کا شمار ہوتا ہے ۔

تحریک انصاف کراچی کی کارکردگی اس لحاظ سے قابل تحسین شمار کی جاسکتی ہے کہ صدر کراچی ڈویژن نے ایم پی اے عمران علی شاہ کے معاملے پر ڈسپلن قائم کرنے میں مثبت کردار ادا کیا ۔ایم پی اے کی رکنیت ایک ماہ کے لیے معطل کی اور جرمانہ بھی کیا گیا ہے ۔اس کے ساتھ ساتھ پیپلزپارٹی کی اہم شخصیت کو تحریک انصاف میں شمولیت کروائی ہے ۔مظفر علی شجرہ ،قادر بخش ضلع ملیر کے حوالے سے بہت اہم شخصیات تصور کی جاتی ہیں ۔ضلع ملیر کی پانچ صوبائی نشستوں میں سے چار پر پی پی پی کے امیدوار جیتے تھے اور ایک نشست پر انتخاب ہونا باقی ہے گویا ضمنی الیکشن میں ان کا کردار اہم ہوگا ۔

سندھ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کا معاملہ بھی حل ہوتا دکھائی دے رہا ہے ۔پی ٹی آئی کے رکن خرم شیر زمان جو گذشتہ اسمبلی میں بہت جارحانہ انداز سے متاثر کرچکے ہیں متوقع قائد حزب اختلاف ہوں گے گویا تحریک انصاف صوبہ سندھ اور خصوصی طور پر کراچی شہر کی سیاست میں ایک واضح فرق لانے کی بھرپور کوشش کرے گی لیکن ایک بڑا ٹاسک کراچی کی بزنس کمیونٹی کا اعتماد جیتنا ہے جس کے لیے وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر ،سابق گورنر اسٹیٹ بینک اور موجود مشیر ڈاکٹرعشرت حسین اور معروف بزنس مین اور مشیر رزاق داؤد کا کردار بہت اہمیت کا حامل دکھائی دیتا ہے ۔وزیراعظم پاکستان عمران خان کی اقتصادی ٹیم کے آنے والے فیصلے کراچی کی کاروباری برادری کو مطمئن کرنے کے حوالے سے اہم ہوں گے ۔نئی حکومت کے قیام کے بعد بزنس کمیونٹی بھی انتظار میں ہے کہ وفاقی حکومت کی اقتصادی ٹیم ،معیشت کی بحالی اور بہتری کے لیے کیا منصوبے سامنے لاتی ہے کیونکہ موجودہ حکومت کے لیے سب سے بڑا چیلنج بھی معیشت کی بحالی کا ہے ۔

عیدالاضحی کے موقع پر میئر کراچی وسیم اختر اور وزیر بلدیات سعید غنی کے درمیان سیاسی نوک جھونک موجود تھی کہ عید قرباں کے حوالے سے آلائشیں کس طرح ٹھکانے لگائی جائیں گی ۔سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کی کارکردگی کو میئر کراچی نے تنقید کانشانہ بنایا ہے جبکہ وزیر بلدیات نے ان کے دعوؤں کی نفی کی ہے ۔میئر کراچی ضلعی میونسپل کارپوریشنز کو ختم کرنے کے حامی ہیں جبکہ ان کی پارٹی کے ایم پی اے خواجہ اظہار الحسن نے ضلع وسطی کی کارکردگی کی تعریف کی ہے جہاں ان کے چیئرمین ریحان ہاشمی ہیں گویا ایم کیو ایم بھی مکمل طور پر کسی ایک موقف پر قائم دکھائی نہیں دے رہی ۔صوبائی اور شہری حکومت کا مل کے کام کرنا ہی کراچی کے لیے ضروری ہوگا لیکن اکثریت اس موقف کی اکثریت حامی ہے کہ مسائل کے حل کے لیے شہری حکومت کو زیادہ فعال کرنے کی ضرورت ہے ۔

فیئر اینڈ فری الیکشن نیٹ ورک (FAFEN )نے رپورٹ دی ہے کہ بہت سے کرمنل ریکارڈ رکھنے والے چاروں صوبائی اسمبلیوں کے ممبر منتخب ہوچکے ہیں ۔صوبہ سندھ کی اسمبلی میں 12فیصد یعنی 20ممبران اسمبلی کرمنل ریکارڈ رکھتے ہیں جن میں نصف تعداد پیپلزپارٹی سے تعلق رکھنے والے افراد کی ہے ۔چار کا تعلق جی ڈی اے ،تین تحریک انصاف سے ،دو ایم کیو ایم سے ایک اور آزاد رکن ہے ۔کرمنل ریکارڈ کے حامل افراد کا قانون ساز ادارے کا رکن بن جانا الیکشن کمیشن کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے ۔

ایف آئی اے کا رینجرز کی مدد سے اومنی گروپ کی شوگر مل کھوسکی بدین پر چھاپہ ابھی تک زیر بحث ہے انہوں نے اومنی گروپ کے تحت چلنے والی سولہ شوگرملز کا ریکارڈ قبضے میں لے لیا ہے ۔مذکورہ گرورپ کے سربراہ انور مجید جسمانی ریمانڈ پر ہیں جبکہ منی لانڈرنگ کیس کے حوالے سے حسین لوائی سابق چیئرمین اسٹاک ایکس چینج بھی زیر حراست ہیں ۔دو شخصیات کی حمایت میں کراچی کی کاروباری برادری کی طرف سے کوئی آواز سننے میں نہیں آئی جبکہ دونوں کا قریبی تعلق پیپلزپارٹی کی اعلیٰ قیادت سے ظاہر کیا جارہا ہے ۔سابق صدر آصف علی زرداری اور فریال تالپور پیر کو اسلام آباد میں ایف آئی اے کی ٹیم کے سامنے پیش ہوئے اور سوالات کے جواب دیئے ۔آصف علی زرداری نے ان کیسز کا ذمہ دار نواز شریف حکومت کو قرار دیا ہے کیونکہ منی لانڈرنگ کیس 2015ء میں درج ہوا لیکن اتنا عرصہ اس کی تحقیقات نہیں ہوئیں ۔دیکھنا یہ ہے کہ مذکورہ منی لانڈرنگ کیس پیپلزپارٹی کی سیاست ،سندھ حکومت کی کارکردگی ،آصف علی زرداری کی سیاسی حیثیت اور بلاول بھٹو زرداری کے سیاسی مستقبل کے حوالے سے کس قدر اثر انداز ہوتا ہے ۔

مزید :

ایڈیشن 1 -