سیاسی مداخلت ،سفارش کلچر ،بااثر افراد کی مداخلت نے سندھ میں نظام تعلیم کو تباہ کرکے رکھ دیا ہے ، عمر کوٹ میں 412 سکول بند، 250 کے قریب اساتذہ سکولوں سے غیر حاضر

29 اگست 2018 (12:39)

عمرکوٹ (سید ریحان شبیر)سندھ میں تعلیم کی انتہائی خراب صورتحال سیاسی مداخلت ،سفارش کلچر ،بااثر افراد کی مداخلت نے سندھ میں نظام تعلیم کو تباہ کرکے رکھ دیا ہے سندھ کے صوبائی وزیر تعلیم کے شہر ضلع عمرکوٹ میں "412"سکول بند "250"کے قریب اساتذہ سکولوں سے غیر حاضر ایک لاکھ چھالیس ہزار بچے ضلع میں  تعلیم سے محروم  بائیو میڑک سٹم غیر موثر تفصیلات کےمطابق سندھ صوبے میں تعلیم نظام تباہی کی جانب گامزن ہے سندھ کے تعلیم کے نئے وزیر کےلیے محکمہ تعلیم ایک چلینج بن چکا ہے صرف صوبائی وزیر تعلیم سید سردار شاہ کے ضلع عمرکوٹ میں تعلیم کی انتہائی خراب صورتحال ہے ۔

"ڈیلی پاکستان آن لائن " کو محکمہ تعلیم کے ذرائع سے ملنے والی معلومات مطابق صوبائی وزیر تعلیم سندھ کے ضلع عمرکوٹ اور اس کی تحصیلوں سامارو کنری پتھورو وغیرہ میں اس وقت کل "412"پراہمری سکول بند پڑے ہیں عمرکوٹ ضلع کی کل آبادی گیارہ لاکھ سے زائد نفوس پر مشتمل ہے محکمہ تعلیم عمرکوٹ کے اعدادوشمار مطابق ایک لاکھ چون ہزار "154000"بچے زیر تعلیم ہے جبکہ ایک لاکھ چھالیس ہزار "146000" بچے تعلیم سے محروم ہے ضلع کے کل مجموعی "2247"سکولوں میں سے آٹھ سو "800"سے زائد ایسے پراہمری سکول ہے جہاں بچوں کو صاف پینے کے پانی کی سہولت نہیں ہے "1593"ایسے پراہمری سکول ہے ان سکولوں میں بجلی ہی نہیں ہے جبکہ ضلع کے "1340"ایسے سکول ہے جہاں واش روم وغیرہ کی سہولت ہی نہیں ہے "692"ایسے سکول ہے ان سکولوں کی چاردیواری ہی نہیں ہے اور ضلع عمرکوٹ میں تین سو آٹھ "308"سے زائد سکولوں کی بلڈنگ انتہائی خستہ حال ہے جس کے باعث کسی بھی وقت کوئی حادثہ ہوسکتا ہے اس کےعلاوہ ضلع کے "2247"اسکولوں میں سے کافی سکولوں میں فرنیچر کی بھی شدید کمی ہے عمرکوٹ ضلع کے "2247" اسکولوں میں سے "2090"پراہمری سکول "85"مڈل سکول اور "59"ہائی سکول اور تیرہ "13"ہائیر سکینڈری سکول ہے عمرکوٹ ضلع کی تحصیلوں کنری سامارو پتھورو وغیرہ میں بچیوں طالبات کے "1279"گرلز پراہمری سکول ہے ۔

ستم ظریفی کی حدتو یہ ہےکہ ضلع میں "2247"سکولوں میں صرف عمرکوٹ ضلع ماڈل سکول کی تعداد "150"ہے ان ماڈل سکولوں میں عمرکوٹ میں "74"کنری میں "40"اور پتھورو میں "19"ماڈل سکول ہے جبکہ تعلقہ سامارو میں "17"ہے   یہ وہ ماڈل سرکاری سکول ہے جنہیں ہم بہتر اسکول کہہ سکتے ہیں محکمہ تعلیم ضلع عمرکوٹ میں عرصہ دراز سےمحکمہ تعلیم ضلع عمرکوٹ میں گذشتہ دو تین سالوں سے بیس "20"کے قریب مختلف افسران کی خالی آسامیاں پڑی ہے مگر افسوس کہ بجائے ان خالی آسامیوں پر  بھرتی کرنے کے بجائے اپنے منظور افراد کو اضافی چارج اور بعض جگہوں پر تو محکمہ تعلیم کے ریٹائر افراد کو بھی اضافی چارج دیےگئے ہیں جس کے باعث محکمہ تعلیم ضلع عمرکوٹ میں کئی  معملات التواء میں پڑے ہوئے ہیں صوبے سندھ میں اس وقت "45555"سکول ہے ان سکولوں میں "41132"پراہمری سکول ہے صوبے سندھ میں کل بیالیس "42"لاکھ بچے بچیاں زیر تعلیم ہے "42" لاکھ بچوں میں "25"لاکھ "77"ہزار لڑکے طلبہ اور "16"لاکھ "52"ہزار لڑکیاں طالبات زیرتعلیم ہے جبکہ سندھ میں کل اساتذہ کی تعداد "150787"ہے ان میں  "103422"مرد اور "47365"خواتین ٹیچرز شامل ہے سندھ میں نظام تعلیم کی تباہی  میں سفارش کلچر سیاسی مداخلت اور مبینہ رشوت کلچر نے نے نظام تعلیم کو تباہ کررکھا ہے ۔

ضلع میں پرائیویٹ سکولوں میں تعلیم بزنس تجارت بن چکی ہے ضلع میں مبینہ طور پر بااثر افراد نے سرکاری ملازمین کی سرپرستی میں اپنے پرائیویٹ سکول کھول رکھے ہیں سندھ کے صوبائی وزیر تعلیم جنکا تعلق عمرکوٹ ضلع سے ان کےلیے محکمہ تعلیم ایک چیلنج بن چکا ہے صوبائی وزیر تعلیم سید سردار شاہ کا کہنا ہےکہ انہوں نے تعلیم کا محکمہ ایک چیلنج کےطور پرقبول کیا ہے وہ تعلیم کی بہتری کےلیے سب کچھ کریں گے اور نظام تعلیم میں انقلابی اقدامات کےلیے تمام وسائل بروئے کار لائے جاینگے اور وہ خود سندھ بھر کا دورہ کرینگے ۔

مزیدخبریں