A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined offset: 0

Filename: frontend_ver3/Sanitization.php

Line Number: 1246

Error

A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined offset: 2

Filename: frontend_ver3/Sanitization.php

Line Number: 1246

اپوزیشن متفقہ صدارتی امیدوار اب خواب وخیال ہے ، عارف علوی کی جیت یقینی

اپوزیشن متفقہ صدارتی امیدوار اب خواب وخیال ہے ، عارف علوی کی جیت یقینی

Aug 29, 2018

قدرت اللہ چوہدری

تجزیہ : قدرت اللہ چودھری

 اگرچہ آخری کوششیں تو ہو رہی ہیں کہ کسی نہ کسی طرح اپوزیشن کا متفقہ صدارتی امیدوار آ جائے لیکن یہ سب کوششیں بالآخر اسی طرح ناکام ہو جائیں گی جس طرح اب تک کی جانے والی کوششوں کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا، ناکامی ان کوششوں کا مقدر ٹھہرے گی آپ حضرات ٹی وی سکرینوں پر جو بظاہر امید افزا گفتگو ئیں سن رہے ہیں یارجائیت کی جو تصویر دیکھ رہے ہیں وہ حقیقی تصور نہیں ہے۔ اسے آپ سموک سکرین بھی کہہ سکتے ہیں یا پھر اگر جٹکی بات کی جائے تو کہا جا سکتا ہے کہ فیصلے وہی رہیں گے جو ہو چکے، یہ کوششیں وقت گزاری کا ایک بہانہ ہیں یا پھر ایک دل خوش کن مشغلہ ہے جس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلنے والا، اگر آپ کو ہمارے اس تجزیئے سے اتفاق نہیں ہے تو گزشتہ چند دن میں جاری ہونے والے ان بیانات پر ذرا ٹھنڈے دل سے غور کر لیں جو متعلقہ حضرات اور ان کے ساتھیوں کی جانب سے جاری ہوئے، پیپلزپارٹی کے سینئر رہنما قمر زمان کا ئرہ نے گزشتہ روز صاف گوئی سے کہہ دیا کہ یہ جو اپوزیشن اتحاد اتحاد کی رٹ لگائی جا رہی ہے کون کہتا ہے یہ کوئی اتحاد تھا، یہ تو ایک بندوبست ہے، اس لئے اگر متفقہ امیدوار نہیں بھی آتا تو زیادہ سے زیادہ یہ بندوبست ہی متاثر ہو گا، اپوزیشن جماعتوں کا کوئی اتحاد چونکہ موجود ہی نہیں اس لئے اتحاد پر کیا فرق پڑتا ہے۔ خود صدارتی امیدوار چودھری اعتزاز احسن نے معذرت کرنے کے سینیٹر پرویز رشید کے بیان کو ’’جاگیردارانہ ذہنیت کا عکاس‘‘ قرار دے دیا ہے۔ آپ کو یاد ہو گا کہ پرویز رشید نے مطالبہ کیا تھا کہ اعتزاز احسن اگر نواز شریف سے معذرت کریں تو ان کے نام پر غور ہو سکتا ہے۔ یہ مطالبہ چودھری اعتزاز احسن کو قبول نہیں ہے، دوسری جانب مشاہد اللہ بھی بڑے غصہ میں ہیں ان کا کہنا ہے کہ اعتزاز احسن پربات کرنا نواز شریف کا لیول نہیں ہے۔ اس ماحول میں اگر احسن اقبال یا کسی دوسری جانب سے اعتزاز احسن کے متبادل امیدوار کی بات آ گئی تھی تو اب اس کا بھی وقت نہیں رہ گیا کیونکہ جو کاغذات نامزدگی فائل ہونے تھے وہ ہو گئے، مزید کوئی امیدوار میدان میں نہیں اتر سکتا اور اگر متفقہ امیدوار لانا ہے تو چوائس صرف دو ان امیدواروں کے درمیان ہے جو کاغذات جمع کرا چکے یعنی مولانا فضل الرحمٰن اور چودھری اعتزاز احسن اب کوئی فارمولا بھی وضع کر لیا جائے تان اس بات پر ٹوٹے گی کہ وقت گذر چکا ہے کیونکہ جب متبادل امیدواروں کی چوائس موجود تھی اور مسلم لیگ (ن) کہہ رہی تھی کہ پیپلزپارٹی کوئی بھی تین نام دے دے ان میں سے انتخاب کر لیا جائے گا تو جواب یہ دیا گیا تھا کہ پیپلزپارٹی کے پہلے امیدوار بھی چودھری اعتزاز احسن ہیں اور آخری بھی، اس دوران متبادل امیدواروں کا وقت ہی گذر گیا، اب ’’بہتر امیدوار‘‘ کا کلیہ استعمال کیا جا رہا ہے یعنی یہ کہا جا رہا ہے کہ دونوں امیدواروں میں سے بہتر کون ہے مولانا یا چودھری، اب ظاہر ہے دونوں حضرات کے حامی موجود ہیں کسی کو مولانا پسند ہیں اور کسی کو چودھری تو پھر فیصلہ کیسے ہو گا، پھر جو حضرات قیامت کی نظر رکھتے ہیں وہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ تحریک انصاف کا امیدوار کس طرح جیت سکتا ہے، عارف علوی کی جیت کے لئے اس سے آئیڈل صورت ہو نہیں سکتی کہ ان کے مدمقابل دو امیدوار کھڑے ہوں اور ووٹ تقسیم ہو جائیں وہ آسانی سے جیت جائیں، جیت تو وہ پھر بھی جائیں گے کیونکہ انہوں نے جہانگیر ترین کو لندن سے واپس بلانے میں کامیابی حاصل کر لی ہے جو ابھی چند دن پہلے یہ کہہ کر رخصت ہوئے تھے کہ عمران خان وزیر اعظم بن گئے اس لئے ان کا کام ختم اب وہ اپنے بزنس پر توجہ دیں گے یا فارمنگ کریں گے لیکن عارف علوی نے کہا کہ ہماری باری آئی تو جہانگیر ترین برطانیہ چلے گئے، وہ واپس آ گئے ہیں ممکن ہے وہ کوئی جنتر منتر پڑھیں یا کوئی فسوں پھونکیں، لیکن عارف علوی کو جو اپوزیشن ملی ہے اس کے ہوتے ہوئے کسی فسوں گری کی سرے سے ضرورت ہی نہیں انہیں مطمئن رہنا چاہئے کہ اپوزیشن جماعتوں کا ’’بندوبست‘‘ ان کا کچھ بگاڑ نہیں پائے گا، دونوں امیدوار کھڑے رہیں گے، مولانا فضل الرحمٰن بھی اور چودھری اعتزاز احسن بھی، کیونکہ یہ حضرات یہ فیصلہ کر چکے ہیں کہ انہوں نے جیتنے کے لئے انتخاب نہیں لڑنا، اگر جیت کے لئے میدان میں اترنا ہوتا تو شروع میں ہی زیادہ بہتر اور قابل قبول طریقہ اپنایا جا سکتا تھا اور مشاورت کے ذریعے کوئی ایک امیدوار میدان میں اتارا جا سکتا تھا، لیکن جب ایک امیدوار کو نامزد کر کے ساتھ ہی یہ اعلان کر دیا گیا کہ یہی حتمی امیدوار ہے تو پھر اپوزیشن کی دوسری جماعتیں اس پر اشتعال میں تو آ سکتی ہیں، مفاہمت کاطرز عمل اختیار نہیں کر سکتیں اس لئے معزز قارئین آپ بھی مطمئن ہو جائیں کہ اپوزیشن متفقہ امیدوار لانے کے راستے پر نہیں چل رہی، بس ’’بندوبست‘‘ کے تقاضے پوری کر رہی ہیں جو وہی ہیں جو بہت سوں کو نظر آ رہے ہیں اور کچھ ایسے ہیں جو دیکھ کر بھی نہیں دیکھنا چاہتے۔ان حضرات کو معلوم ہونا چاہئے کہ بندوبست کرنے والے ہمیشہ پکا بندوبست کرتے ہیں

خواب و خیال

مزیدخبریں