A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined offset: 0

Filename: frontend_ver3/Sanitization.php

Line Number: 1246

Error

A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined offset: 2

Filename: frontend_ver3/Sanitization.php

Line Number: 1246

مہذب ہونے کے دعویدار ملک میں ہزاروں خواتین اور بچوں کیساتھ انتہائی شرمنا ک جنسی بدسلوکی کی جانے لگی ، خوفناک حقائق منظر عام پر آگئے

مہذب ہونے کے دعویدار ملک میں ہزاروں خواتین اور بچوں کیساتھ انتہائی شرمنا ک جنسی بدسلوکی کی جانے لگی ، خوفناک حقائق منظر عام پر آگئے

Aug 29, 2018 | 01:39:AM

برلن (ڈیلی پاکستان آن لائن) جدید دور میں غلامی اور جنسی جبر کے خاتمے کے تمام تر دعوﺅں کے باوجود مختلف ممالک میں آج بھی لوگ غلامانہ زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔ دنیا بھر میں اب بھی چالیس ملین افراد جدید غلامی کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہیں جن میں سے تقریباً ایک لاکھ سڑسٹھ ہزار جرمنی میں موجود ہیں۔

جرمن نیوز ایجنسی کے مطابق جرمنی میں سب سے زیادہ جسم فروش خواتین کو استحصال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ڈیٹمار رولر کہتے ہیں، ”جرمنی کو جسم فروشی کا یورپی اڈہ کہا جا سکتا ہے۔“ اعداد وشمار کے مطابق اس شعبے کی زیادہ تر متاثرہ خواتین کا تعلق بلغاریہ، رومانیہ کے علاوہ جرمنی سے بھی ہے۔ اس کے علاوہ نائیجریا کی خواتین بھی متاثرین میں شامل ہیں۔

حکام کے مطابق زیادہ تر خواتین کو دھوکا دیتے ہوئے جسم فروشی پر مجبور کیا جاتا ہے اور پھر ان کے لیے اس شکنجے سے جان چھڑانا مشکل ہو جاتی ہے۔

گزشتہ برسوں کے دوران انٹرنیٹ کے ذریعے جنسی استحصال کے واقعات بڑھ گئے ہیں۔ اس بارے میں رولر کہتے ہیں، ”مثال کے طور پر کوئی جرمن صارف ایک گھنٹے کے لیے فلپائن میں کسی بچے کو کرائے پر لے سکتا ہے اور پھر وہ بچہ کیمرے کے سامنے وہ سب کچھ کرتا ہے، جس کی صارف خواہش کرتا ہے۔“ وہ مزید کہتے ہیں کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جدید غلامی زمینی سرحدوں کی محتاج نہیں ہے۔ اس صورتحال میں کم عمر بچوں کی ایک بڑی تعداد بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔

آسٹریلوی ادارے ’واک فری فاونڈیشن ‘ کے ایک سروے کے میں بتایا گیا ہے کہ دنیا بھر میں چالیس ملین سے زائد افراد جدید غلامی کا شکار ہیں، ”جدید غلامی کا مطلب یہ ہے کہ جب کوئی ایک شخص کسی دوسرے کی آزادی صلب کر لے، اسے جسمانی طور پر کنٹرول کرے اور اسے اس کی مرضی سے کام کرنے یا چھوڑنے کی اجازت بھی نہ ہوتاکہ اس کا استحصال کیا جا سکے۔“ واک فری فاونڈیشن کے مطابق آزادی خوف و خطرات، تشدد، جبر، طاقت کے ناجائز استعمال اور دھوکے سے حاصل کی جاتی ہے۔

لیبیا، قطر اور جمہوریہ کانگو جیسے ممالک سے تو جدید غلامی کی خبریں اکثر سامنے آتی رہتی ہیں۔ تاہم اس دوران یورپی کونسل نے اس براعظم میں انسانوں کی تجارت اور جبری مشقت کے بڑھتے ہوئے واقعات سے بھی خبردار کیا ہے۔ جرائم کی روک تھام کے جرمن ادارے نے بتایا کہ ہوٹلوں اور ریستورانوں میں کام کرنے والے مہاجرین کا خاص طور پر استحصال کیا جاتا ہے جب کہ دیگر کئی شعبوں میں بھی صورتحال کچھ ایسی ہی ہے جس پتہ چلتاہے کہ انسانی حقوق کے علمبردار ان ملکوں میں انسانی حقوق کو کس شرمناک انداز میں پامال کیا جارہاہے ۔

مزیدخبریں