تاجک طیاروں کی افغانستان سے ملحقہ سرحدی گاؤں پر بمباری، چھ اسمگلر ہلاک

تاجک طیاروں کی افغانستان سے ملحقہ سرحدی گاؤں پر بمباری، چھ اسمگلر ہلاک

  

کابل(این این آئی)افغان عہدے داروں نے کہا ہے کہ ہمسایہ ملک تاجکستان کے طیاروں نے ایک جھڑپ کے دوران 2 تاجک سرحدی محافظوں کے ہلاکت کے افغانستان کی سرحد کے اندر بم برسائے اور منشیات کے 6 اسمگلروں کو ہلاک کر دیا۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق افغانستان کے شمالی صوبے تخار کے عہدے داروں نے کہا دونوں ملکوں کی سرحد پر واقع ضلع درقد میں ایک دریا کے قریب ایک چھوٹے جنگل میں طالبان اور منشیات کے اسمگلر بہت متحرک ہیں۔تخار کے گورنر کے ترجمان جواد ہجری نے کہا کہ طالبان اور اسمگلروں کے درمیان جھڑپیں شروع ہو گئیں جن کا دائرہ تاجکستان کے سرحدی محافظوں تک پھیل گیا۔جھڑپوں میں دو تاجک گارڈز کی ہلاکت کے بعد، تاجک فورسز نے طیاروں کے ذریعے بم برسانے کے بعد بھاری توپ خانے سے گولہ باری کی۔مقامی میڈیا کا کہناتھا کہ فضائی حملے یا تو تاجک فورسز نے کیے یا پھر روسی طیاروں نے۔خبررساں ادارے کے مطابق روسی اور تاجک عہدے داروں نے تخار میں بم گرانے سے انکار کر دیا ہے۔طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہدنے کہاکہ جھڑپیں منشیات کے اسمگلروں اور تاجکستان کے سرحدی محافظوں کے درمیان ہوئیں۔انہوں نے بتایا کہ طالبان جنگجوؤں کو ہمسایہ ملکوں کے ساتھ لڑنے کی اجازت نہیں ہے۔افغانستان اور ہمسایہ وسطی ایشیائی ریاستوں کے درمیان جھڑپوں کے واقعات نہ ہونے کے برابر ہیں۔اس سال کے شروع میں طالبان ضلع تخار کے مرکز پر قابض ہو گئے تھے جس کے بعد کئی گھنٹوں تک جاری رہنے والی شدید لڑائی میں افغانستان سیکیورٹی فورسز نے طالبان سے علاقہ خالی کروا لیا تھا۔

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -