سیراکی غفلت،زلزلہ متاثرہ علاقوں میں سینکڑوں سرکاری تعلیمی اداروں کی عمارت نامکمل

سیراکی غفلت،زلزلہ متاثرہ علاقوں میں سینکڑوں سرکاری تعلیمی اداروں کی عمارت ...

  

مظفرآباد(سٹی رپورٹر)سیرا کی غفلت،لاپرواہی اور کنٹریکٹرز کو بروقت ادائیگیاں نہ کرنے کے باعث زلزلہ متاثرہ علاقوں میں سینکڑوں سرکاری تعلیمی اداروں کی عمارات مکمل نہ ہو سکیں۔عدم ادائیگی کے باعث مکمل عمارات محکمہ تعلیم کے حوالے ہو سکیں اور نہ ہی زیر تعمیر عمارات کا کام مکمل ہو سکا۔لاکھوں بچے کھلے آسمان یا عارضی شیلٹرز اور خیموں میں تعلیم حاصل کرنے پر مجبور،عوامی حلقوں کا شدید احتجاج،کنٹریکٹرز کو ادائیگیاں کرنے اور عمارات مکمل کرنے کا مطالبہ۔ذرائع کلے مطابق 8اکتوبر 2005کے زلزلہ سے متاثرہ اضلاع میں ایراء سیراء کے زیر اہتمام پرائمری،مڈل اور ہائی سکولوں کی تیار ہونے والی عمارات کی تعمیر نو کا کام شروع کیا گیا تھا کچھ کنٹریکٹر/تعمیراتی کمپنیاں اور فرمیں صرف پلنتھ بنا کر ہی کام چھوڑ کر بھاگ گئی تھیں جبکہ کئی کنٹریکٹرز نے کام جاری رکھا،مگر 13سال گزرنے کے باوجود سینکڑوں جاری منصوبہ جات مکمل نہ ہو سکے،ادارہ کی روایتی سستی،غفلت،ذاتی مفادات اور دیگر وجوہات کی بنا پر کنٹریکٹر کو بروقت ادائیگیاں نہیں کی جاتیں جس کی وجہ سے کنٹریکٹرزنے کام بند کردیئے ہیں یا اس کی رفتار کم کر دی ہیں۔جس کے باعث آج بھی سینکڑوں تعلیمی اداروں کی عمارات نا مکمل ہیں اور جو مکمل ہیں وہ بھی عدم ادائیگی کے باعث محکمہ کے سپرد نہیں کی جا سکی ہیں۔کئی منصوبہ جات پر جاری کام بند کر دیا گیا ہے۔کواٹر 40کی ادائیگی عبدالفطر پر ہونا تھی،اب عید الضحیٰ کے موقع پر بھی نہیں ہو سکی۔ذرائع کے مطابق کواٹر ون کا عرصہ معیاد بھی مکمل ہونے والا ہے۔عوامی حلقوں،طلبہ اور والدین نے وزیراعظم پاکستان عمران خان،وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر خان،چیف سیکرٹری آزاد کشمیر سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سیکرٹری سیراء کی جانب سے عدم ادائیگی کا نوٹس لیں اور ادائیگی یقینی بنانے کے احکامات جاری کریں تاکہ نامکمل منصوبہ جات کو مکمل کیا جا سکے۔

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -