دنیا بھر کے 90کروڑ بچے سکولوں میں پینے کے صاف پانی سے محروم ، ڈبلیو ایچ او

دنیا بھر کے 90کروڑ بچے سکولوں میں پینے کے صاف پانی سے محروم ، ڈبلیو ایچ او

  

لندن(آئی این پی )لمی ادارہ برائے صحت ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او)کے ڈاکٹر ریک جانزٹن نے کہا ہے کہ دنیا بھر میں زیر تعلیم 90کرو ڑ بچوں کو اسکول میں پینے کے صاف پانی، ٹوائلٹ اور ہاتھ دھونے کی سہولیات میسر نہیں ہیں،سہولیات کی عدم فراہمی بچوں کی ذہنی و جسمانی پسماندگی کا سبب بن رہی ہیں۔ بین الاقوامی میڈیا کے مطابق دنیا بھر کے نصف اسکول پینے کے صاف پانی، ٹوائلٹ اور ہاتھ دھونے کی سہولیات سے محروم ہیں جس کے باعث کروڑوں معصوم بچے طبی امراض کے خطرے سے دوچار ہیں۔ دنیا بھر کے 90 کروڑ زیر تعلیم بچے غیر حفظانِ صحت کے ماحول میں تدریس کے زیورسے مزین ہورہے ہیں ۔عالمی ادارہ برائے صحت ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او)کے ڈاکٹر ریک جانزٹن نے بتایا کہ مناسب سہولیات کی فراہمی کے بغیر معیاری تدریس کا ماحول پیدا نہیں ہو سکتا۔تحقیق میں بتایا گیا کہ پینے کے لیے صاف پانی اور صفائی کی سہولیات کی عدم فراہمی کے نتیجے میں جسم میں پانی کی کمی اور امراض کا خطرہ بڑھ جاتا ہے جبکہ بعض صورتوں میں بچوں کی موت کی وجہ بھی بنتی ہے۔ اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے برائے اطفال یونیسف) اور ڈبلیو ایچ او کے اشتراک سے جاری تحقیق میں بتایا گیا کہ ہر تیسرے پرائمری اور سیکنڈری اسکول میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی اور قابل استعمال پانی کی ترسیل کا نظام موجود نہ ہونے کی وجہ سے 57 کروڑ بچے متاثر ہو رہے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ دنیا بھر کے تقریبا 20 فیصد اسکولوں میں پینے کا صاف پانی میسر نہیں ہے۔علاوہ ازیں ہر 5 میں سے ایک پرائمری اسکول اور ہر 8 میں سے ایک سیکنڈری اسکول صحت و صفائی کے باقاعدہ نظام سے محروم ہے۔رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ اسکولوں میں 90 کروڑ بچے کو ہاتھ دھونے کے لیے مناسب جگہ میسر نہیں ہے جس سے انفکیشن کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔اس ضمن میں بتایا گیا کہ افریقی صحرائے اعظم، ایشیا اور جنوبی ایشیائی ممالک کے اسکول سب سے زیادہ متاثر ہیں۔

مزید :

علاقائی -