لیگی دور حکومت میں12ہزار میگاواٹ نیشنل گرڈ میں شامل ہوئے ، سینیٹ میں حکومت کا اعتراف

لیگی دور حکومت میں12ہزار میگاواٹ نیشنل گرڈ میں شامل ہوئے ، سینیٹ میں حکومت کا ...

  

 اسلام آباد(آئی این پی)سینیٹ میں حکومت نے اعتراف کیا ہے کہ لیگی دور حکومت میں 2013ء کے بعد12 ہزار میگا واٹ سے زائد بجلی نیشنل گرڈمیں شامل کی گئی، ملک میں اس وقت بجلی کی پیداوارضرورت سے زیادہ ہے،لوڈ شیڈنگ صرف خسارے والے فیڈرز پر کی جا رہی ہے،گزشتہ حکومت نے 3سالوں میں پیٹرولیم مصنوعات پر صارفین کو84ارب19کروڑ روپے کی سبسڈی دی گئی،نیب میں اس وقت 856انکوائریاں جاری ہیں جن میں 43 سیاستدانوں ‘ 67تاجر طبقہ ‘ 136سرکاری افسران اور 610دیگر افراد سے متعلق ہیں، ورلڈبینک سندھ طاس معاہد ے میں پاک بھارت ثالثی کرانے میں دلچسپی نہیں رکھتا،ورلڈ بینک نے کہاہے پاکستان،بھارت انڈس واٹرٹریٹی پرخود بات کریں،بھارت سندھ طاس معاہدے سے پیچھے نہیں ہٹا،ماضی کی حکومتوں نے سندھ طاس معاہد ے سے متعلق زیادہ دلچسپی نہیں لی،اسلام آباد آبپارہ میں سرکاری فلیٹوں پر پولیس اہلکاروں‘ سرکاری ملازمین و دیگرنے ناجائز قبضہ کیا ہوا ہے۔ان خیالات کا اظہار سینیٹ میں وقفہ سوالات کے دوران وزیر اعظم کے مشیر پارلیمانی امور بابر اعوان ،وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم،وفاقی وزیر انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے سینیٹرز کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے کیا ۔ سینیٹر اعظم خان موسیٰ خیل کے سوال کے جواب میں وزیراعظم کے مشیر برائے پارلیمانی امور بابر اعوان نے ایوان کو بتایا کہ خزانہ ڈیم کا پی سی ون 300ملین کا بنا اعظم خان موسیٰ خیل نے کسی پر کرپشن کا الزام لگایا ہے یہ اس کا نام لیں اوریہ ڈیم کی کسی اور جگہ منتقلی کی بھی ہمیں تفصیلات دیں میں اس معاملے کو دیکھ لیتا ہوں۔ سینیٹر ثمینہ کے سوال کے جواب میں بابر اعوان نے کہا کہ پانی کے ذخائر میں ترسیب کی وجہ سے تربیلا ڈیم کے پانی کا ذخیرہ کرنے کی صلاحیت قلیل ہوچکی ہے۔ تربیلا ذخیرے کے ہائیڈرو گرافک سروے 2017 کے مطابق آپریشن کے بعد تربیلا کے ذخیرے کی آنے والی اور کل ذخیرہ کرنے کی صلاحیت 37.524 فیصد اور 40.58فیصد سے کم ہوچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈیموں میں مٹی کا بھر جانا قومی المیہ ہے راول ڈیم سے مری تک درخت کٹ رہے ہیں جتنی بھی مٹی پیدا کریں گے وہ بارش سے ڈیم میں ہی جائے گی ہم اس معاملے پر پورے ایوان کو بریفنگ دیں گے۔ سینیٹر ثمینہ سعید کے سوال کے جواب میں وزیر قانون فروغ نسیم نے کہا کہ سپریم کورٹ میں کوئی خاتون جج نہیں ہے سپریم کورٹ میں تعیناتی کے لئے خواتین جوڈیشل افسران کے لئے کوئی کوٹہ مختص نہیں ہے سپریم کورٹ میں خواتین ججوں تعیناتی پر کوئی پابندی نہیں ہے تعیناتی صرف میرٹ پر ہوتی ہے اور کسی بنیاد پر کوئی کوٹہ نہیں ہے۔ وزیراعظم کے مشیر برائے پارلیمانی امور بابر اعوان نے کہا کہ ہماری پچاس فیصد سے زیادہ آبادی خواتین کی ہے میں اس حوالے سے ایک بل لایا تھا اب اس بل کو دوبارہ لانے کی کوشش کروں گا۔ اب خواتین جہاز بھی اڑا رہی ہیں۔ ہائی کورٹس میں بھی خواتین ججز موجود ہیں اس حوالے سے کوئی متفقہ بل پاس کیا جائے کہ سپریم کورٹ میں خواتین ججز کا کوئی کوٹہ مختص کیا جائے۔ خواتین کو نمائندگی ملنی چاہئے تاہم وزیر قانون فروغ نسیم نے کہا کہ یہ معاملہ بل سے نہیں ہوگا آئین میں ترمیم کرنا پڑے گی جوڈیشل تقرریاں میرٹ پر ہونی چاہئیں۔ سینیٹر اعظم خان سواتی کے سوال کے جواب میں وزیر توانائی نے ایوان کو بتایا کہ اس وقت چار نیوکلیئر پاور پلانٹس قومی گرڈ میں تعاون کررہے ہیں۔ سینیٹر آغا شاہ زیب درانی کے سوال کے جواب میں وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری نے ایوان کو بتایا کہ ورلڈبینک سندھ طاس معاہد ے میں پاک بھارت ثالثی کرانے میں دلچسپی نہیں رکھتا،ورلڈ بینک نے کہاہے پاکستان،بھارت انڈس واٹرٹریٹی پرخود بات کریں،بھارت سندھ طاس معاہدے سے پیچھے نہیں ہٹا،ماضی کی حکومتوں نے سندھ طاس معاہد ے سے متعلق زیادہ دلچسپی نہیں لی،گزشتہ حکومتوں کابھارت کومطمئن کرنے کا رویہ رہا ہے،پاکستان ہمیشہ ثالثی کی لئے تب گیاجب بھارت ڈیم تعمیرکرچکاہوتاتھا،بھارتی وفدآرہاہے،جس سے سندھ طاس معاہدے پر بات ہو گی ، اب ہماری حکومت بھارت سے پانی کے معاملے پرسخت موقف اپنائیگی،اب ہم پانی پر بھارت کو کوئی رعایت نہیں دیں گے، سینیٹر رانا محمود الحسن کے سوال کے جواب میں بابر اعوان نے ایوان کو بتایا کہ لاکھڑا پاور پلانٹ پر آگ کا حادثہ جولائی 2017میں ہوا جبکہ اس کی مرمت دسمبر میں کی گئی یہ آپریشن کے لئے تیار ہے مگر اسے چلایا نہیں گیا ہم نے اسے نیب کے حوالے کرنے کا بھی کہا ہے۔ سینیٹر چوہدری تنویر کے سوال کے جواب میں وزیر پٹرولیم غلام سرور نے ایوان کو بتایا کہ تاپی منصوبے پر حکومت کی طرف سے اس سال کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہماری کوشش ہے کہ ہمارے دور میں یہ منصوبہ مکمل ہو۔ 274ارب روپے اکٹھے ہوچکے ہیں۔ سینیٹر دلاور خان کے سوال کے جواب میں وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس کی جانب سے تحریری جواب میں ایوان کو بتایا گیا کہ ماسوائے بلاک نمبر9‘ جی سکس1/2اسلام آباد کے آبپارہ کے قریب بنائے گئے سرکاری فلیٹوں پر پولیس اہلکاروں‘ سرکاری ملازمین اور دیگر قابضین نے ناجائز قبضہ کیا ہوا ہے۔کیونکہ فلیٹوں کا قبضہ ابھی تک سی ڈی اے کی جانب سے سٹیٹ آفس اسلام آباد کو نہیں دیا گیا لہذا یہ دفتر ان قابضین کے خلاف کوئی تادیبی کا فوجداری کارروائی کرنے سے قاصر ہے۔