”مجھے بڑے بڑے بیورو کریٹ فون کرکے کہہ رہے ہیں کہ جس کے نام کے ساتھ خان لگا ہو صرف اسی کو ۔۔۔“ رﺅف کلاسرا نے انتہائی خوفناک دعویٰ کردیا

”مجھے بڑے بڑے بیورو کریٹ فون کرکے کہہ رہے ہیں کہ جس کے نام کے ساتھ خان لگا ہو ...
”مجھے بڑے بڑے بیورو کریٹ فون کرکے کہہ رہے ہیں کہ جس کے نام کے ساتھ خان لگا ہو صرف اسی کو ۔۔۔“ رﺅف کلاسرا نے انتہائی خوفناک دعویٰ کردیا

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) سینئر صحافی رﺅف کلاسرا نے دعویٰ کیا ہے کہ عمران خان کی حکومت میں صرف انہی بیوروکریٹس کو بڑی پوسٹنگز دی جارہی ہیں جن کے نام کے ساتھ خان لگا ہوا ہے۔

اپنے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے رﺅف کلاسرا نے دعویٰ کیا کہ انہیں بڑے بڑے بیورو کریٹ فون کرکے کہہ رہے ہیں کہ موجودہ حکومت میں جس کے نام کے ساتھ خان لگا ہو صرف اسی کی اچھی پوسٹنگ کی جارہی ہے ۔ یہ ایک بہت ہی خطرناک بات ہے ۔پچھلے کچھ دنوں کی پوسٹنگ اٹھا کر دیکھ لیں صرف انہی لوگوں کو اعلیٰ عہدوں سے نوازا جارہا ہے جو مائی نیم از خان ہیں، عمران خان نے اعظم خان کو لگایا تو وہ اپنے بیسٹ فرینڈ ڈاکٹر سلمان خان کو لے آئے جو آگے سے جہانزیب خان کو لے آئے ۔

انہوں نے کہا کہ بیورو کریسی کی پوسٹنگ کے حوالے سے مشرف دور میں بھی الزام لگتا تھا کہ اگر آپ اچھی پوسٹنگ چاہتے ہیں تو آپ کا اردو سپیکنگ ہونا ضروری ہے یا کم از کم ہندوستان سے آپ کا کوئی نہ کوئی تعلق ضرور ہونا چاہیے۔ پی پی دور میں گیلانی کی ترجیح یہ تھی کہ ملتان کا بندہ ہو یا جنوبی پنجاب سے ہو یا جو سرائیکی بولتا ہو، اسی بندے کو ترجیح دی جاتی تھی جبکہ زرداری سندھ سے باہر ہی نہیں نکلتے تھے وہ تو کہتے تھے کہ ہر جگہ سندھی مانو ہونا چاہیے۔

رﺅف کلاسرا نے کہا کہ نواز شریف کا معیار بیوروکریسی کے حوالے سے بہت سخت تھا، اعلیٰ عہدے کے لیے ان کے نزدیک وہی لوگ اہل قرار پاتے تھے جو کشمیری ہوتے تھے اس کے بعد وہ لاہوری بیوروکریٹس کو ترجیح دیتے تھے ۔ نواز شریف کا ایک معیار یہ بھی ہوتا تھا کہ بندہ جی حضور کرنے والا ہونا چاہیے اور وہ اگر بندے مارنے کا بھی حکم دیں تو بغیر سوچے مار دے۔

مزید :

علاقائی -اسلام آباد -