حکام کی لاپرواہی ، حفاظتی انتظامات کے بغیر گٹروں کی صفائی ، 35سیورمین دم گھٹنے سے جاں بحق

حکام کی لاپرواہی ، حفاظتی انتظامات کے بغیر گٹروں کی صفائی ، 35سیورمین دم ...

  

ملتان ( سٹاف رپورٹر)واسا کے سیورمین بر وقت طبی امداد نہ ملنے پر موت کے منہ میں جا نے لگے‘ نشتر ہسپتا ل سے بھی غریب بے ہوش سیور مینوں کو با ہر پھنک دیا جا تا ہے‘ واسا کے پا س (بقیہ نمبر28صفحہ12پر )

ڈاکٹر نہ حفا ظتی سا ما ن 1992تا 2017تک 35سیورمین موت کے منہ میں چلے گئے ہیں ‘425ہپا ٹائٹس میں مبتلا ہوکر مو ت کا انتظار کررہے ہیں۔ واسا سمیت ضلعی انتظا میہ بھی سیور مینوں کے علا ج کا بندوبست نہ کر سکی۔ واسا سی بی اے یو نین کے صدر ملک وحید رجوانہ نے کہا ہے کہ 1992میں واسا قا ئم ہوا اور سیور مین شہر کی گندگی صا ف کررہے ہیں جبکہ واسا قائم کرنے کے بعد غریب سیور مینون کو آج تک حفاظتی سا مان ‘ لبا س اور ما سک بھی نہ دیا جبکہ 2017تک مین ہو لوں اور سیوریج لا ئنوں کی صفا ئی کرتے ہوئے 35کے قریب سیور مین جا ن کی با زی ہا رگئے۔ کمشنر‘ ڈپٹی کمشنر‘ ڈائریکٹرجنرل ایم ڈی اے ‘صوبا ئی سیکرٹری سمیت تمام اعلیٰ حکا م کو تحریری طور پر آگا ہ کیا کہ سیور مینوں کو علاج کی سہولت دی جائے اور حفا ظتی سا مان مہیا کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ دوران ڈیوٹی گندگی میں حالت غیر ہونے پر سیور مین کو بے ہوش حا لت میں نشترہسپتا ل لے جا یا جا تا ہے جہا ں پر ڈاکٹراس کا علاج کرنے کی بجائے نفرت کرتے ہوئے اسے با ہر پھینک دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت بھی 667سیور مین میں سے 425سیورمین ہیپاٹائیٹس سی کا شکا ر ہیں اور موت اور زندگی کی کشمکش میں ہیں ۔سرکاری طور پر ان کو علا ج معا لجہ کی سہولت تک فراہم نہیں ہے ۔ واسا کا سیورمین اپنی جا ن پر کھیل کرمین ہول اور سیور لا ئن کی صفا ئی کرتا اور شہریوں کو صا ف ما حول مہیا کرتا ہے انہوں نے وزیر اعلیٰ پنجا ب‘ کمشنر‘ ڈپٹی کمشنر‘ ڈائریکٹرجنرل ایم ڈی اے سے مطالبہ کیا ہے کہ واساسیورمینوں کو حفاظتی سا مان دیا جا ئے سیورمینوں کے لئے ڈسپنسری قائم کی جائے۔ سیور مینوں کا علا ج معالجہ بھی سرکاری سطح پر کیا جا ئے ۔

35سیورمین جاں بحق

مزید :

ملتان صفحہ آخر -