سینیٹر میاں عتیق شیخ کے سوال کے جواب میں وزارت قانون و انصاف نے تحریری طور پر ایوان کو آگاہ کیا کہ اس وقت قومی احتساب بیورو میں 856انکوائریاں چل رہی ہیں جن میں سے 43سیاستدانوں ‘ 67تاجر طبقہ ‘ 136سرکاری افسران اور 610دیگر افراد سے متعلق ہیں جبکہ 314 مقدمات کی تفتیش جاری ہے جن میں 27سیاستدانوں‘ 54تاجر طبقہ ‘ 74سرکاری افسران اور 159دیگر افراد شامل ہیں۔ سینیٹر مشتاق احمد کے سوال کے جواب میں وزارت توانائی نے تحریری طور پر ایوان کو آگاہ کیا کہ ملک میں اس وقت بجلی کی پیداواری صلاحیت بجلی کی ضرورت سے بھی زیادہ ہے۔ جنریشن شارٹ فال کے حوالے سے لوڈشیڈنگ دسمبر 2017 سے ختم کردی گئی ہے 2013 سے بجلی گھروں کی 11457مشترکہ گنجائش نیشنل گرڈ میں شامل کردی گئی ہے اس سے لوڈشیڈنگ کے دورانیے میں خاطر خواہ کمی آئی ہے ۔سینیٹر مشتاق احمد کے ہی سوال کے جواب میں وزارت پٹرولیم ڈویژن نے ایوان کو تحریری طور پر بتایا کہ گزشتہ تین سالوں کے دوران تیل کی قیمتوں میں عالمی سطح پر اتار چڑھاؤ کی وجہ سے حکومت سے اوگرا کی سفارش کردہ قیمتوں کے مقابلے میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو وقتاً فوقتاً کم کیا ہے۔ جس کے نتیجے میں حکومت نے اندازہ شدہ حجم کی بناء پر صارفین کو پٹرولیم کی قیمتوں میں کل 84192ملین روپے کی سبسڈی فراہم کی ہے جس میں سے سال 2015-16میں 21178ملین 2016-17میں 22879 ملین 2017-18میں 29447 ملین جبکہ 2018-19میں 10687ملین کی سبسڈی شامل ہے۔ سینیٹر سراج الحق کے سوال کے تحریری جواب میں وزارت توانائی نے ایوان کو بتایا کہ پاورڈویژن کیاقدامات کے باعث بجلی پیداوار،طلب سے زیادہ ہے،لوڈ شیڈنگ دسمبر 2017 میں ختم کر دی گئی ہے،2013 سے قومی گرڈمیں 12025.80 میگا واٹ بجلی شامل کی گئی،10فیصدسے کم خسارے کے فیڈرزپرساڑھے3 گھنٹے لوڈ مینجمنٹ کی جاتی ہے ، 60سے80 فیصدتک خسارے والے فیڈرزپر8گھنٹے لوڈشیڈنگ کی جاتی ہے، 80سے100فیصدخسارے و الے فیڈر زپر12 گھنٹے سے زائدلوڈشیڈنگ کی جا رہی ہے ، سینیٹ میں 2013 سے 2018 تک بجلی کی پیداوار،طلب، شارٹ فال کی تفصیلات بھی پیش کر دیں گئیں ،وزارت توانائی کی جانب سے تحریری جواب میں ایوان کو آگاہ کیا گیا ہے کہ جولائی 2013 میں ملک میں شہری علاقوں میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ 12 گھنٹے تھی ، جولائی 2013 میں بجلی کا شارٹ فال 7362میگاواٹ تھا ،جولائی 2013 میں بجلی کی طلب 20 ہزار ،پیداوار13 ہزارمیگاواٹ تھی ،صارفین کومختلف ٹیرف پررعایتی نرخوں پربجلی دی جارہی ہے بجلی کی لوڈ شیڈنگ کی اہم وجوہات طلب،ٹرانسمیشن،تقسیمی نظام،خسارہ وصولی ہے ،ملک میں بجلی کی پیداوار استعداد ،طلب سے زیادہ ہے ۔

سینیٹ میں اعتراف

مزید :

صفحہ آخر -