خاور مانیکا کے معاملے میں وزیراعلیٰ کو انکار کرنے والے پولیس افسر آر پی او ساہیوال شارق کمال دراصل کون ہیں ؟ جان کر عمران خان بھی دنگ رہ جائیں گے

خاور مانیکا کے معاملے میں وزیراعلیٰ کو انکار کرنے والے پولیس افسر آر پی او ...
خاور مانیکا کے معاملے میں وزیراعلیٰ کو انکار کرنے والے پولیس افسر آر پی او ساہیوال شارق کمال دراصل کون ہیں ؟ جان کر عمران خان بھی دنگ رہ جائیں گے

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن )خاور مانیکا اور رضوان گوندل کے درمیان تنازع شدت اختیار کر گیا تو وزیراعلیٰ بزدار نے رضوان گوندل اور ساہیوال کے آر پی او شارق کمال صدیقی کو اپنے دفتر بلایا جہاں بیٹھے ایک شخص نے چیف منسٹر کے سامنے رضوان گوندل سے خاور مانیکا کے ڈیرے پر جاکر معافی مانگنے کیلئے کہا لیکن انہوں نے انکار کر دیا تاہم اس موقع پر موجود آر پی او شارق کمال صدیقی کے بارے میں روف کلاسرا نے ایسی تفصیلات بیان کر دیں کہ جان کر عمران خان بھی دنگ رہ جائیں گے ۔

نجی ٹی وی چینل 92 نیوز کے پروگرام میں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی اور کالم نگار روف کلاسرا نے انکشاف کیا کہ سابق ڈی پی او رضوان گوندل کے ساتھ چیف منسٹر آفس جانے والے دوسرے افسر آر پی او ساہیوال شارق کمال صدیقی تھے ۔ انہوں نے کہا کہ بہاولنگر میں عالم داد لالیکا نے نوازشریف سے شکایت کی کہ یہاں پر ایک سرپھرا افسرآیا ہے جس کا نا م شارق کمال ہے ،اس نے گستاخی کی ہے میرے ڈیرے پر چھاپہ مار کر میرے کچھ ملازمین کو گرفتار کرنے کی ، تو نوازشریف ناراض ہو گئے اور انہوں نے آرڈر جاری کیا کہ شار ق کمال صدیقی کو صوبہ بدر کر دیاجائے اور وہ پنجاب میں نوکری نہیں کر سکتے ، اس وقت کے آئی جی مشتاق سکھیرا نے اس وقت کے آر پی او احسان صادق کو ٹیلیفون کیا اور کہا کہ اپنے ڈی پی او شارق کمال صدیقی سے کہو کہ تمہارے پاس تین گھنٹے ہیں کہ تم عالم داد لالیکا کے ڈیرے پر جا کر معافی مانگو ، احسان صادق نے شارق کمال کو سمجھانے کی کوشش کی لیکن شارق نے جواب دیا کہ آپ نے جو تین گھنٹوں کے بعد کرنا ہے وہ ابھی کرلیں لیکن میں کھانا کھانے یا معافی مانگنے کیلئے نہیں جاﺅں گا ، میری پولیس کتنی مایوس ہوگی ۔ روف کلاسرا کا کہناتھا کہ نوازشریف ،شہبازشریف اور مشتاق سکھیرا نے مل کر انہیں صوبہ بدر کروایا اور جب شارق وہاں سے جانے لگے تولوگوں نے انہیں پھولوں کے ہار پہنائے کیونکہ جب آپ عوام کیلئے کھڑے ہوتے ہیں وہ آپ کو عزت دیتے ہیں ۔

روف کلاسرا کا کہناتھا کہ جب شارق کمال صدیقی کو عہدے سے ہٹایا گیا تو ہم نے ہی اس معاملے کو اٹھایا اور سامنے لائے اور اس وقت تحریک انصاف بھی کہہ رہی تھی کہ یہ بہت غلط ہواہے ۔

مزید :

قومی -