نئے پاکستان میں ہسپتالوں کی حالت زار بدلنے کیلئے سب کو مل کر کام کرنا ہوگا ، وزیراعلی پنجاب

نئے پاکستان میں ہسپتالوں کی حالت زار بدلنے کیلئے سب کو مل کر کام کرنا ہوگا ، ...

  

لاہور(نمائندہ خصوصی) وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے کہا ہے کہ نئے پاکستان میں ہسپتالوں کی حالت زاربدلنے کیلئے سب کو کام کرکے دکھانا ہوگا، ایسا نظام لائیں گے جہاں مریضوں کو جدید معیاری علاج میسر ہو۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال میاں چنوں کے دورہ کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے ہسپتال میں مختلف وارڈز کا معائنہ کیا ، مریضوں کی عیادت کی اور ان سے طبی سہولتوں کے بارے میں استفسار کیا۔ وزیراعلیٰ نے بعض مریضوں کی جانب سے ہسپتال میں علاج معالجے کی سہولتوں کے حوالے سے شکایات کا نوٹس لیتے ہوئے وزیراعلیٰ نے ڈاکٹرز کو شکایات کے فوری ازالے کی ہدایت کی۔ بعدازاں وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدارنے میاں چنوں کے نواحی علاقے محسن وال میں فضل بیگم ویلفےئر ٹرسٹ ہسپتال کا دورہ کیا اور نجی ہسپتال کے مختلف شعبوں کا معائنہ کیا۔ہسپتال کے مالک رانا محمد خان نے ادارہ حکومت پنجاب کو عطیہ کے طورپردینے کا اعلان کیا ۔قبل ازیں وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدارنے پاکپتن میں حضرت بابا فریدالدین گنج شکر ؒ کے مزار پر حاضری دی اور پھولوں کی چادر چڑھائی ۔وزیراعلیٰ نے مزار پر فاتحہ خوانی ، ملک کی سلامتی ، استحکام اور عوام کی ترقی و خوشحالی کیلئے دعائیں کی۔دریں اثناء وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدارنے کینال ریسٹ ہاؤس پاکپتن میں تحریک انصاف کے اراکین پارلیمنٹ نے ملاقات کی اورمختلف امور پر تبادلہ خیال کیا۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کا نیا پاکستان بنانے کیلئے ہم نے ایک ٹیم ورک کے طورپر کام کرنا ہے لہٰذا آپ میری ٹیم کا حصہ ہیں اورصوبے کے عوام کے مسائل کے حل کیلئے خدمت کے جنون سے کام کریں گے۔دوسری جانب حکومت پنجاب کے ترجمان نے میڈیا پر نشر ہونے والی خبر کی تردید کرتے ہوئے کہاہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب کے تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال میا ں چنوں کے دورے کے دوران بچی کے جاں بحق ہونے کا واقعہ پیش نہیں آیا۔ترجمان کے مطابق دورے کے دوران وزیراعلی سے ایک روز قبل مذکورہ ہسپتال میں جاں بحق ہونے والی بچی کے لواحقین نے ملاقات کر کے واقعہ کی تفصیل بیان کی۔ وزیر اعلی نے لواحقین کودلاسہ دیا اور حقائق جاننے کیلئے کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت کرتے ہوئے کہاکہ کمیٹی 48 گھنٹے کے اندر بچی کے جاں بحق ہونے کے واقعہ کی رپورٹ پیش کرے گی۔علاوہ ازیں وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدارنے پاکپتن کے دورے کے دوران دکانیں بند کرانے اور قافلے میں زائد گاڑیاں شامل ہونے پر اظہار برہمی کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر سے رپورٹ طلب کر لی ۔بعدازاں وزیراعلیٰ آفس میں مختلف وفود سے گفتگو کرتے ہوئے سردار عثمان بزدار نے کہا کہ میں عمران خان کا سپاہی ہوں اور ہمارا ایجنڈا کام، کام اور صرف کام ہے۔جو ذمہ داری ملی ہے اسے فرض سمجھ کر نبھاؤں گا۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کے خواب کو عملی تعبیر دینے کیلئے کوئی کسر اٹھا نہ رکھیں گے کیونکہ عمران خان 22 کروڑ عوام کیلئے نئی روشنی اور امیدہیں۔

