اہرام مصر سے فرار۔۔۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 25

29 اگست 2018 (15:57)

اے حمید

میں وہیں آکر جھاڑی کے پاس بیٹھ گیا اور روکاش کے موتیوں کے ہار کی طرف تکنے لگا۔ یہ اس کے گلے کا ہار تھا اور اسے پادشاہ سومرو کی دستہ خاص کے سپاہی گرفتار کر کے لے گئے تھے اور جاتے ہوئے اس نے میرے لیے یہ ہار وہاں گرا دیا تھا۔ میری آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو گرنے لگے۔ اس وقت میں رقاصہ روکاش کی محبت میں اس قدر دیوانہ ہو رہا تھا کہ مجھے اپنی دنیا اندھیر ہوتی نظر آئی۔ میرا خون کھول اٹھا۔ مجھے معلوم تھا کہ اس دنیا کی کوئی بڑی سے بڑی طاقت بھی مجھے موت سے ہمکنار نہیں کر سکتی۔ میں نے فیصلہ کر لیا کہ میں موہنجودڑو جاؤں گا اور بادشاہ سمیت سارے شاہی خاندان اور ساری فون تباہ و برباد کر دوں گا اور اپنی محبوبہ کو نکال کر لے آؤں گا۔ میں نے گھوڑوں کے سموں کو غور سے دیکھا۔ ان کھروں کے نشانوں سے صاف ظاہر ہو رہا تھا کہ گھوڑوں کو وہاں سے گذرے دو تین دن ہوگئے ہیں۔ یہ تازہ نشان نہیں تھے۔ جس کا صاف صاف مطلب یہ تھا کہ بادشاہ سومر روکاش کا سر قلم کر وا چکا ہوگا۔

اہرام مصر سے فرار۔۔۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 24پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

میرے ذہن میں اندھیرا سا چھانے لگا۔ میں اٹھا اور دیوانہ وار موہنجودڑو جانے والے کچے راستے پر دوڑنے لگا۔ خدا جانے کب اور کس وقت مین صحرا میں بڑی شاہراہ پر پہنچا اور ایک قافلے میں شامل ہو کر ٹوٹے ہوئے دل اور خون روتی آنکھوں اور جذبہ انتقام سے کھولتے ہوئے ذہن کے ساتھ موہنجودڑو شہر کی کارواں سرائے میں پہنچا۔ وہیں کارواں سرائے ہی میں مجھے لوگوں کی زبانی معلوم ہوگیا کہ ایک روز پہلے عظیم بعل کے مندر کی رقاصہ روماش کی گردن قلم کر دی گئی تھی اور اس کا سر شہر کے سب سے بڑے چورا ہے میں ابھی تک لٹک رہا ہے۔

الکندہ کی آنکھوں میں گرم سلائیاں پھروا کر اسے ہاتھی کے پاؤں تلے کچل دیا تھا۔ میں ٹوٹے ہوئے خون رنگ کو لئے ایک طرف مٹی کے چبوترے پر بیٹھ گیا۔ شدت غم سے میری آنکھوں کے آنسو بھی خشک ہوگئے تھے۔نازک اندام روکاش کا حسین چہرہ رہ رہ کر میری آنکھوں کے سامنے آرہا تھا۔ یہ سوچ کر کہ اب میں اس سے کبھی نہیں مل سکوں گا میرا دل خون کے آنسو رو رہا تھا۔ یہ سوچ کر کہ اب کر کارواں سرائے کی کوٹھری میں آگیا۔ میں سپیرے کے حلیے میں تھا۔ مجھے ابھی تک کسی نے نہیں پہچانا تھا۔ میں بستر پر لیٹ گیا اور رات کا اندھیرا ہوجانے کا انتظار کر نے لگا۔ میری روکاش اب واپس نہیں آسکتی تھی لیکن میں بادشاہ سے اس کے قتل کا بدلہ لینا چاہتا تھا۔ میں اس کا بھی سرکاٹ کر شہر کے چوراہے میں لٹکانا چاہتا تھا۔

دن غروب ہوگیا۔ شام کا اندھیرا ہوتے ہی مشعلیں روشن ہوگئیں۔ اس کے ساتھ ہی میں اٹھا اور کوٹھری سے نکل کر شاہی محل کی طرف روانہ ہوگیا۔ میرا دل انتقام کی آگ سے بھڑک رہا تھا۔ میں بادشاہ کی گردن قلم کرنے جا رہا تھا اور میں جانتا تھا کہ میرے اس ارادے میں کوئی مزاحمت حائل نہیں ہوسکتی۔ سڑکوں پر رات کا اوّلین اندھیرا پھیلنے لگا تھا اور مکانوں کی چھتوں اور چوباروں میں مشعلیں اور شمعیں روشن ہوگئی تھیں۔ میں اپنے اندر اس چوک کی طرف جانے کا حوصلہ نہیں پا رہا تھا جہاں میری محبت ، میری روکاش کا سرلٹک رہا تھا۔ میں اسی چوک میں اب بادشاہ سومر کا سرلٹکا ہوا دیکھنا چاہتا تھا۔ میں ابھی شاہی محل سے دور تھا اور قلعے کے بڑے دروازے کے جنوب کی جانب والے ٹیلے کے قریب تھا کہ شہر کے دروازے کی جانب شورو غوفا بلند ہوا اور کچھ گھڑ سوار تیزی سے میرے قریب سے قلعے کی جانب روانہ ہوگئے۔ میں نے گھوم کر دیکھا کہ دروازے کی طرف آگ کے شعلے بلند ہونے لگے ساتھ ہی ایسی آوازیں آنے لگیں جیسے فصیل شہر پر منجنیقوں کے بھاری پتھر پھینکے جار ہے ہوں۔ کیا کسی دشمن کی فوج نے دارالحکومت پر حملہ کردیا ہے؟ میرے ذہن میں یہ خیال بجلی کی طرح لہرا گیا۔ میں نے قلعے کی جانب دیکھا ۔ قلعے کا بڑا دروازہ بیلوں کی مدد سے بند کیا جا رہا تھا اور برجوں کی مشعلیں بجھائی جا رہی تھیں۔ پھر قلعے کی جانب مسلح سپاہیوں کے دستے شہر کے دروازے کی طرف سرپٹ گھوڑے دوڑاتے جانے لگے۔ شہر میں افراتفری مچ گئی ۔ لوگ گھروں کی طرف بھاگنے لگے چوباروں اور چھتوں کے فانوس او رمشعلیں گل کر دی جانے لگی۔ عورتوں کی چیخوں اور بچوں کے رونے کی آوازیں آنے لگیں۔

