کابل، مسلح افراد کا حملہ، افغان ایئر فورس کے 2پائلٹ جاں بحق

کابل، مسلح افراد کا حملہ، افغان ایئر فورس کے 2پائلٹ جاں بحق

  

کابل(آئی این پی )افغان دارالحکومت کابل میں مسلح افراد نے فائرنگ کرکے افغان ایئر فورس (اے اے ایف)کے 2 پائلٹس کو قتل کر دیا، موٹرسائیکل پر سوار مسلح ملزمان نے اس وقت فائرنگ کی جب دونوں پائلٹس کام پر جارہے تھے۔ بین الاقوامی میڈیا کے مطابق افغان دارالحکومت کابل میں مسلح افراد نے فائرنگ کرکے افغان ایئر فورس (اے اے ایف)کے 2 پائلٹس کو قتل کردیا۔ حکام نے پائلٹس کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ پی ڈی 15 کے علاقے میں موٹرسائیکل پر سوار مسلح ملزمان نے اس وقت فائرنگ کی جب دونوں پائلٹس کام پر جارہے تھے۔اس حوالے سے وزارت دفاع کے ترجمان محمد ردمنیش کا کہنا تھا کہ 2 افراد کو مسلح افراد کی جانب سے اس علاقے میں نشانہ بنایا گیا، جہاں وہ رہائش پذیر تھے۔انہوں نے کہا کہ دونوں پائلٹس کے قتل کے معاملے پر تحقیقات ٹیم کو ٹاسک دے دیا ہے۔واقعے کے حوالے سے کابل کے رہائشی فردین کا کہنا تھا کہ فائرنگ کے بعد جب وہ پائلٹس کے باس گئے تو ایک شخص ہلاک جبکہ دوسرا زخمی تھا، تاہم دوسرا پائلٹ شدید زخمی تھا جو بعد میں ہلاک ہوگیا۔

کابل(این این آئی)افغان عہدے داروں نے کہا ہے کہ ہمسایہ ملک تاجکستان کے طیاروں نے ایک جھڑپ کے دوران 2 تاجک سرحدی محافظوں کے ہلاکت کے افغانستان کی سرحد کے اندر بم برسائے اور منشیات کے 6 اسمگلروں کو ہلاک کر دیا۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق افغانستان کے شمالی صوبے تخار کے عہدے داروں نے کہا دونوں ملکوں کی سرحد پر واقع ضلع درقد میں ایک دریا کے قریب ایک چھوٹے جنگل میں طالبان اور منشیات کے اسمگلر بہت متحرک ہیں۔تخار کے گورنر کے ترجمان جواد ہجری نے کہا کہ طالبان اور اسمگلروں کے درمیان جھڑپیں شروع ہو گئیں جن کا دائرہ تاجکستان کے سرحدی محافظوں تک پھیل گیا۔جھڑپوں میں دو تاجک گارڈز کی ہلاکت کے بعد، تاجک فورسز نے طیاروں کے ذریعے بم برسانے کے بعد بھاری توپ خانے سے گولہ باری کی۔مقامی میڈیا کا کہناتھا کہ فضائی حملے یا تو تاجک فورسز نے کیے یا پھر روسی طیاروں نے۔خبررساں ادارے کے مطابق روسی اور تاجک عہدے داروں نے تخار میں بم گرانے سے انکار کر دیا ہے۔طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہدنے کہاکہ جھڑپیں منشیات کے اسمگلروں اور تاجکستان کے سرحدی محافظوں کے درمیان ہوئیں۔انہوں نے بتایا کہ طالبان جنگجوؤں کو ہمسایہ ملکوں کے ساتھ لڑنے کی اجازت نہیں ہے۔افغانستان اور ہمسایہ وسطی ایشیائی ریاستوں کے درمیان جھڑپوں کے واقعات نہ ہونے کے برابر ہیں۔اس سال کے شروع میں طالبان ضلع تخار کے مرکز پر قابض ہو گئے تھے جس کے بعد کئی گھنٹوں تک جاری رہنے والی شدید لڑائی میں افغانستان سیکیورٹی فورسز نے طالبان سے علاقہ خالی کروا لیا تھا۔

مزید :

علاقائی -