منی لانڈرنگ کیس ایف آئی اے ، نے رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرادی ، جے آئی ٹی بنانے کی سفارش

منی لانڈرنگ کیس ایف آئی اے ، نے رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرادی ، جے آئی ٹی ...

  

اسلام آباد،کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک،آئی این پی)منی لانڈرنگ کیس میں ایف آئی اے نے رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرا تے ہوئے جے آئی ٹی بنانے کی سفارش کردی۔تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں بنچ نے منی لانڈرنگ کیس کی سماعت کی،ڈی جی ایف آئی اے ،اعتزاز احسن ،اومنی کے سربراہ انور مجید کے وکیل اور دیگر عدالت میں پیش ہوئے۔چیف جسٹس پاکستان نے استفسار کیا کہ حسین لوائی کہاں ہیں؟ایف آئی اے نے کہا کہ حسین لوائی جوڈیشل ریمانڈپرہیں، آصف زرداری،فریال تالپورنے ضمانت قبل ازگرفتاری لے رکھی ہے۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آصف زرداری کی ضمانت کب تک ہے،ڈی جی ایف آئی اے نے کہا کہ آصف زرداری 3 ستمبر تک حفاظتی ضمانت پرہیں۔عبدالغنی مجید کے وکیل شاہد حامد ایڈووکیٹ نے کہا کہ میرے موکل کی کی زندگی کوخطرہ ہے،عبدالغنی مجیدکووکیل سے ملنے کی اجازت دی جائے،عدالت نے شاہدحامد کے ملنے کی درخواست مستردکردی۔چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ جوبیماری لکھی وہ اتنی بڑی نہیں ،بڑاآدمی بیمارہوتومصیبت پڑجاتی ہے،وکیل سے ملنے کی کوئی ضرورت نہیں،علاج کرایاجائے۔چیف جسٹس نے کہا کہ پائلز کی بیماری ہونامعمول کی بات ہے،حسین لوائی کی کیا صورتحال ہے۔اعتزازاحسن اوردیگروکلاکی جانب سے التواکی درخواست کی گئی اس پر عدالت نے کیس کی سماعت 5 ستمبرتک ملتوی کردی، چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 5 ستمبر کے بعد روزانہ کی بنیاد پر کیس کی سماعت کریں گے۔دوسری جانببینکنگ کورٹ نے منی لانڈرنگ کیس میں گرفتار ملزمان انور مجید اور عبدالغنی مجید کو عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔ کراچی کی بینکنگ کورٹ میں منی لانڈرنگ کیس کی گزشتہ روزسماعت ہوئی جہاں ایف آئی اے نے ملزمان انورمجید اور عبد الغنی مجید کو عدالت میں پیش کیا۔عدالت نے ایف آئی اے پراسیکیوٹر سے استفسار کیا کہ کیس کا تفتیشی افسر کہاں ہے؟ جس پر ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے جواب دیا کہ تفتیشی افسر اسلام آباد میں مصروف ہے جس کے باعث سیکنڈ تفتیشی افسر آیا ہے۔ایف آئی اے نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان سے تفتیش ہوچکی ہے لہٰذا عدالتی ریمانڈ پر بھیجا جائے جس پر عدالت نے ایف آئی اے کی استدعا منظور کرتے ہوئے انورمجید اور صاحبزادے عبد الغنی مجید کو عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔اس موقع پر ملزمان کے وکیل نے کہا کہ ملزمان کو جیل کے بجائے ہسپتال منتقل کیا جائے تاہم بینکنگ کورٹ نے منی لانڈرنگ کیس کی مزید سماعت4 ستمبر تک ملتوی کردی۔قبل ازیں عدالت لائے جانے پر صحافیوں نے انور مجید سے سوال کیا کہ آپ کی شوگر ملوں پر چھاپا پڑا ہے؟ جس پر ان کا کہنا تھا کہ ایک شوگر مل پر چھاپا پڑا ہے۔ایک اور سوال کے جواب میں انور مجید نے کہا کہ شوگر مل سے ملنے والا اسلحہ لائسنس یافتہ ہے۔نجی ٹی وی کے مطابقمنی لانڈرنگ کیس سے متعلق ایف آئی اے حکام نے تصدیق کی ہے کہ رقم سے فائدہ اٹھانے والوں کی تعداد 400 کے لگ بھگ ہے جن میں سینئر بیوروکریٹس اور سابق وزراء بھی شامل ہیں۔ایف آئی اے ذرائع کے مطابق منی لانڈرنگ کیس کے پہلے مرحلے میں 32 افراد کے خلاف تحقیقات جاری ہیں جبکہ دوسرے مرحلے میں 400 افراد کو شامل تفتیش کیا جائے گا۔ذرائع کے مطابق ایف آئی اے نے منی لانڈرنگ کے پیسوں سے فائدہ اٹھانے والوں کی فہرست تیار کر رکھی ہے۔

مزید :

صفحہ اول -