آپ نے قدی عہد کی جنگوں اور شہروں میں دشمن کی فوج کے حملوں کے واقعات تاریخ کے صفحات پر پڑھے ہیں جو خاموش بے جان لفظوں میں ان ہلاکت واقعات کی داستان سناتے ہیں۔ آپ نے قدیم تاریخی دور میں حملہ آور فوجوں کو کسی شہر پر دھاوا بولتے اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا۔ میں نے دیکھا ہے۔ محبت اور جنگ میں سب کچھ جائز ہے۔ اس مقولے پر ہمارے جدید ایٹمی دور کی جنگوں میں بھی عمل ہوتا ہے۔ امریکیوں نے ویت نام میں ، جاپانیوں نے جنوب مشرقی ایشیا میں اور جرمنوں نے آسٹریا اور چپکو سلواکیہ میں کیا کیا ظلم نہیں ڈھائے۔ میں نے آپ کے جدید عہد میں آنے کے بعد ان جنگوں کی پوری تاریخ پڑھی ہے لیکن آج سے سینکڑوں سال پہلے عہد قدیم کی جنگوں میں کس قدر گھناؤنے ظلم غریب عوام پر توڑے جاتے تھے؟ اس کا آپ تصوّر بھی نہیں کر سکتے۔ جن غریب لوگوں کا جنگ کے ساتھ کسی قسم کا کوئی تعلق ہی نہیں ہوتا تھا۔ ان کے سرکاٹ کر کھوپڑیوں کے مینار بنائے جاتے تھے۔ خاندانوں کے خاندان شیر خوار بچوں سمیت کولہو میں پلوا دیئے جاتے تھے۔ کھڑے کھڑے کھال اتروا کر اس میں بھس بھر دی جاتی تھی۔ آج کے ماڈرن زمانے میں جنگ بندیاں ہیں۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کو نسل ہے، دوست ممالک ہیں جو ایک ہی دھمکی سے جنگ رکوا سکتے ہیں۔ اگرچہ ان کا عمل پورے اور مکمل طور پر موثر نہیں ہے پھر بھی غنیمت ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم مار کر لاکھوں انسانوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا تھا لیکن اس بات کو چالیس سال سے بھی زائد کا عرصہ گذر چکا ہے اور اس ہمہ گیر قتل عام کو پھر نہیں دہرایا گیا۔ مگر ہینی بال ، چنگیز خان اور اشوری جرنیل کیٹو کے حکم سے ہر روز لاکھوں انسانوں کا قتل عام کیاجا تا رہا ہے۔ آپ شاید یہ کہیں کہ اس زمانے میں آبادیاں ہی کہاں تھیں اور اتنے لوگ کہاں ہوا کرتے تھے مگر میں کہوں گا کہ آپ نے ان شہروں کو اپنی آنکھوں سے نہیں دکھایا پھر وہ تاریخ نہیں پڑھی جو مستند کہی جا سکتی ہے۔ میں صرف آج سے چار ہزار سال پہلے کے شہر بابل کا ذکر کروں گا جس پر اشوری شہنشاہ جموربی کی حکومت تھی۔ کیا آپ یقین کریں گے کہ یہ شہر آپ کے حساب سے ساٹھ ستر مربع میل میں پھیلا ہوا تھا اور شہر میں سڑکوں کا جال بچھا تھا۔ کوئی مکان ایسا نہیں تھا جس کی کم از کم چار پانچ منزلیں نہ ہوں۔ اس زمانے میں اس شہر کی آبادی ساٹھ لاکھ سے تجاوز کر گئی تھی اور جب ایرانی آریاؤں نے اس شہر پر حملہ کیا تو اس کی ساری آبادی تہ تیغ کرنے کے بعد شہر میں آگ لگا دی۔ دس روز تک بابل جلتا رہا۔ جب یہ تہذیب و تمدن کا گہوارہ شہر راکھ کا ڈھیر بن گیا تو اس میں دجلہ کا پانی چھوڑ دیا گیا۔ شہر کی بچی کھچی باقیات بھی بہا دی گئیں۔ پھر اس جگہ ہل چلا دیئے گئے۔

اس رات بھی جب کہ میں اپنی محبوبہ کا انتقام لینے شاہی محل کی طرف جا رہا تھا تو آریاؤں نے آج کے آذر بائیجان کے علاقوں میں آباد ہوجانے والی شاخ کے خونخوار قبائل نے موہنجودڑو پر حملہ کر دیا تھا۔ آپ یہ ہر گز تصور میں نہ لائیں کہ جب آریاؤں نے موہنجودڑو پر حملہ کیا تو وہ کوئی جنگلی قوم تھی۔ نہیں ایسا نہیں تھا۔ آریاؤں کے ترک وطن کا عہد چار پانچ سو سالوں میں پھیلا ہوا ہے اور بابل کی اشوری سلطنت پر قبضہ کرنے اور اسے تہس نہس کرنے سے پہلے ایک مدت تک ان کا ہمسایہ متمدن قوموں سے ربط و ضبط رہا۔ یہی وجہ ہے کہ جب وہ ہندوستان میں آئے تو محض ڈاکو اور لٹیرے نہیں تھے بلکہ تہذیب و تمدن کے لوازمات سے آراستہ تھے۔ ان کی زبان سنسکرت جو اووستا کی زبان سے ملتی جلتی تھی بہت ترقی یافتہ تھی وہ بارش کے دیوتا اندر اور آگ کی دیوی اگنی کی تعریف میں منتر پڑھتے تھے۔ قدیم ویدان ہی منتروں پر مشتمل ہیں۔ خود موہنجودڑو میں آباد قوم کا تعلق قدیم آریاؤں کے ایک قبیلے سے تھا مگر یہ قبیلہ سینکڑوں برس پہلے دریائے سندھ کے کناروں پر آ کر بس گیا تھا اور انہوں نے اپنی محنت اور ذہانت سے اس خطہ اراضی کو انتہائی ترقی یافتہ بنا دیا تھا۔ ہر طرف سر سبز کھیتیاں لہراتی تھیں۔ پختہ اینٹوں سے بنی سڑکیں اور گلیاں تھیں۔

(جاری ہے۔۔۔ اگلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں)

مزیدخبریں