وزیراعلیٰ پنجاب

ملتان،میاں چنوں، عبدالحکیم، محسن وال، خانیوال، پاکپتن (نمائندگان پاکستان) وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے کہا ہے کہ عام آدمی کی مشکلات کو کم کرنا تعلیم اور صحت کے شعبوں میں انقلابی تبدیلیاں لانا ان کا خصوصی مشن ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنے دیرینہ دوست عبدالحکیم کے رہائشی اور بارکونسل کے ممبر رانا آصف سعید ایڈووکیٹ سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ وزیر اعلیٰ پنجاب گزشتہ روز عبدالحکیم کے نزدیک اپنے چچا سسر اسلم خان بزدار کے گھر آئے تھے اس موقع پر اسلم خان بزدار نے پر تکلف ظہرانہ دیا وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار سے انجمن کریانہ مرچنٹ عبدالحکیم کے صدر خالد میو نے ملاقات کی اور تاجروں کے مسائل بارے آگاہی حاصل کی اور چھوٹے تاجروں کو ریلیف دینے بارے خالد میو سے گفتگو کی اس موقع پر عبدالحکیم کی جان محمد شہزاد اور علاقہ کے لوگ بھی موجود تھے ۔بعدازاں وہ اپنے عزیز وں سے ملنے گاؤں 2ایٹ آر گئے اور پھر اپنے قریبی دوست صدر بار میاں چنوں ملک مسعود اعوان اور ملک نوید اعوان کے والدکی وفات پر فاتحہ خانی کی۔خانیوال میں وزیر اعلی کی آمد کے موقع پر ایم این اے پیر ظہور حسین قریشی ،تحصیل صدر پی ٹی آئی میاں عامر مقامی رہنماء پی ٹی آئی جمشید شوکت اور کارکنان پی ٹی آئی بڑی تعداد میں موجود تھے ۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر خانیوال اشفاق احمد چوہدری،ایس پی انویسٹی گیشن بہار علی شاہ اور دیگر افسران موجود تھے۔نمائندہ پاکپتن کے مطابق وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار کی پاک پتن آمد پر مقامی انتظامیہ نے انہیں20 گاڑیوں کا پروٹوکول دیا جبکہ وزیراعلیٰ کے انتظار میں دربار بابا فریدؒ کے سجادہ نشین کے دو بیٹے دیوان عثمان، دیوان احمد مسعود اور ان کے کزن ناصر چشتی تین گھنٹے قبل ہی آکر دربار پر بیٹھ گئے کہ وزیر اعلی کی دستار بندی کر سکیں ،دربار بابا فرید کو ملک بھر سے آنے والے زائرین سے خالی کروا لیا گیا دو گھنٹے تک عام زائرین مزار شریف پر حاضری نہ دے سکے پولیس نے زبردستی سڑکیں ا ور دوکانیں بند کرا دیں جس سے شہری شدید مشکلات سے دوچار ہوتے رہے ان کی دربار پر آمد کے موقع پر مشکلات سے دوچار زائرین نے پی ٹی آئی حکومت کے خلاف نعرہ بازی بھی کی۔ دربار پر سجادہ نشینوں نے کنٹرول سنبھالے رکھا جبکہ محکمہ اوقاف کے مقامی ایڈمنسٹریٹر اور مینیجر بہشتی دروازے پر چادریں لے کر ہی کھڑے رہ گئے سجادہ نشینوں نے وزیراعلی کی مزار شریف کے اندر دستار بندی کر کے انہیں واپس روانہ کر دیا ۔وزیر اعلی دربار سے واپسی پر اپنے کلاس فیلو پی ٹی آئی کے ایم پی اے احمد شاہ کھگہ کی رہائش گاہ پر پہنچے اور وہاں پی ٹی آئی ورکروں سے ملاقاتیں کیں۔

سردار عثمان بزدار

مزید :

صفحہ اول -